- الإعلانات -

تیسرا راستہ

سعودی عرب اور ایران کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور ماسوائے چین کے دنیا بھر کے ممالک اس وقت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا طرفین میں سے کسی ایک کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ دونوں اسلامی ملکوں کے کشیدہ تعلقات نے پاکستان کو بھی ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دل اور دماغ کی جنگ شروع ہو جاتی ہے، دل ایک راہ پر چلنے کی ضد کرتا ہے تو دماغ دوسری راہ اختیار کرنے کو کہتا ہے۔ میں یہ بات پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ اس وقت پاکستان کا دل سعودی عرب کے ساتھ جانے کو ہے مگر دماغ کہتا ہے کہ ایران ہمارا اہم ترین ہمسایہ ہے اور اس کے ساتھ ہمارا طویل ترین بارڈر لگتا ہے اس لیے ذرا احتیاط سے کام لیا جائے۔ حکومت اب شش و پنج میں ہے کہ دل کی مانے یا دماغ کی۔ مگرہمیشہ ہر مسئلے کے حل کا ایک تیسرا راستہ موجود ہوتا ہے جو اس مسئلے میں اپنی جگہ موجود ہے۔ کیوں نہ دل اور دماغ دونوں کی نہ مانی جائے اور اس تیسرے راستے پر چلا جائے اورچین کی طرح آگے بڑھ کر سعودی عرب اور ایران کی مصالحت کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ اب تک شاید یہ تیسرا راستہ ہمارے حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل ہے، یا پھر قصداً آغاز سفر زیر التوا کیے ہوئے ہیں۔ حکمرانوں کے لیے ایک بہترین مشور ہ عرض کیے دیتے ہیں کہ اس نیک کام کا جلد از جلد آغاز کر دیں اور اکیلے اس سفر پر مت نکلیں، کسی اور ملک کی ہمراہی اختیار کریں اور اس راستے پر ترکی سے بہتر ہم سفر کوئی اورسرِ دست دستیاب نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مشیرخارجہ کو ترکی کے دورے پر بھیجیں جو ترک حکام سے اس مسئلے پر مشاورت کرے اور پھر ان کے وزیرخارجہ کو ساتھ لے کر ان دونوں ملکوں کا دورہ کیا جائے اور آگ پر پانی ڈالنے کی جدوجہد کی جائے۔ اگر یہ آگ بھڑک اٹھی تو ایسی خطرناک ہو گی کہ پاکستان چاہتے ہوئے بھی اس کے شعلوں سے اپنا دامن بچا نہیں پائے گا۔ آگ بھڑک اٹھنے کی صورت میں پاکستان کسی بھی طور خود کو غیرجانبدار نہیں رکھ پائے گا۔ اس صورت میں وہ طرفین میں جس طرف بھی جھکے گا،دوسری طرف سے نقصان ہی اٹھائے گا۔ اگر مشیر خارجہ کی بجائے یہ کام وزیراعظم خود بھی سرانجام دیں تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں، بلکہ اگر وہ خود ترک صدر یا وزیراعظم کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور ایران کا دورہ کرتے ہیں تو آگ کا بجھنے کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے۔
سعودی عرب اور ایران کے تنازعے پر سردست پاکستان کو جس مسئلے کا سامنا ہے وہ عوام کی سطح پر شیعہ سنی تفریق کے نمایاں ہونے کا ہے، جس کے آثار واضح نظر آ رہے ہیں۔ جس شخص کو اس بات کا یقین نہ آئے وہ ایک نظر سوشل میڈیا کو دیکھ لے۔ کوئی سعودی عرب کو ظالم قرار دے رہا ہے تو کوئی ایران کو کچل دینے کی بات کر رہا ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران کی مڈبھیڑ ہو جاتی ہے اور پاکستان کسی طرح ان کی جنگ سے خودکو غیرجانبدار رکھنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے توپاکستان کے اندر سے جو طوفان اٹھے گا وہ بڑی تباہی کا سامان بن سکتا ہے اور پھر اس کے اثرات زائل ہونے میں سالوں یا شاید صدیوں کا عرصہ درکار ہو گا کیونکہ ہم پہلے ہی بہت حد تک اس شیعہ سنی تفریق کے ڈسے ہوئے ہیں۔پاکستان کو اپنی بہتری کے لیے ہی سہی، کسی بھی طرح دونوں ملکوں میں مصالحت کروانی چاہیے اور اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں تک بات سعودی عرب اور ایران کی ہے تو ان دونوں کے تعلقات اغیار کے ساتھ تو بڑے قریبی اور دوستانہ ہے، سعودی عرب امریکہ کا یار ہے تو ایران روس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پھرتا ہے۔ کیا عجیب ہے کہ ہم خود کو مسلمان کہلاتے ہیں اورایک دوسرے سے بڑھ کر اسلام داعی بننے کی کوشش کرتے ہیں مگر اغیار کے ساتھ تو ہمارے دوستانے ہو سکتے ہیں ، مسلمانوں ہی کو ہم منہ نہیں لگاتے، جنگ و جدل کرتے ہیں تو آپس میں، نفرت بانٹتے ہیں تو آپس میں، ہماری محبتیں ساری کی ساری یہودونصاریٰ کے لیے ہیں۔ کتنی ہی جنگیں مسلمان ملک ایک دوسرے کے خلاف لڑ چکے ہیں اور لاکھوں مسلمانوں ہی کا خون بہا چکے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کو خود بھی شیعہ سنی کی تفریق کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگرچہ شیخ نمر کی سزائے موت سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے مگر انسانی حقوق بھی کسی بلا کا نام ہے، اندرونی معاملے کے نام پر کوئی بھی ملک اپنے عوام کے کسی مخصوص طبقے پر عرصہ¿ حیات تنگ نہیں کر سکتا، ایسے میں بیرونی دنیا کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ اگر سعودی عرب اس اقدام میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہے تو اسے وضاحت کرنی چاہیے نہ کہ جنگ و جدل پر اتر آئے۔ دوسری طرف ایران پر بھی طرح طرح کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں سے کچھ ثابت بھی ہوچکے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے موجود وزیرخارجہ جب امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر تعینات تھے، ان پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ایران پر لگا تھا اور الزام ثابت ہونے پر امریکی عدالت نے ایک شخص کو 25سال قید کی سزا بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ یمن، عراق اور شام میں ایران کی مداخلت بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ایران محض وہاں شیعہ اقلیت کو طاقت میں لانے کے لیے یہ سب کچھ کرتا رہتا ہے۔ غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو دونوں ہی کی کچھ غلطیاں ہیں اور دونوں ہی کو کچھ غلط فہمیاں۔ دونوں اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں اور غلط فہمیاں دور کر لیں تو بات بن سکتی ہے، اگر وہ نہیں کر سکتے تو کوئی تیسرا ہی انہیں مذاکرات کی میز پر لابٹھانے کا بیڑہ اٹھا لے۔ کوئی تیسرا کیوں، پاکستان کیوں نہیں؟