- الإعلانات -

بلوچستان کے مسائل سمجھنے ہیں۔ تو وہاں جائیے ضرور

یہ خبر نہیںبلکہ حقیقت ہے کوئی تصور نہیں یا مفروضہ نہیں ہے زندہ جاوید اور عین نظر آنے والی دکھائی دینے والی نہایت ہی مثبت اور کسی حد تک حیران کن بات بھی ہے ہاں! یہ بالکل صحیح ہے کہ پاکستان میں کوئی تو ایسا شہر ہے کوئی تو ایسا قصبہ ہے کوئی تو ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی دہشت گردی ہے نہ وہاں پر جرائم نام کی کوئی چیز پائی جاتی ہے اگر وہاں کچھ ہے تو وہ ہے امن اور امن بھی قرار واقعی امن ‘گو یہ شہر کوئی بہت بڑا شہر نہیں یہ بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل ’اورماڑہ ‘ جو کراچی سے 240 کلو میڑ دور گوادر کی طرف واقع ہے پاکستان کے اِس پُرامن ساحلی تحصیل ’اورماڑ‘ کی شہرت کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پاکستان بحریہ کا ایک اڈہ ’جناح نیول بیس کے نام سے ہے جہاں ہمارے بہادر اور جراّت مند ملاح نیوی کے جوان و افسر بحیرہ ¾ ِ عرب کے پاکستانی حدود کی نگرانی پر عقاب کی مانند اپنی نگاہیں چوکس رکھے، پاکستان کی پاسداری کا فرض ادا کررہے ہیں چنددنوں قبل ملک کے نامور صحافیوں اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ گروپ نے پاکستانی بحریہ کے زیر اہتمام گوادر پورٹ پر ایک ترقیاتی پروجیکٹس پر ایک بریفنگ کی تقریب میں شرکت کی جس میں کراچی سے ہمارے نہایت ہی مہربان‘ شفیق اور قابل ِ احترام صحافی آغا مسعود بھی شامل تھے جنہوں نے7 جنوری کو اپنے ایک کالم میں اِس مطالعاتی دورے کی پہلی قسط لکھی جسے پڑھنے کے بعد ہمیں بھی احساس ہوا کہ لکھا تو بہت کچھ جاتا ہے لیکن قابل ِ غور بات یہ ہے کہ بلوچستان کے بارے میں وہاں اب تک افواج ِ پاکستان اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کے باہمی اشتراک و تعاون سے جو شاندار اور قابل ِ صد ستائش ترقیاتی کام کے علاوہ عوامی فلاح وبہبود کے اہم کام ہورہے ہیں، اُن کے بارے میں ویسا پورا حق ادا نہیں کیا جارہا جیسا کہ کیا جانا چاہیئے ابتداءمیں جیسا اُوپر بیان ہوا کہ پاکستان میں کوئی ایک تو ایسی جگہ یا ایسا مقام ضرور موجود ہے جہاں کے عوام سکھ چین کی زندگی بسر کررہے ہیں جب بھی بلوچستان کی بات آتی ہے کراچی یا پھر یہاں اسلام آباد یا لاہور میں لوگوں کی پیشانیوں پر شکنیں ابھر آتی ہیں بلوچستان کے مسائل اُتنے ہی زیادہ گھمبیر اور گنجلک ہوسکتے ہیں جتنے کراچی ‘ لاہور ‘ خیبر پختونخواہ یا اسلام آباد کے ہوسکتے ہیں مگر ‘ اِس کا علاج ہمارے پاس کیا کسی کے پاس نہیںافسوس وہ یہ کہ بلوچستان کے داخلی امور کے بارے میں ہماری پاکستانی ’اشرافیہ ‘ کیوں کر مغربی یا بھارتی نیوز ایجنسیوں کی ہمیشہ محتاج نظر آتی ہے بلوچستان کو سمجھنا ہے یا یہ جاننا ہے کہ کہیں تبدیلی آئی یا نہیں آئی مگر بلوچستان میں ضرور تبدیلی آچکی ہے بلوچی عوام کا شعور بیداری کے سفر پر رواں ہے کوئی لاکھ بلوچی عوام کو دوبارہ بے شعوری کی زندگی کی طرف دھکیل نہیں سکتا ہمیں یہ بات آغا مسعود صاحب نے ٹیلی فون پر بتائی اُنہوں نے کہ بلوچستان کے جزیرہ نما شہر اورماڑہ کے باشندوں نے اپنے علاقے کو پاکستان اور بلوچستان کا پُرامن علاقہ قرار دیدیا واقعی حقیقت سے عین قریب یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر کوئی بھی باشعور اور صاحب ِ نظر قلمکار یکا یک ششدر رہ جاتا ہے اُنہیں جب اورماڑہ میں تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ایک شخصیت جمیل بلوچ نے جب یہ بتایا کہ اورماڑہ میں پاک بحریہ جو مقامی لوگوں کا معیار ِ زندگی بلند کرنے اور اُن کی زندگیوں کی کایا پلٹنے کے لئے سہولتیں فراہم کررہی ہے وہ ہمارے لئے ناقابل ِ یقین ہے یہ ہی نہیں اورماڑہ کے عوام نے زندگی میں کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایسے پسماندہ علاقہ کے لوگوں کے بچوں کو کیڈٹ کالجوں میں اور ماڈل اسکولوں میں پڑھانے کا کوئی وقت بھی آسکتا ہے اُن کے لئے اب یہ وقت حقیقت کا آئینہ بن کر رونما ہوچکا ہے اورماڑہ ‘ پسنی ‘ گوادر ‘ سوئی ایسے ہی زریں بلوچستان کے دیگر علاقوں کے خالص بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب پاکستانی فوج تینوں سروسنز کا حصہ بن رہی ہے اِس کے علاوہ گوادر میں بّری فوج کے تعاون سے چند برس پیشتر ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو ا ب تک کئی گروپوں کی فنی تعلیم مکمل کرکے اُنہیں ملک بھر کے دیگر علاقوں کی چھاونیوں میں باقاعدہ آرمی کی ملازمت کا حصہ بنا دیا گیا اور فنی تعلیم وتربیت کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے اگر کوئیOptimistic سوچ نہیں رکھتا تو اُس کی مرضی ‘ مگر یقین کیجئے ہمارا دل کہتا ہے کہ بلوچی عوام کی اکثریت جنہوں نے اپنے آباو اجداد کی پشت ہا پشت سرداروں کی ذلت آمیز غلامی کی نذر کردی وہ اب انسانوں کی طرح سے زندگی کی نعمتوں سے بہرور ہونے کے لئے کھڑے ہوچکے ہیں آپ نے سنا نہیں غور نہیں کیا کہ اورماڑہ ‘ سوئی کے عوام ‘ پسنی اور گوادر سمیت جیوانی کے عوام کبھی یہ سوچ سکتے تھے کہ اُن کے پیروں میں اُن کے ماں باپوں کے پیروں میں اُن کی بہنوں کے پیروں میں کبھی جوتا ہو گا اُن کے بزرگوں کا علاج بھی کبھی سی ایم ایچ ہسپتالوں میں ہوسکتا ہے اُن کی بہنوں اور بیٹبوں کے ہاتھوں میں کبھی قلم اور کتابیں آسکتی ہیں بلوچستان یہ سب کچھ قرین ِ قیاس نہیں رہا بلوچیوں کی زندگیوں میں یہ سماجی انقلاب رونما ہوچکا ہے حال ہی میں یہ خبر پاکستانی عوام نے سنی ہوگی کہ بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں 21 علیحد گی پسندوں نے’ ایف سی کیمپ بیلہ‘ میں اپنی آمد کے موقع پر اُنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اُٹھا کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اِس موقع پر ایف سی کے ایک کمانڈر کرنل بہادر شریف نے اِن علیحدگی پسند وں کو اِن کی ماضی کی غلط اور گمراہ سرگرمیوں سے اپنی برا¾ت کا اظہار کرنے اور اپنے آپ کو قومی دھارے میں شامل ہونے پر اُن کی شاندار الفاظ میں خوب ہمت افزائی کی‘ اِنہیں شاباش دی اور انعامات سے بھی نوازا علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہتھیار پھینک کر سیاسی دھارے میں شمولیت کا اِن کا یہ احسن اقدام بہت خوش آئند ہے اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِسی طرح سے اب بلوچستان میں امن قائم ہونے کی رفتار میں اور زیادہ تیزی آئے گی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سابق کمانڈر سدرن اور موجودہ قومی سلامتی کے مشیر جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کے دور میں سینکڑوں مفروروں نے اپنے ہتھیار پھینکے بلوچستان کے اسکولوں میں قومی ترانہ پڑھایا جانے لگااور صوبے بھر میں قومی پرچم لہرائے گئے تب جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا تھا کہ اِن لوگوں نے کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے سامنے ہتھیار پھینکے ہیں اور ہم اِن کو کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کہہ کر گلے لگاتے ہیں ،اب نئے وزیر اعلیٰ سردار ثناءاللہ زہری کے منتخب ہونے کے ساتھ ہی بلوچستان کے امن میں یہ ایک اور بڑی پیش رفت ہے یقینا سردار ثنا ءاللہ زہری کے لئے بلوچستان کی وزرات ِ اعلیٰ کا منصب ایک چیلنج ہوگا وہ” سردار آف جھلاون “ہونے کے ناطے جرگے کا اجلاس بلاکر بیرون ِ ملک بیٹھے ہوئے بلوچیوں کو واپس بلاکر اُنہیں بھی قومی دھارے کی صوبائی اور وفاقی سیاست کرنے پر راضی کرنے کی اہلیت وصلاحیت بخوبی رکھتے ہیں ۔