- الإعلانات -

کراچی آپریشن پر خاموشی کیوں؟

گزشتہ ماہ دسمبر میں رینجرز کے اختیارات پر سندھ حکومت کی طرف سے قدغن لگانے پر بڑا شور اُٹھا تھا لیکن اب خاموشی چھا گئی ہے۔وفاقی حکومت نے بھی چپ سادھ لی ہے تو میڈیا کے ٹاک شوز سے بھی یہ معاملہ نکل چکا ہے۔رینجرز کو مکمل اختیار دینے کا معاملہ کراچی کے امن و امان کے لئے نہایت ضروری تھامگر سندھ حکومت نے نہایت چالاکی سے اسے سیاسی بنا کر مسلم لیگ نون کی حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ وفاقی حکومت کو رینجرز کے سندھ میں اختیارات میں دو ماہ کی توسیع کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی ایک سمری بھی بھجوائی تھی، جس میں رینجرز کے اختیارات میں کمی کی سفارش کی گئی تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں سندھ حکومت کی سمری کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس پر وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ وفاق کا بنایا ہوا قانون ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس قانون میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں حکومتیں آئین اور قانون پر عمل کریں تو اس مسئلے کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کا اب بھی کہنا ہے کہ رینجرز کا سندھ میں قیام قانون کے مطابق ہے اور ان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دیا گیا اختیار بھی قانونی ہے۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ صرف ایک شخص کا ہے اور وہ ہے ڈاکٹر عاصم حسین۔ جب سے وہ گرفتار ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی کو رینجرز کے اختیارات ماورائے آئین و قانون نظر آنے لگے ہیں کیونکہ اس سے پہلے یہی رینجرز ایم کیو ایم کے خلاف انہی اختیارات کے تحت کارروائی کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کو نہ تو آئین ےاد آیا اور نہ کوئی اعتراض نہیں تھا۔ سندھ صوبائی اسمبلی کی جانب سے رینجرز کے اختیارا ت میں کمی کی قرارداد کی منظوری ایک ایسا اقدام تھا، جسے صرف سیاسی شعبدہ بازی ہی کہا جا سکتا ہے۔رینجرز آپریشن سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک اطمینان بخش ہے۔ اغواءبرائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کافی حد تک کم ہو چکی ہے۔قبل ازیں ماضی میں کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے1992ءاور1994ءمیں دو آپریشن ہوئے لیکن اُن آپریشن سے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوئے۔سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کے اختیارات پر قدغن لگانے کے بعد جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کراچی میں دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔ جس سے پھر انتہا پسندوں‘ ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ عناصر کو کھل کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنیکا موقع ملے گا۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ کافی عرصہ بعد کراچی میں یوم آزادی اورعید کے تہوار کس قدر سکون سے گزرے سیکیورٹی انتظامات اور پر امن ماحول کی وجہ سے عوام بڑی تعداد میں باہر آئی اور یوم آزادی اور عیدیں جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔ صرف یوم آزادی پرکراچی کے تاجروں نے پانچ ارب کا منافع کمایا، جس نے پچھلے 40 سال کا ریکارڈ توڑ دیا۔ پانچ ستمبر 2013 ءکو وفاقی حکومت کی زیرِ نگرانی اور سندھ حکومت کی منظوری سے کراچی میں رینجرز کے ٹارگیٹڈ آپریشن کے آغاز سے رینجرز نے تقریباً 5795 آپریشن کیے ہیں، جن میں 10353 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان ملزمان میں اسٹریٹ کرمنلز سے لے کر دہشت گرد تک شامل ہیں۔کراچی میں رینجرز کی تعیناتی دستورِ پاکستان کی شق 147، اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ءکی دفعہ 1 کی ذیلی شق 3 اور 4 کے مطابق ہے، جس کے تحت رینجرز کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ءکے تحت شہر میں دہشت گردی کی کارروائیوں یا جرائم کی روک تھام کریں۔ اس میں شبہ نہیں کہ1989 ءمیں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کو قابو کرنے میں پولیس کی مدد کرنے کے لیے رینجرز کو بلایا تھا، 2009 ءمیں ایک بار پھر پی پی کی وفاقی و صوبائی حکومت نے مزید اختیارات دیے تھے، جس کے تحت رینجرز بغیر وارنٹس کے گھروں کی تلاشی اور ملزمان کو گرفتار کر سکتے ہیںلیکن ڈاکٹرعاصم کی گرفتاری پر اب کی بار ان کا رد عمل سوالیہ نشان ہے۔ڈاکٹر عاصم کرپشن کی علامت بن چکے ہیں،اس پہ سونے پہ سہاگہ یہ موصوف چونکہ زرداری کے دست راست ہیں لہٰذا سندھ حکومت کے لئے ان گرفتاری وہ مکھی بن چکی ہے جو نہ اگلی جاسکے نہ نگلی جا سکے۔ کرپشن ہمارے معاشرے کے لئے ناسور ہے اس نے بالخصوص اقتدار کے ایوانوں میں پرورش پائی ہے کیا سابقہ کیا موجودہ حکومت ہو، کرپشن کا بھوت ہر دور میںناچتا ہوا نظر آتا ہے۔ کرپشن کلچر کے باعث ہی عوام تک جمہوریت کے ثمرات نہیں پہنچ پاتے۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم اوردعویٰ تو کیا جاتا ہے اور اس کیلئے بے لاگ آپریشن اور احتساب کی بات بھی کی جاتی ہے مگر جب احتساب کے عمل کے دوران اپنے زد میں آتے ہیں تو احتساب اور اپریشن کا یہی عمل انہیں انتقامی کارروائی نظر آنے لگتا ہے، منتخب ایوانوں کے اندر اور باہر چیخ و پکار کرکے احتساب کا عمل رکوانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ یہی کچھ ڈاکٹر عاصم کیس میں ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے رینجرز آپریشن کے حوالے سے منفی پراپیگنڈا شروع کیا گیا اور عدم تعاون کی فضا بنائی گئی۔ تین ماہ قبل بھی پیپلزپارٹی کی قیاد ت اور سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع پر بادل نخواستہ آمادہ ہوئی تھی جبکہ اب کی بار بھی سندھ حکومت رینجرز کے مکمل اختیارات میں توسیع سے عملاً انکاری نظر آئی اور اس کیلئے سندھ اسمبلی سے توثیق کا جواز گھڑا گیا ۔جبکہ سندھ حکومت کے اس اقدام سے درحقیقت کراچی کے گزشتہ اڑھائی سال سے جاری ٹارگٹڈ اپریشن میں رکاوٹیں پیدا کرنا امن دشمنی کا ثبوت ہے حد تو یہ ہے کہ وفاقی حکومت کا طرزعمل بھی اپریشن کیلئے سنجیدگی کا پیغام دینا نظر نہیں آرہا۔ موجودہ آپریشن آخری موقعہ ہے خدانخواستہ یہ ناکامی سے دوچار ہوا تو کراچی کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے،کرپشن‘ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مقدمات کو قانونی طریقہ سے انصاف کی عدالتوں کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچنے دینا چاہیے‘ چہ جائیکہ اس پر انتقامی کارروائیوں کا واویلا کرکے کرپشن فری جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا جائے۔ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایکا کرنیوالے سیاسی قائدین کو یہ حقیقت بہرصورت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ عوام کے سامنے ان کے اصل چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں۔