- الإعلانات -

داعش موساد کا بغل بچہ

اگلے روز داعش کے حوالے سے ایک نہایت ہی قابل مذمت ، انسانیت سوز اور درندگی کی انتہاﺅں کو چھوتی ہوئی خبر نظر سے گزری تو دل دہل گیا کہ یہ وحشی نام نہاد اسلام کے نام لیوا داعشی، انسان تو کیا درندہ کہلوانے کے بھی حقدار نہیں۔ خبر یہ ہے کہ ایک وحشی داعشی نوجوان نے اپنی ماں کو اس لئے قتل کردیا کہ اس کی ماں نے اسے داعش سے دور رہنے کی نصیحت کی تھی ۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق داعشی دہشت گرد کو اس کی ماں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اتحاد ”آئی ایس آئی ایس “کو ختم کردے گا، اس لئے وہ داعش کو چھوڑ دے ۔ ماں نے اسے یہ بھی کہا کہ ہم شام چھوڑ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ماں کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی بجائے بدبخت نے اپنی ماں کے خیالات کے بارے میں اپنے مقامی رہنما کو آگاہ کردیا مگر اس سفاک رہنما نے نوجوان کو اپنی ماں کے قتل کا حکم دے دیا ،جس پر 21 سالہ بدبخت نوجوان نے ماں کی عزت اور ممتا کی پروا کیے بغیر سر عام سفاکیت اور درندگی کا ثبوت دے دیا ۔ ایسے نظریات کی حامل جماعت داعش دراصل مکروہ اور مذموم شیاطینی چہرے کا اصل عکس ہے۔ داعش حقیقتاًنہ اسلامی گروہ ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی اسلامی ملک ہے۔ یہ بنیادی طورپر وحشیوں کا گروہ ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے یا نہیں اڑھوایا گیا ہے۔ القاعدہ کے بعد اسرائیل اور امریکہ کو ایک نئے ہتھیار کی ضرورت تھی جسے اسلام کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔اس لئے اسے تخلیق کیا گیا،اس گروہ میں زیادہ تر ایف بی آئی کے ایجنٹس اور بلیک واٹر کے کارندے شامل ہیں جو نو مسلم بن کر فساد برپا کررہے ہیں۔ القاعدہ جیسے فسادی گروہ کے انجام کے بعد یہ نیا سفاک گروہ 2014ءمیں شام اور عراق میں منظر عام پر آیا ۔ ابتداءمیں یہ شام میں نمودارہواجہاں اس نے اپنے آقاﺅں امریکہ اور اسرائیل کی ایما پر درندگی کا آغاز کیا لیکن شامی حکومت کا تختہ نہ الٹا جاسکا ۔ وہاں سے اسے عراق کی جانب دھکیلا گیا جہاں جون 2014ءمیںسینکڑوں عراقی شہریوںکے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اس نے خود ساختہ خلافت کا اعلان کردیا۔یہ تکفیری اور خوارج کا گروہ القاعدہ کے ہی وہ بھگوڑے ہیں جو اسامہ بن لادن کے ہلاک ہونے کے بعد نئے نام سے سامنے لائے گئے ہیں۔ ان کے خالقوں کا طریقہ واردات وہی پرانا تھا یعنی ان کرائے کے قاتلوں کو بھاری اسلحہ و بارود اور وسائل کے ساتھ ایک اسلامی نام سے متعارف کرایا گیا جبکہ ان کے ذمے عرب خطے میںجغرافیائی تبدیلیاں لانے کا کام سونپا گیا ہے۔یہ تکفیری دہشت گرد گروہ اس مقصد کے حصول کیلئے فرقہ وارانہ تعصب اور مذہبی جنگ کی آگ بھڑکانے کا ہتھکنڈہ استعمال کررہا ہے جبکہ غیر انسانی اقدامات کی تشہیر سوشل میڈیا پرتواتر سے کرتا ہے تاکہ دنیا بھر سے گمراہ ذہن نوجوان ان کے چنگل میں پھنستے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آنے لگی ہیںکہ گمراہ ذہن کے درجنوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس میں شمولیت کےلئے شام جارہے ہیںجبکہ قبل ازیں طالبان اور ٹی ٹی پی کے بھگوڑوں کے بارے میں اطلاعات تھیںکہ انہوںنے داعش کو جوائن کرناشروع کردیا ہے۔اِن دنوں قانون نافذ کرنے والے ادارے داعش سے وابستہ انتہا پسندوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ داعش کا باقاعدہ کوئی نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں صرف ذاتی حیثیت سے بعض کالعدم تنظیموں کے کارکن اس چنگل میں پھنس رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ کہنا درست ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی باقاعدہ نیٹ ورک منظم نہیںہوا اور نہ ہی اسکی ابھی امید ہے کیونکہ داعش کو ابھی تک کسی عرب ملک کی حمایت حاصل ہے نہ ہی انکے نظریات کو کسی عرب نے پذیرائی دی ہے۔القاعدہ اورطالبان کے حوالے سے عرب ممالک کی رائے مختلف تھی اورو ہاں کے نان سٹیٹ ایکٹر ز القاعدہ اور طالبان کو باقاعدہ مالی مدد فراہم کرتے تھے جسکے گہرے منفی اثرات پاکستان پر پڑے ۔اب بیشتر عرب مفتیان داعش کے خلاف فتوے بھی دے رہے ہیں جبکہ القاعدہ اور طالبان کے حوالے سے ایسا نہیں کیاجاتا تھا ۔ عرب ممالک کی القاعدہ اور طالبان سے مسلکی ہم آہنگی ان کیلئے ایک بڑا سہارا تھی لیکن داعش کے معاملے چونکہ ایسا نہیں ہے۔اسی طرح ابھی پاکستان میں ٹی ٹی پی کی طرح ان کا حمایتی اور ہمدرد طبقہ بھی وجود میں نہیں آیا ہے جو انکے لئے جنت کے ٹکٹ بانٹتا پھر رہا ہو لہٰذا اسکے پاکستان میں جڑ پکڑنے کے امکانات ا بھی نہیں ہےں۔دوسری طرف قانون نافذ کرنےوالے ادارے بھی ہمہ وقت چوکس ہیں انہیں جہاں سے بھی کوئی اطلاع ملتی ہے وہ ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔صد شکر کہ پاکستانی عوام اس حوالے سے کسی مغالطے کا شکار نہیں رہے۔وہ جانتے ہیں کہ داعش موساد کا بغل بچہ ہے۔