- الإعلانات -

مودی انتظامیہ کی چالاکیاں

خبر ہے کہ 15 جنوری کو پاکستانی اور بھارتی خارجہ سیکرٹری کی سطح پر ہونے والی ملاقات منسوخ کردی گئی ہے اس خبر کو ہندوستان کے تمام کے صف اول اخبارات نے رپورٹ کیا ہے لہذا اس بات کا بہت کم امکان رہ گیا ہے کہ یہ خبر غلط ہو کم از کم ہمیں اس ملاقات کی منسوخی پر کوئی حیرت یا استعجاب نہیں ہوا پچھلے کئی کالموں میں ہم نے مقتدر ہندو لیڈروں کی نفسیاتی ساخت کے بارے میں کچھ حقائق عرض کئے تھے اور عرض کیا تھا کہ ہندوستانی مقتدر حلقےکس طرح سوچتے ہیں اور ان کے اہداف کیا ہیں مودی جی جو کچھ کرتے رہے ہیں اور آج تک کرتے چلے آرہے ہیں وہ نپی تلی اور ایک باقائدہ اسکرپٹ کے عین مطابق چلی جانے والی چالیں ہیں جو اپنے مخصوص ایجنڈے کے تناظر میں ہی چلیں گی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آئے گی یا کوئی چمتکار ہوگا تو انتہائی معذرت کے ساتھ کہ ایسا سوچنے والے کسی اور ہی دنیا کے باسی ہیں حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں ہم نے عرض کیا تھا کہ ہندوستان کے مقتدر ہندو طبقے کا ایک اپنا ہی مائنڈ سیٹ ہے یہ اصل میں تصور کی دنیا میں کھویا ہوا خبط عظمت کے مرض میں مبتلا طبقہ ہے جس کا اپنا ایجنڈا ہے جس سے وہ سرمو انحراف پر تیار نہیں آپ سے میٹھی میٹھی باتیں بھی ہونگی جپھیاں بھی ڈلیں گی بھنگڑے بھی ڈلیں گے لیکن ہوگا وہی جو ان کے اسکرپٹ کے مطابق ہو گا یعنی ڈھاک کے وہی تین پات آپ کو آپ کی کہنی پر گڑ چپکا کر آپ کو کھلانے کی کوشش ہوگی آپ مسلمان ہیں آپ کی نیک نیتی اور بھولپن کا بھر پور فائدہ اٹھایا جائے گا جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے ماضی قریب میں نوازشریف کچھ سہولیات دے کر نتیجہ دیکھ چکے ہیں کچھ سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوئے اور حکومت پاکستان کو اقدامات واپس لینے پڑے ایک اور مثال کنٹرول لائین پر لگنے والی باڑھ کا معاملہ ہے جس کو انڈیا مسلسل 60 سالوں کی کوششوں کے باوجود تعمیر نہیں کر سکا تھا کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے متنازعہ سرحدوں پر کوئی پختہ تعمیر خلاف قانون ہوتی ہے لیکن ہوا کیا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا مشرف کی کچھ جبلی بشری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ان کی اجازت سے سینکڑوں کلومیٹر لمبی باڑھ 3 ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کرلی گئی اور ایسی تعمیر کہ اس میں آہنی باڑھ رات کو دیکھنے والے کیمرے کسی بھی زندہ چیز کی حرکت محسوس کرنے آلات نصب کئے گئے جو شاید مسلمہ بین الاقوامی بارڈر پر بھی نہیں لگائی گئی اس باڑھ میں بجلی دوڑا دی گئی جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی یوں کشمیر کی تقسیم کو عملی شکل دے دی گئی اور سینکڑوں خاندانوں کے درمیان جدائی کو مستقل کر دیا گیا کیا اس اجازت اور صدر مشرف کی جانب سے کئے جانے والے اس کرم خاص کے بدلے میں پاکستان کو کچھ ملا سوائے آگرہ مذاکرات کی ناکامی کے ؟ جی یہی ہے چانکیائی مائنڈ سیٹ اب اگر بین الاقوامی دباﺅ کی وجہ سے مذاکرات ہوئے بھی تو فوٹو سیشن سے بات آگے نہیں برھ پائے گی اور آئندہ ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوگا جو قیام پاکستان کے زمانے سے ہوتی آرہی ہیں مودی جی نے غیر اعلانیہ لاھور آمد سے اپنی دانست میں ایک سمارٹ چال چلی ہے اوراس طرح انہوں نے ایک پتھر سے کئی چڑیاں شکار کرنے کی کوشش کی ہے ایک تو ان پر پڑنے والے بین الاقوامی پریشر میں کمی واقع ہوئی اور انہوں نے دنیا کو امن کا پیغام بھیجا اور مغرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ان کی مطلب براری ہو گئی ساتھ ہی مذاکرات سے بھاگ نکلنے کے لئے بھونڈے انداز سے پٹھان کوٹ بیس پر حملے کا ڈرامہ رچالیا اور اسکرپٹ کے مطابق الزام پاکستان پر دھر دیا اور یہ شرط بھی عائد کردی کہ پاکستان اپنی بے گناہی ثابت کرے اب ہوگا کیا ؟آئیے ہم عرض کئے دیتے ہیں آپ کے علم میں ہوگا کہ انڈین حکومتوں کے اقلیتوں کے غیر منصفانہ سلوک کی وجہ سے پورے ہندوستان میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں انڈین پنجاب میں آزاد خالصتان کی تحریک نئے سرے سے سر اٹھا رہی ہے جسکے روح رواں 1984 دربار صاحب گولڈن ٹیمپل پر بہیمانہ حملے دربار صاحب کی مکمل تباہی اور اس میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کے لواحقین ہیں جن کو دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں کی مکمل سیاسی اور مالی مدد حاصل ہے اور انہوں نے سال 2020ءتک آزادی کا ہدف حاصل کرنے کا عزم کر رکھا ہے لیکن مخصوص ہندو ایجنڈے کے مطابق اب پٹھان کوٹ جو پنجاب اور کشمیر کی سرحد پر واقع ہے حملے کے سلسلے میں وہاں سے تحقیق اور تفتیش کے بہانے سکھ اور کشمیری نوجوانوں کو اٹھایا جائے گا جہاں عقوبت خانوں میں ان پر تشدد اور ان کی ہلاکتیں بھی ہو نگی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اس طرح ان تحریکوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جن کا سیاسی حل بہت آسانی سے نکل سکتا ہے کاش ہندوستانی قیادت خبط عظمت کا خناس دماغ سے نکال کر زمینی حقائق کا ادراک کرے اور اپنی اقلیتوں کو منصفانہ حقوق دے اور پڑوسیوں سے پر امن بقائے باہمی کی بنیاد معاملات طے کرے اس طرح نہ صرف ان کا ملک ترقی کرے گا بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کے خواب کی تعبیر سچ ثابت ہوگی اور خوش حالی کا دور دورہ ہوگا دنیا کو ایٹمی جنگ کے خوف سے نجات ملے گی اے کاش تیرے دل میں اتر جائے مری بات