- الإعلانات -

راہداری منصوبے کی تکمیل بہت ضروری

صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔دونوں کو ہر روز بلکہ اب تو ہر لمحے ایک نئے موضوع ایک نئی ہیڈ لائن یا نئے ٹکر کی ضرورت رہتی ہے۔اور اس میں کافی حد تک مقابلے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہونا بھی چاہیئے کسی نے کچھ تو بیچنا ہوتا ہے۔صحافی نے اپنی خبر کو بیچنا ہوتا ہے۔اور سیاستدان نے اپنے نئے بیان کو بیچنا اور کیش کرنا ہوتا ہے۔میڈیا کی بھی بہتات ہے۔پرنٹ میڈیا بھی ان گنت اخبار شائع کر رہا ہے۔اور الیکٹرانک میڈیا بھی ہر سیکنڈ میں نئے ٹکر اور نئی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے۔مقابلے کے اس چکر میں بعض اوقات بڑی غیر ذمہ دارانہ بیان بھی شائع ہو جاتے ہیں۔یا خبر شائع ہو جاتی ہیں۔ہم بیان جاری کرنے یا خبر دینے میں جتنی بھی پھرتی دکھائیں قابلِ قبول ہے۔لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔پاکستان ترقی کرے گا تو ہماری آنے والی نسلیں خوشحال ہو نگی۔ہم نے شاید اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ دنیا اور خاص طور پر پاکستان کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے۔اس کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی ہیں یا نہیں۔اور اس کے لئے وسائل پیدا کرنے کے لئے کون کون سے حربے استعمال کرنے پڑیں گے۔بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ رویے اپنے مخالفین کو زچ کرنے یا ذہنی اذیت پہنچانے کے لئے ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جس سے ملکی ترقی برسوں، دہائیوںبلکہ صدیوں پیچھے چلی جاتی ہے۔ان میں سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا مسئلہ بھی ہے۔اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف وہ لوگ بھی بیان بازی کرتے رہے۔جو اس خطے کے جغرافیے سے کوئی واقفیت ہی نہیں رکھتے۔ ان کو ڈیم کی اصل لوکیشن کا ہی پتہ نہیں ہے۔لیکن وہ اپنے بیان کو تین چار کالم سرخی کے ساتھ شائع کرانے کے لئے متنازعہ بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔اس ڈیم کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا ہر سال کتنا نقصان ہو رہا ہے ۔ کتنی زمینیں ، فصلیں ، مکان اور جانور سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کتنے ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں ۔ جو زمینیں سیراب ہو کر سونا اگل سکتی ہیں وہ بنجر اور ویران پڑی ہیں۔لیکن کچھ لوگ ذاتی انا کا مسئلہ کھڑا کر کے اس منصوبے کے خلاف بیان دئیے جا رہے ہیں۔انہوں نے روزِ اول سے اس منصوبے کی مخالفت میں بیانات جاری کئے اب اس کے حق میں بیان دینے کو اپنی ہتک سمجھ رہے ہیں۔اسی طرح جب پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات چیت شروع ہوئی ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی بیان جھاڑ دیا جاتا ہے۔لیکن اس منصوبے کا آغازکرنے سے پہلے تما م سیاسی پارٹیوں اور تمام صوبوں کی حکومتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔اس سلسلے میں ایک سے زیادہ میٹینگز بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی ہوئیں جس دن فائنل بریفنگ لینے کے بعد تمام پارٹیاں مطمئن ہوئیں۔اس کے بعد ہر جگہ پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔پہلے یہ باتیں مشہور کی گئیں کہ گوادر سے اقتصادی راہداری کا روٹ براستہ لاہور ہوگا۔لیکن جب صوبائی حکومتیں اور سیاسی قوتیں اعتماد میں لی گئیں تو ایک فیصلہ ہو گیا ۔ بلکہ ایک سادہ سا خاکہ اور روٹ کے راستے میں آنے والے علاقہ کا نقشہ بھی شائع کیا گیا۔اس کے بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف متعدد بار اس بات کا واشگاف الفاظ میں اظہار کر چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مقرر کردہ روٹ کو بالکل تبدیل نہیں کیا جائے گا۔اور یہ روٹ صرف بننے والی سڑکوں کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے۔ ہوٹلز، پٹرول پمپس کے علاوہ بہت سارے تجارتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔یہ اقتصادی راہداری صرف گوادر سے کاشغر تک نہیں بلکہ سارے سنٹرل ایشیاءتک استعمال ہوگی۔پاکستان میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو ہو گا۔بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہاں ترقی کا انقلاب آئے گا۔ ابھی شاید یہ لوگ اس بات کا اندازہ نہ کر سکیں کہ یہاں کتنی بڑی ترقی ہوگی۔پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔وزیراعظم پاکستان نے اس راہداری کو پہلے ہی دو رویے سے تبدیل کر کے چار رویہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔بلکہ موٹروے جھنگ باہتر سے لے کر ڈیرہ اسمٰعیل خان تک مولانا فضل الرحمن کا آبائی شہر ہے۔لیکن اس کے باوجود اقتصادی راہداری پر مولانا صاحب کے مخالفانہ بیان سمجھ سے بالاتر ہیں۔یہاں میں ایک ذاتی قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں مجھے واپڈا میں روزگار کے سلسلے میں چند سال گزارنے کا موقع ملا۔میری پہلی پوسٹنگ سرگودہا میں تھی۔میں سرکاری جیپ لے کر فیلڈ کے ایک گاو¿ں میں گیاتو اس گاو¿ں کے بڑے کو ملنے کی ضرورت پیش آئی۔وہ بہت اخلاق سے پیش آئے ۔ میری بہت آو¿ بھگت کی۔اٹھتے ہوئے بظاہر التجا لیکن تحکمانہ لہجے میں درخواست کی کہ یہاں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔لیکن آپ نے ایک مہربانی کرنی ہے کہ ہمارے علاقے کے کسی بھی فرد کو اپنے محکمے میں دیہاڑی دار (ڈیلی ویجز) کے طور پر بھی کام پر نہیں لگانا۔یہ میرے لئے عجیب درخواست تھی۔میرا خیال تھا کہ یہ مجھے اپنے دوچار بندے کام پر لگانے کے لئے کہیں گے ۔ لیکن وہ تو الٹا منع کر رہے تھے۔میں نے عاجزانہ انداز میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو وہ چوہدری صاحب بولے کہ پھر ان لوگوں کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں اور ہمارے ذاتی کام نہیں کرتے۔ان کی اس وضاحت کے بعد مجھے اندازہ ہو اکہ یہ لوگ اپنے علاقے میں اچھے تعلیمی ادارے اور اچھے ہسپتال کیوں نہیں بننے دیتے۔ان کی خواہش ہوتی ہے کہ گاو¿ں کا ہر شخص ہر وقت ہر کام کے لئے ان کا محتاج رہے۔اسی قسم کی سوچ آج بھی بہت سارے علاقوں میں موجود ہے۔خاص طور پر غیر ترقی یافتہ علاقوں میں ایسی ذہنیت ہر جگہ موجود ہے۔بلوچستان تو آج تک اسی ذہنیت کا شکار رہنے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبا رہا۔اب جب ان لوگوں کو جگمگاتا ہوا بلوچستان اور جنوبی خبر پختونخواہ نظر آتا ہے تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں ۔ ان کو نظر آ رہا ہے کہ یہاں کا نوجوان ان کے تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔اس اقتصادی راہداری کے ساتھ ارد گرد بین الاقوامی تعلیمی ادارے (کالجز ،یونیورسٹیاں ) اور ہسپتال تعمیر ہونگے۔بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ نوجوان جو سارا دن روٹی خرچے پر ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں وہ ہنر سیکھ کر ہزاورں روپے ماہوار کے مزدور بن جائیں گے۔یہ منفی ذہنیت انہیں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔مجھے ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر براجمان شخص وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک کی بیان بازی پر بڑی حیرانگی ہوئی کہ ہمارے حقوق نہ دئیے گئے تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔بھائی حقوق تو آپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں جہاں سے اقتصادی راہداری کا روٹ ہوگا۔اس کے اردگرد ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔کیااس علاقے کی گاڑی اس روٹ پر سفر نہیں کر سکیں گی؟یا وہاں کے لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔جیسا کہ کالم کے آغاز میں میں نے ذکر کیا کہ کچھ لوگ صرف بیان بازی کے لئے بیان جاری کر دیتے ہیں اور خواہ مخواہ ایک شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اقتصادی راہداری کا روٹ باقاعدہ اور باضابطہ طے ہو گیا تھا۔اس کی تفصیل بھی جاری کر دی گئی تھی۔پھر وزیراعظم پاکستان متعدد بار اس کی یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں کہ جو روٹ طے ہوا ہے اس پر تمام ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ یہ راہداری تعمیر کی جائے گی۔لیکن کچھ لوگ صرف سستی شہرت کے لئے کچھ نہ کچھ معاملہ کھڑا کئے رکھتے ہیں۔یہ روٹ پہلے دن سے کسی قسم کا متنازعہ نہیں تھااور نہ اب ہے۔لیکن اس کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔اور پھر سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے جن کو بالکل ہی اندھیرے میں رکھ کر غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کی جارہی ہے۔یہ وقت ہے کہ ملک کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لئے ہر ادارہ ، ہر سیاسی قوت اور ذی شعور انسان اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا اپنا حصہ ڈالے اور جو لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے بلاوجہ شور کرتے ہیں ۔ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔