- الإعلانات -

راہداری منصوبے میں ابہام ختم کئے جائیں

چین نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے پر فریقین کو اختلافات دوستانہ طریقے سے ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنانا اہمیت کا حامل ہے۔
اقتصادی راہداری منصوبے پر پاکستان اور چین کے مابین مثالی تعاون موجود ہے اور اسے دونوں ملکوںکے عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ پاکستانی عوام کیلئے ترقی اور فوائد کا ضامن ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام متعلقہ فریق بہتر رابطوں اور تعاون کے ذریعے موجودہ اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہونگے تاکہ اس کیلئے بہتر ماحول بنایا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے چین پاکستان کے ساتھ راہداری منصوبہ پر فعال طریقے سے کام کرنے اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور اسکے ٹھوس فوائد دونوں ممالک کے عوام تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہے۔
اقتصادی راہداری کا منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے سے طے ہوا ہے اور اس منصوبے کو دونوں ملکوں کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر پاکستان میں ہوگا اور اس سے پاکستانی عوام ترقی حاصل کریں گے ہمیں امید ہے کہ متعلقہ فریقین اس حوالے سے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کر کے اچھا ماحول پیدا کرنے میںکامیاب ہو جائیں گے۔
چین کے اس منصوبے کی تکمیل گوادر پورٹ سے مربوط ہونے سے مشروط ہے اس لئے چین راہداری کو اپنے اخراجات سے گوادر تک تعمیر کرنے پر تیار ہوا۔ پاکستان کے اکثر و بیشتر علاقے پسماندہ ہیں۔ چین کی طرح راہداری کو پاکستان کے نسبتاً پسماندہ علاقوں میں ترجیح کی ضرورت ہے، جس کا مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً اعادہ بھی کرتی رہی ہے مگر پنجاب کے سوا تینوں صوبوں کے تحفظات ہنوز موجود ہیں۔ گزشتہ سال 28 مئی کو وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس میں تمام پارٹیوں کے تحفظات سنے۔ جس پر تمام پارٹیوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر منصوبے کی منظوری دیدی۔ 28 مئی کی اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق راہداری منصوبے کے تحت روڈ، ریل نیٹ ورکس، ائرپورٹس، سی پورٹس تعمیر کی جائیں گی۔ راہدادی کے ساتھ اقتصادی زونز اور پاور ہاﺅسز ملک بھر میں تعمیر کئے جائیں گے۔
یہ اے پی سی کامیاب رہی۔ اس میں شرکت کرنیوالی پارٹیاں مطمئن ہو کر اٹھیں مگر چند ماہ بعد ایک بار پھر تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ پرویز خٹک تو وفاق پر برہم نظر آئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وعدے کے مطابق کوریڈور نہ بنا تو وہ خیبر پی کے سے راہداری نہیں گزرنے دیں گے۔ بلوچستان سے بھی اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر منصوبہ بندی اینڈ اور چیئرمین پلاننگ کمشن احسن اقبال نے پشاور اور کوئٹہ جا کر ان لوگوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔
7 جنوری کو پشاور میں مولانا فضل الرحمن کی طلب کردہ اے پی سی میں مسلم لیگ ن کی بھی نمائندگی تھی۔ اس میں راہداری پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ یہ صوبے کی نمائندہ جماعتوں کی کانفرنس تھی جس کی صدارت مولانا فضل الرحمان نے کی جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک، سپیکر اسد قیصر، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاﺅ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، اے این پی کے میاں افتخار، پی پی پی کے فیصل کریم کنڈی اور مسلم لیگ ن کے اقبال ظفر جھگڑا سمیت دیگر رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا اقتصادی راہداری منصوبے میں صنعتوں کے لئے گیس پائپ لائن، بجلی ٹرانسمیشن لائن، فائبر آپٹیکل کیبل، ریلوے لائن اور ایل این جی مہیا کرنے کا موجودہ نقشوں میں کوئی ذکر نہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے یہ محض ایک سڑک ہے اور اس کی حیثیت کوریڈور کی نہیں۔
راہداری کے تحت بلوچستان میں توانائی کے 7.1 بلین ڈالر کے توانائی کے پنجاب میں 6.9 اور سندھ میں 11.5 ارب ڈالر کے منصوبے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے شکوہ کیا کہ اقتصادی راہداری کے تحت ہمارے صوبے میں منصوبے کیوں نہیں لگائے جارہے ۔خواہش تھی کہ پہلی اینٹ خیبر پی کے اور بلوچستان میں رکھی جاتی ۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاءنے حکومت سے گوادر کی بندرگاہ کے منصوبے کا مکمل اختیار فوری طور پر بلوچستان کو دینے اور اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ پہلے مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بلوچستان میں ملازمتوں میں بلوچوں کو ترجیح دی جائے۔
اے پی سی میں کچھ مزید مطالبے بھی کئے گئے جن میں گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔ اقتصادی راہداری کے لئے سکیورٹی فورسز میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے حقوق اور عزت نفس محفوظ رہے۔ وزیراعظم کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ گوادر اور بلوچستان کے عوام کو اس منصوبے کے ثمرات سے فیضیاب ہونے کا موقع فراہم کریں۔گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو گوادر سے شناختی کارڈز، لوکل، پاسپورٹ جاری کرنے پر مکمل پابندی ہو اور انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج نہ ہوسکے۔ گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف انفرسٹرکچر، ہسپتال، سکول، ٹیکینکل کالجز اور پورٹ سے متعلق ہنر مند افراد کے لیے ٹیکنیکل سینٹرز اور میرین یونیورسٹیز کی جائیں اور ان میں گوادرکے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے۔
کتنی شرمندگی کی بات ہے کہ اس منصوبے کا سرمایہ کار ملک چین پاکستان میں منصوبے کے فریقین کو راہداری پر اختلافات دوستانہ طریقے سے طے کرنے پر زور دے رہا ہے۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے ماحول کا خوشگوار ہونا ضروری ہے۔ اگر مرکز اور صوبے میں دست و گریباں ہونے کی سی کیفیت ہوگی تو منصوبے کی خوش اسلوبی سے تکمیل مشکل ہے۔ اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہم ہے۔ اس پر پائے جانے والے ابہام دور کئے جائیں، اقتصادی راہداری سے متعلق 28مئی 2015ءکے اعلا میے پر عمل کیا جائے۔