- الإعلانات -

بروٹل میجارٹی اور بابری مسجد

اتوار3جنوری کو مغربی بھارت میں ڈیڑھ لاکھ سے زائدانتہا پسند ہندوو¿ں نے خاکی جانگیے، سفید کرتے اور سیاہ ٹوپیاں پہن کر ایک ریلی میں شرکت کی۔ اس ریلی کا مقصد اپنی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا۔انتہا پسند جماعت راشٹریا سوایم سیوک سنگھ کی یہ اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔اس جماعت کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی حلیف بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مردوںکے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، جب کہ بعد میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے ایک قلعے کی شکل کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر اس مجمع سے خطاب کیا۔اس موقع پر آر ایس ایس کے دو ہزار رضاکاروں کا ایک بینڈ بھی ہندو مذہب کی علامتی زعفرانی رنگ کے ایک بہت بڑے جھنڈے کے ہمراہ اس ریلی میں موجود تھا۔بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں اس ریلی کے لیے ساڑھے چار سو ایکٹر کا علاقہ استعمال میں لایا گیا۔آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے اور اپنا بنیادی مقصد ہندو ثقافت کا تحفظ قرار دیتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارت میں مسلم مخالف اور اقلیتوں پرتشدد کرنے والی تنظیموں کی مدد کرتی ہے اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ 2014ءمیں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل کبھی اس تنظیم کا اثرورسوخ اس حد تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد آر ایس ایس کے کارکنان کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آر ایس ایس کا قیام1925ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اس کے کارکنوں کی تعداد پانچ ملین بتائی جاتی ہے۔ آر ایس ایس ہی نہیں بھارت میں درجنوں ایسی جماعتیں ہیں جو ہندو تواپر گامزن ہیںاور ہندوستان کو خالص ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔یہ انہی انتہا پسند وں کا کیا دھرا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ ہو چکی ہے،اپنی مذہبی عبادات کی ادائیگی جان جوکھوں کاکام بن چکا ہے۔ بابری مسجد 1992 میں ایسے انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہی شہید کر دی گئی تھی۔اس جگہ اب رام مندر کی تعمیر کے لئے تیاریاں عروج پر ہیں۔پتھر اور دیگر تعمیراتی سامان وہاں پہنچانا شروع کردیا گیا ہے۔پتھر لائے جانے کے واقعے پر انتظامیہ خاموش ہے۔1992 ءمیںبابری مسجد کوشہید کرنے کے 31 دن بعد اُس وقت کی بھارتی حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کی قیادت میں یک رکنی کمیشن قائم کیا تھا، جس نے 17 سال بعد جون 2009ءمیں اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کردی تھی۔رپورٹ میں مسجد کے انہدام کو ایک بہت ہی منظم سازش قرار دینے کے علاوہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو مبینہ طور پر نمائشی اعتدال پسند کہا گیا تھا۔رپورٹ میں بی جے پی اور اس کی سرپرست جماعت آر ایس ایس کی قیادت کو مسجد کے انہدام کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔ اسی طرح ایڈوانی کے علاوہ مرلی منوہرجوشی، اوما بھارتی، واجپائی اشوک سنگھل، پروین توگڑیا اور دیگر رہنماو¿ں کو شریکِ جرم قرار دیا گیا ۔ مسجد کی شہادت دنیا بھرکے مسلمانوں کےلئے اشتعال انگیز اقدام تھا ،اس وقت کی حکومت اس پر ٹس سے مس نہ ہوئی اور یہی عالم آج مودی حکومت کا بھی ہے جس میں مساجد کو گرانے کی کھلے عام دھمکی دی جاتی ہے۔گزشتہ برس مارچ میں حکمراں جماعت کے رہنما سبرا منیم سوامی کی جانب سے اسی طرح کا ایک اشتعال انگیز بیان سامنے آیا تھا، جس میں اس نے کہا تھاکہ مساجد عبادت گاہیں نہیں عام عمارتیں ہیں جسے کسی بھی وقت مسمارکیا جاسکتا ہے۔ سبرامنیم سوامی نے مسلمانوںسے نفرت کی آگ میںیہ بیان ایک ہی دن دومختلف مقامات پردیا۔ ہندوﺅں کے مکروہ فریب کے بارے میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے درست کہا تھا کہ یہ ایک بروٹل میجارٹی ہے ۔ دور اندیش قائد اچھی طرح جان گیا تھا کہ مسلمانوں کا ان کے ساتھ رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اگر گزشتہ 68برس کے بھارتی حکمرانوں کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سچ ثابت ہوئی ہے۔ اگر صرف مودی حکومت کے دو سال کا ہی جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوجاتا ہے کہ دو قومی نظریہ وقت کی ضرورت تھی۔ بھارت میں بروٹل میجارٹی، روز اقلیتوں کے جان کو آئی ہوتی ہے۔جبری مذہب کی تبدیلی بھی معمول کی بات ہے۔ابھی گزشتہ روز ہی جھارکنڈ میں ہونے والی ایک ایسی نمائش پر شیوسینا نے ہلہ بول دیا جسمیں پاکستانی مصنوعات کے سٹال لگے ہوئے تھے۔ شیوسینا کے دہشت گردوں نے توڑ پھوڑ کرکے اپنے وحشی پن کا ثبوت دیا۔ادھرہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے رہنما پراوین توگڑیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے گزشتہ دس برس کے دوران پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا ہے۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے توگڑیا نے بھارت میں ہندو مذہب کو بچانے کے لئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنے پر زور دیا۔ اس نے کہا کہ ہم ہر سال تقریباً پندرہ ہزار افراد کو ہندو مذہب میں شامل کرتے ہیں لیکن گزشتہ سال یہ تعداد چالیس ہزار افراد تک جاپہنچی ہے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ا گر ہندو بھارت میں اکثریت میں رہنا اور اپنے مذہب کوبچانا چاہتے ہیں تو ہمیں لاکھوں لوگوں کو ہندو مذہب میں شامل کرنے کیلئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنا ہوگی۔موصوف نے اپنی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ پاکستان کے تمام ہندوﺅں کو بھارت کی شہریت دینی چاہیے۔دراصل یہی بھارت کا اصل چہرہ ہے۔