- الإعلانات -

یہ گھر واپسی ۔۔۔۔۔!

اسد امانت علی خان ’’کی گائی غزل ‘‘ گھر واپس جب آؤ گے تو کون تمہیں پہچانے گا ‘‘ یقیناًایک شہرہ آفاق غزل ہے مگر پچھلے ڈیڑھ سال میں مودی سرکار کے آنے کے بعد گھر واپسی کچھ اور وجوہات سے بھی مشہور بلکہ بدنام ہو گئی ہے۔ وشو ہندو پریشد ( VHP ) کے سربراہ ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ گذشتہ دس برسوں میں ان کی پارٹی نے پانچ لاکھ عیسائیوں کو دوبارہ ہندو مذہب میں لا کر دھرم کی سیوا کی ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کی گھر واپسی ہوئی ہے یعنی انھیں ہندو بنایا گیا ہے ۔ موصوف کے مطابق ایک سال میں اوسطاً پندرہ ہزار سے کچھ زائد غیر ہندوؤں کو ہندو مذہب اختیار کرایا جاتا ہے البتہ گذشتہ ایک برس میں یہ تعداد چالیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ BJP کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے ریاستی اور حکومتی سطح پر بھی اس مہم کو بڑی تقویت ملی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ پورے زور شور سے جاری ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے سیکولر ازم کے تمام تر دعووں کے باوجود ہر آنے والے دن کے ساتھ ہندو انتہا پسندی کے جذبات کو فروغ مل رہا ہے اور یہ انتہا پسندی دھیرے دھیرے زعفرانی دہشتگردی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ BJP کی موجودہ حکومت کے تخت نشین ہونے کے بعد سے تو اس سلسلے میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے مثلاً بارہ جنوری کو دہلی سرکار نے سپریم کورٹ میں ا مر کا عندیہ دیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی تشخص کے حوالے سے چل رہے مقدمے میں اب بھارتی حکومت فریق نہیں رہی لہذا اگر اس کی مسلم شناخت ختم بھی کر دی جاتی ہے تو دہلی سرکار کو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ اس کے خلاف رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے سبھی طبقات نے شدید غم و غصہ ظاہر کیا ہے ۔ یہاں تک کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ’’ ضمیر الدین شاہ ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ یونیورسٹی کے مسلم تشخص کو کسی بھی صورت ختم نہیں ہونے دیا جائے گا اور اس مقصد کے حصول کی خاطر ہندوستانی مسلمان بھر پور مذاحمت کریں گے ۔ یاد رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ’’ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ‘‘ بھارتی فلمی اداکار ’’ نصیر الدین شاہ ‘‘ کے حقیقی بھائی ہیں ۔
دوسری جانب بھارت سرکار نے مسلمان اداکاروں ’’ عامر خان ‘‘ اور شاہ رخ خان ‘‘ کو دی گئی سرکاری سیکورٹی واپس لے لی ہے کیونکہ انھوں نے چند ہفتے قبل بھارت میں بڑھ رہی مذہبی عدم برداشت کے حوالے سے تشویس ظاہر کی تھی اور اس کے ر دعمل کے طور پر BJP کی مرکزی اور مہا راشٹر میں BJP اور شیو سینا کی مخلوط حکومت نے نہ صرف ان اداکاروں کی سیکورٹی واپس لی ہے بلکہ عامر خان کو پہلے Incredible Indiaْ ‘‘ مہم کا جو برانڈ امبیسیڈر مقرر کیا گیا تھا ، ان کی وہ حیثیت بھی چھین لی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ بھارت میں سیر و سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے ’’ عامر خان ‘‘ کو جو علامتی حیثیت دی گئی تھی وہ بھی ختم کر کے اب یہ رتبہ ’’ امیتابھ بچن ‘‘ کو سونپ دیا گیا ہے ۔
اعتدال پسند حلقوں نے دہلی سرکار کے ان اقدامات کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے ان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں کے خلاف جاری مہم تھمی نہیں بلکہ اس میں غیر اعلانیہ طور پر مزید شدت آ گئی ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں بھارتی سا لمیت کو متاثر کر سکتے ہیں ۔ اسی سرکاری رویہ کے خلاف چند روز قبل مغربی بنگال کے ’’ مالدہ ‘‘ شہر میں ہندو مسلم تناؤ فساد کی شکل اختیار کر گیاتو دوسری جانب مدھیہ پردیش صوبے کے شہر ’’ دھار ‘‘ میں بارہ جنوری کو ہندو مسلم کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اور خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بھارت کے طول و عرض میں مسلم کش فسادات کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے اور ایسی صورتحال کے نتیجے میں دہشتگرد گروہوں کو براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح سے اپنی کاروائیاں جاری رکھنے میں تقویت ملنے کے خدشات غیر حقیقی قرار نہیں دیے جا سکتے ۔
عالمی برادری کو اس آنے والے خطرے کی جانب مزید سنجیدگی سے توجہ دینی ہو گی ۔ اگرچہ امریکی صدر اوبامہ نے بحیثیت صدر اپنی سٹیٹ آف دی یونین کے آخری خطاب میں پاکستان ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں جاری شدت پسندی کے رجحانات پر تشویش ظاہر کی ہے مگر بد قسمتی سے موصوف نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کیاہے کہ یہ ساری صورتحال در اصل امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے ۔ اور پاکستان کی حکومت ، عوام اور پاک افواج ، آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے لئے جو فعال کردار ادا کر رہے ہیں ، اس کا اعتراف زیادہ واضح الفاظ میں امریکہ اور دیگر موثر طاقتوں کی جانب سے ہو نا چاہیے اور بھارت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ ایسی روش سے گریز کرے جس کے نتیجے میں عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگرد عناصر کو تقویت ملنے کا احتمال ہو ۔