- الإعلانات -

ہندوستان اور پڑوسی ممالک (پہلی قسط )

ہندوستان کے تمام پڑوسی کسی نہ کسی طرح سے ہندوستانی حکومتوں سے ہمیشہ شاکی رہے ہیں کہ ہندوستان کا پڑوسی ممالک سے حاکمانہ رویہ ایسا ہی ہے جیسے زمانہ قدیم میں کسی بڑی سوپر پاورکا کسی باجگزار اور طفیلی ریاست کے ساتھ ہواکرتا تھا یہ بھی مقتدر ہندو کے نفسیاتی خلل کا ایک شاخسانہ ہے ایک طرف تو انڈیا بزعم خود سوپر پاور ہونے خواب دیکھتا ہے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ایسی رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے کہ جیسے ہندوستان کوئی واقعی کوئی بہت بڑی سوپر پاور ہے اور خطے کے باقی ممالک اس کے باجگزار ہیں انڈیا کے جنوب مشرق میں ایک جزیرہ نما ملک سری لنکا ہے جس کی آبادی سوا دو کڑور ہے جو دنیا کے سب سے زیاد تعلیم یافتہ لوگوں کے ممالک میں سے ایک ہے جہاں ڈیڑھ صدی قبل چائے کے باغات کے برطانوی مالکان اپنے باغات کے لئے مزدور لے گئے جن کی اکثریت تامل نسل کے لوگوں پر مشتمل تھی جن کا اصل وطن تامل ناڈ (مدراس) تھا جو ہندوستان کی جنوب مشرقی ساحلی ریاست ہے جس کا سری لنکا سے دلدلی علاقے کے ذریعہ زمینی رابطہ ہے یہ لوگ چونکہ دین کلچراور رہن سہن کے معاملے مقامی لوگوں سے قطعی مختلف لوگ تھے ان کو شمالی سری لنکا کے علاقوں ٹرنکو مالی اورجافنا میں تعینات کیا گیا تھا یہ لوگ کبھی بھی اپنے آپ کو مقامی آبادی میں ضم نہیں کرسکے ان کے روابط اور رشتہ داریاں تامل ناڈ تک محدود رہے 4 فروری 1948 کو برطانیہ سے سری لنکا کی آزادی کے بعد بھی ان کے روابط انڈیا کے ساتھ رہے اور یہ لوگ مصر تھے کہ ہم اسی طرح انڈیا آنا جانا بغیرکسی پابندی کے جاری رکھیں گے کوئی سرحدی کنٹرول نہیں مانیں گے لیکن کوئی بھی خود مختیار ریاست اس طرح کی اجازت نہیں دے سکتی پہلے پہل تو ہندوستانی حکومت اس کوشش میں رہی کہ اس علاقے کو ہی ہتھیا لیا جائے لیکن سری لنکا کی شدید مزاحمت کے بعد ہندوستانی وزیراعظم اندار گاندھی نے 1980 میں سری لنکا حکومت سے معاہدہ کیا جس کی رو سے ہندوستان ان تمام لوگوں کو واپس لینے پر رضامند ہوا لیکن ابھی معاہدے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ انڈیا نے سری لنکا میں موجود تاملوں کو فوجی تربیت دینا اور مسلح کرنا شروع کردیا اور سری لنکا میں موجود تامل لوگوں کے لئے تامل ناڈ کی ریاستی حکومت نے تامل ناڈ میں بیس اور ٹریننگ کیمپ قائم کردیا گیا جہاں تامل گوریلے نہ صرف تربیت اور پناہ لیتے بلکہ زخمیوں کا علاج ہوتا اس کے بعد سری لنکا میں جس نوع کی تخریب کاری کی گئی وہ اب بھیانک تاریخ ہے جافنا کو دارالحکومت تجویز کرتے ہوئے ایک الگ ہندوستانی طفیلی ریاست یا ہندوستان کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی اور دنیا بھر میں اس کی lobbying بھی شروع کردی اس کے بعد تشدد بڑھا دیا گیا اور بنگلہ دیش اسٹائل آپریشن تشکیل دیا گیا لیکن انڈیا کا یہ چورن بین الاقوامی بازار میں نہین بکا اس کے بعد سری لنکن حکومت کو دباؤ میں لینے کے لئے تشدد مزید بڑھا دیا گیا اور کولمبو ایرپورٹ پر کھڑے سری لنکن ایرلائنز کے 5 سے زیادہ کمرشل ہوائی جہاز تباہ کر دئے گئے یہ انڈیا کی ریاستی دہشتگردی کی اور مثال تھی کئی مرتبہ جب تامل دہشتگرد لیڈر پربھاکرن اور اس کے ساتھی سری لنکن فوج کے گھیرے آگئے اور قریب تھا کہ گرفتار کر لئے جاتے انڈین ایرفورس فورا دہشتگردوں کی مدد کو پہنچی اور ہیلی کاپٹروں سے ان کو اٹھاکربچا لیا گیا اور سری لنکن فوج منہ تکتی رہ گء اس کے علاوہ جب بھی ضرورت پڑتی ہندوستانی فوج ان کی مدد کو آ موجود ہوتی انڈین ایرفورس ہوائی جہاز سے اسلحہ drop کردیتی سری لنکن حکومت اس دہشت گردی کے سرطان سے نمٹنے کے لیے اپنے دوست ملک پاکستان سے مدد کی طالب ہوئی پاکستان نے حالات کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے سری لنکن فوج کو تکنیکی معاونت اور مشاورت فراہم کی نتیجے میں کچھ سالوں میں سری لنکا دہشت گردی سے پاک ہو گیا اور انڈیا کے توسیع پسندی کے خواب چکنا چور ہو گئے جس کا انڈیا کو بہت دکھ ہے اسی طرح بحر ہند میں ہندستان کے جنوب میں 2000 کلومیٹر دور چند خوب صورت جزائر پر مشتمل مسلمان ملک مالدیپ ہے جس کا دارالحکومت مالے ہیں آبادی صرف سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے صدر وزیراعظم اور پوری کابینہ مسلمان وزیروں پر مشتمل ہے نہایت پر امن لوگ ہیں اقتصادیات کا انحصار کھیتی باڑی سیاحت اور فشنگ پر ہے انتہائی خوبصورت سیاحتی مقام ہے یہ خوبصورت اور پر امن علاقہ بھی ہندوستان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہا آئے دن انڈین نیوی اٹھکیلیاں کرتی آ دھمکتی ہے جس کی شکایت اقوام متحدہ سے کئی مرتبہ کی جا چکی ہی انڈیا چاہتا ہے کہ مالدیپ کا سیاسی نظام انڈیا کی مرضی کا ہو اور اسی کی مرضی سے چلایا جائے جس میں باہمی تعاون کے نام پر انڈیا کے وزیروں مشیروں کے لئے گنجائش پیدا کی جائے بہ الفاظ ریگر انڈیا کو اپنا سرپرست اعلی تسلیم کیا جائے انڈین لوگوں کو نہ صرف بغیر ویزا انٹری دی جائے بلکہ ان کو مالدیپ میں جائداد خریدنے کی اجازت دی جائے حکومتی اداروں میں انڈین لوگوں کو بھرتی کیا جائے ۔(جاری ہے)