- الإعلانات -

شاہراؤں پر بہتا ہوا سفید پوشوں کالہو

معزز قارئین ! گزشتہ چندمہینوں میں میڈیا میں تواتر سے خود کشیوں کے حوالے سے کچھ ایسی دل گرفتہ خبریں شائع ہوتی رہی ہیں جن سے متاثر ہونا ہر خاص و عام کیلئے ایک لازمی اَمر ہے ۔ سفید پوش مردوں ، عورتوں ا ور بچوں کا تواتر سے ریل کی پٹریوں پر بہتا ہوا لہو جب حالات سے تنگ آکر مایوسی کے عالم میں مملکت خدادا پاکستان میں اُن کیلئے رات کے اندھیرے میں چلتی ٹرین کے آگے جان، جان آفریں کے سپرد کرنا ہی آخری آپشن رہ جاتا ہے۔ ایک ماں کا مجبوری کے عالم میں اپنے تین بچوں کے ہمراہ زہر خوانی سے اپنے خاندان کو ہلاک کر لینا۔ ایک باپ کا اپنے بچوں کے ہمراہ دریا میں چھلانگ لگا کر گہرے پانیوں میں گم ہوجانا اور اِس سے بھی زیادہ ایک بھائی کا بھوک و افلاس کے ہاتھوں تنگ آئی بہن کو زمانے کے خداؤں کے ہاتھوں کھیلنے کیلئے چھوڑ دینا یا پھر نئی تہذیب کے بااثر نودولتیوں کے بگڑے ہوئے بدقماش نوجوانوں کی بے سہارا خواتین کی بے حرمتی پر ریاستی بے حسی کے سبب معاشرے میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات ۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جن کی چھبن باضمیر لوگوں کو نیند کے آغوش سے جگا دیتی ہیں ۔جن سفید پوشوں کی حاجت پوری کرنے کیلئے خلیفہ وقت حضرت عمرؓ رات گئے تک جاگتے تھے آج اسلام کے نام لیواؤں نے اُن کے آدرشوں کی قدر و قیمت بھلا دی ہے ۔ بہرحال اِن گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک مرد مجاہد رحیل کارواں کے طور پر ضرور متحرک ہے۔
صد افسوس کہ قومی حمیت کو ہر چیز پر فوقیت دینے کی لگن کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو حامان و قارون کے مال و زر بنانے کے کلچر نے ایک ایسی ناقابل فہم لپیٹ میں لے لیا ہے کہ عوام حیران پریشان ہیں کہ پاکستان کو کس کی نظر لگی ہے۔گذشتہ کئی برسوں میں ملک کو قرضوں کی گروی میں رکھ دیاگیا ہے سرمایہ دار امیر سے امیر تر اور متوسط و غریب طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا گیا ہے ۔ روزمرہ بنیاد پر روزی کمانے والے لاکھوں مزدور فاقوں کا شکار ہیں، خود کشیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ قرضہ کریسی کے سبب ملک سے غربت تو کم نہیں ہوئی ہے لیکن غربت میں کمی لانے والے مخصوص فنڈز کو حکمران اپنی ذاتی تشہیری مہم میں بے تحاشا استعمال کر رہے ہیں ۔ جبکہ منی لانڈرننگ اور بیرونی بنکوں میں حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کا احتساب کرنے کے بجائے اُسے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اندریں حالات، حکمرانوں نے ملک کو ایک ایسی اقتصادی و معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کے روگ میں مبتلا کر دیا ہے جس کی مثال جدید دنیا کی حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ عوام اور سول سوسائیٹی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری ، بدانتظامی ، گیس و بجلی کی بحرانی کیفیت ، لاء اینڈ آرڈر کی تباہی ، اور کرپشن و بدعنوانی کے سامنے مجبور و بے بس نظر آتے ہیں جبکہ اقتدار کی غلام گردشوں میں متحرک چکنے گھڑے اپنی اصلاح احوال پر توجہ کرنے اور تاریخ سے سبق لینے کے بجائے عوام کو سب ٹھیک ہے کی دلفریب کہانیاں سنانے میں ہی مصروف نظر آتے ہیں ۔ معاشرے میں رشوت ستانی ، نفسا نفسی اور کنبہ پروری کا دور دورہ ہے جبکہ اخلاقی اور سماجی اقدار تیزی سے پستی کی طرف جا رہی ہیں۔ بدترین مہنگائی ، یوٹیلیٹی بلوں اور مکانات کے کرایہ میں غیر معمولی اضافے اور بیروزگاری کے باعث ایک اندازے کے مطابق غربت میں اِس حد تک اضافہ ہوا ہے کہ ملک کی اکثریتی51 فی صد آبادی یعنی جمہوریت ہی غربت کی لکیر کے نیچے چلی گئی ہے جبکہ حکمران عوامی مسائل سے لاتعلق نظر آتے ہیں اور بیرونی دوروں پر بے جا اصراف کرنے اور ملکی اصلاح و احوال کیلئے گوڈگورننس کا مظاہرہ کرنے کی بجائے بیرونی دنیا کے سامنے کشکول پھیلانے میں مصروف ہیں اور اشرافیہ کے کچھ حکومت حمایت یافتہ طبقے جمہوریت کے نام پر اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔
قارئین کرام ، بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے موقع پر ملک میں گوڈ گورننس کا جو ایجنڈہ تشکیل دیا تھا حکمرانوں نے اُس ایجنڈے کو پس پشت ڈال دیا ہے ؟ قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی سے اپنے تاریخ ساز خطاب میں کہا تھا کہ ” میں اپنی پہلی آبزرویشن کے طور پر یہ بتانا چاہونگا اور مجھے یقین ہے کہ آپ سے متفق ہونگے کہ حکومت کی پہلی ڈیوٹی ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا قیام ہے تاکہ ریاست عوام کی زندگی ، پراپرٹی اور مذہبی عقائید کی ادائیگی میں مکمل تحفظ فراہم کرے ۔ دوسری بات جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ رشوت و کرپشن کے بارے میں ہے جو ریاست کیلئے زہر قاتل ہے اور جسے ہمیں آہنی ہاتھ سے ختم کر دینا چاہئیے ۔ بلیک مارکیٹنگ ایک اور عذاب ہے جو معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہے جس کے خلاف مثالی سزائیں تجویز کرنی ہونگی ۔اگلی بات جو میرے ذہن کو مضطرب کرتی ہے وہ اقربہ پروری اور ملازمتوں کی شیطانی خرید و فروخت ہے جسے آہنی ہاتھوں سے روکنا ہوگا ” ۔ کیا ہمارے حکمران قائداعظم کے ایجنڈے پر کاربند ہیں ؟صد افسوس کہ ریاستی اسٹیٹ کرافٹس بدعنوانی، کرپشن اوربدانتظامی سے اِس حد تک آلودہ ہو چکے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی گاہے بگاہے اپنی آبزرویشن میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ چوروں کو بچانے کیلئے چور اکھٹے ہو گئے ہیں ، جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے اربابِ اختیار کو بار بار تنبیہ کی گئی ہے کہ کرپشن مقدمات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔ لیکن صد حیف کہ اچھائی کی اِس آواز کے باوجود قومی و سیاسی اداروں میں اعلیٰ تعلیم سے محروم ، جعلی ڈگری یافتہ اور بدعنوانی سے لیس مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے عناصر کی تعیناتی ، مختصر مدت میں اُنکی بے محابا کرپشن اور پھر تفتیشی مراحل میں ایسے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے اِن بدکردار چہروں کی سیاہی ڈیل کی سیاست سے دھونے کی کوشش یقیناًکسی بھی جمہوری ملک کیلئے باعث افتخار نہیں ہے ۔حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ نوکر شاہی اور حکومتی اہلکار لوگوں کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دینے کے بجائے غریبوں، سفید پوشوں اور محنت کش طبقوں کے حقوق و اُمنگوں کو بیدردی سے کچل رہے ہیں ۔ حکومتی نظم و نسق سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیاہے ۔عوام کیلئے وقت دعا ہے اُن کی نگاہیں آسمانوں پر مرکوز ہیں اورلبوں پر یہی دعا ہے کہ اے رب العالمین کیا پاکستانی فرعونوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اب کسی موسیٰ کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر حکمران گجر کی آواز سننے سے محروم ہو چکے ہیں تو نظیر اکبر آبادی کے اِس شہرہ آفاق تجزیہ پر ہی غور و فکر کرلیں ورنہ شاہراؤں پر بہتا سفید پوشوں لہو ضرور رنگ لائے گا ۔ نظیر اکبر آبادی اپنی نظم میں کہتے ہیں ……. ؂
مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت بھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پتہ توڑ کے بھاگیں گے منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈبے موتی ہیروں کے کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیا بغچے تاش مشجر کے کیا تختے شال دوشالوں کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لادچلے گا بنجارہ