- الإعلانات -

پٹھان کوٹ حملہ، مذاکرات ختم کرنے کی بھارتی سازش

پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے تین روز بعد موہالی پولیس نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے پاکستانی سم اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے۔بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارتی ایس ایس پی گرپیت سنگھ بھلرنے کہاہے کہ تین سمگلروں کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے سٹین گن ،دو 9ایم ایم ،دو 30بور ،ایک ائیر گن ،190کارتوس ،31موبائل فون اور ایک پاکستانی سم برآمد ہوئی ہے۔ گرفتار دہشت گردوں کی شناخت ہرجندر سنگھ ،گرجنت سنگھ اور سندیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ پٹھان کوٹ میں بھارتی ائیر بیس پر حملے کے بعد سے بھارتی میڈیا پاکستان کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہا ہے اور اپنے سیکیورٹی اداروں سے اس طرح کے سوالات کر رہا ہے جس سے اس حملے کا ذمہ دارپاکستان کو ٹھہرا یا جا سکے۔حالانکہ بھارتی فوج نے فوجی اڈے پر چار روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد تمام چھ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔پھر یہ تین گرفتار دہشت گرد کہاں سے آئے۔
اسی بنا پر بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ حملے سے متعلق فراہم کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف "فوری اور سخت” کارروائی کرے۔کیونکہ پاکستان کو دیے جانے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے میں ملوث ملزمان پاکستان سے آئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی ڈرامہ تو کرنا ہی تھا ۔ پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات 14 اور 15 جنوری کو اسلام آباد میں ہونی تھی ۔پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے تجزیہ کار مسلسل یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت حملے کو جواز بنا کر یہ ملاقات منسوخ یا ملتوی کرسکتا ہے ۔ماضی میں بھی اس نوعیت کے دہشت گرد حملوں اور دیگر تنازعات کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل بارہا تعطل کا شکار ہوا ہے۔بھارتی میڈیا نے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد ایک طرف تو بھارت کے خفیہ اداروں کی کارکردگی اور دفاعی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ بھارت پاکستان تعلقات کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کرنے والی بھارتی ’’نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی‘‘ (این آئی اے) نے ائر بیس کی سکیورٹی کے حوالے سے بھارتی اداروں کا پول کھول کے رکھ دیا۔ ائر بیس کی سکیورٹی پر متعین اہلکار صرف’’50‘‘ روپے لیکر کسی کو بھی ائر بیس کے اندر جانے دیتے تھے۔ ائر بیس کے ارد گرد گجر برادی بڑی تعداد میں آباد ہے جو اپنی گائے بھینسوں اور دیگر جانوروں کو چرانے کے لئے ائر بیس کے اندر لے جاتے ہیں جبکہ ائر بیس کے اندر مارکیٹ اور دکانیں بھی موجود ہیں جہاں سے خریداری کے لئے لوگ سکیورٹی پر متعین اہلکاروں کو ’’50 روپے‘‘ دے کر اندر چلے جاتے تھے۔
دفاعی اور سکیورٹی ماہرین نے پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد خفیہ اداروں کی کارکردگی اور بھارتی دفاعی تیاریوں کے حوالے سے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک نے کہا کہ’’حکومت کے پاس چوبیس گھنٹے پہلے ہی یہ واضح اطلاع پہنچ گئی تھی کہ دہشت گرد حملہ کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود اہم تنصیبات کی سکیورٹی میں اضافہ کیوں نہیں کیا گیا، اگر بروقت سکیورٹی تعینات کر دی جاتی تو ہمارے سات جوانوں کی قیمتی جانیں نہیں جاتیں۔‘‘ اس سوا ل کے جواب میں کہ کیا اس حملے میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے؟ سابق فوجی افسر نے کہا، ’’گوکہ یہ بات بھارتی رائے عامہ کے خلاف ہوگی تاہم میں اپنے تجزیے کی بنیاد پر واضح اور یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس میں پاکستانی آرمی یا آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں ہے۔‘‘ عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پاکستان اسٹڈیز کے کوآرڈینیٹر پروفیسر اجے درشن بیہرا نے سکیورٹی فورسز کے طریقہ کار پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’’کل فورسز نے کہا تھا کہ تمام دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا ہے لیکن کئی جوانوں کی ہلاکت کے بعد بھی وہ آج کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ابھی جاری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ہے۔‘‘انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالسز کے ریسرچ فیلو اشوک بھوریا کا کہنا ہے کہ ’’اس حملے کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کے عمل کو ختم کرنا ہے۔ یہ حملہ کوئی غیر متوقع نہیں ہے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ ہماری تیاریاں اتنی کمزور کیوں تھیں۔‘‘ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را(RAW) کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ پٹھان کوٹ آپریشن نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی سمیت بہت سارے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ آخر دہشت گرد اتنی آسانی سے اور اتنے ڈھیر سارے ہتھیاروں کے ساتھ ایئر بیس میں داخل کیسے ہوگئے؟
پاکستان نے بھارت کو بتا دیا ہے کہ اس کی دی گئی معلومات پٹھانکوٹ ائربیس پر حملہ کرنے والوں کا پتہ چلانے، انہیں پکڑنے کے لئے ناکافی ہیں۔پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو حملے سے متعلق جو شواہد فراہم کیے ہیں ان میں مبینہ حملہ آوروں کے ٹیلی فون نمبرز، فون کالز اور ان مقامات کی تفصیلات شامل ہیں جہاں سے بھارتی انٹیلی جنس اداروں کے خیال میں حملہ آور یا ان کے سرپرست ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ حکام نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کا پٹھانکوٹ ائربیس پر حملہ سے کوئی تعلق نہیں اس حملے کے پیچھے ہمارا ہاتھ نہیں۔ حملہ آور اتنے تربیت یافتہ نہیں تھے ان کے سامنے کوئی مخصوص ہدف بھی نہ تھا۔ پٹھانکوٹ پر حملہ کرنے والوں نے حملہ سے قبل فون نمبر 0301۔7775253 ، 0300۔0597212 استعمال کئے تھے۔ ان موبائل فون نمبروں کے بارے میں تحقیقات مکمل ہو گئی ہے اور ان کا کوئی رجسٹرڈ ریکارڈ نہیں ملا۔ یہ نمبر پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
حملے کے فوری بعد بھارتی میڈیا اور وزراء نے بغیر تحقیق و ثبوت کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی۔ بھارت میں ہر انہونی کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنا بھارتی میڈیا کی پرانی روایت ہے۔ حسب روایت بھارتی میڈیا نے پاکستان پر حملے کا جھوٹا الزام لگاتے ہوئے تمام حدود پار کر دیں۔ جیسے ہی پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کی خبر آئی تو بھارتی میڈیا نے بغیر تحقیق کے حملے کا الزام پاکستان پر دھرتے ہوئے جیش محمد نامی عسکریت پسند تنظیم کو ذمے دار ٹھہرایا اور کہا کہ شدت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ بھارتی ٹی وی چینل ٹائمز نا کے ایک رپورٹر نے تو حملے کے لیے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو براہ راست ذمے دار قرار دے ڈالا۔ دوسری جانب خود بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے پٹھان کوٹ حملے کو مشکوک قرار دے دیا ہے اور حملے کا معاملہ پراسرار ہوگیا ہے۔ بھارتی پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر ہونے والے حملے کے بعد سے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے پوری کوشش کی جارہی ہے کہ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا جائے جب کہ بھارتی حکومت نے بھی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے حملہ آوروں کو سرحد پار سے امداد ملنے کا الزام لگایا ہے۔اس موقع پر ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ بھارت سے نظریں جھکا کر نہیں بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ ہم ملزم نہیں تو پھر بھارت کے سامنے بچھے کیوں جاتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی خوداری گروی میں رکھ دی ہے؟