- الإعلانات -

انفارمیشن ٹیکنالوجی کاسیلاب اور سیکیورٹی مسائل

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دنیا کو جہاں گلوبل ویلج میں بدل کر رابطوں کو گفتن سہل کیا ہے وہاں کردن بھی سہل بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ زمین کی پاتال سے خلائے بسیط تک کی معلومات کا ایک سمندر ہے جو موجزن رہتا ہے اور ایک عام تعلیم یافتہ شخص بھی اس سے حتی المقدور مستفید ہورہا ہے ۔ آئی ٹی کے اس انقلاب کوہتھیلی پر سرسوں جمانے سے تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مگر اس سہولت ، جدت اور آسائش نے کئی طرح کے مسائل کوبھی جنم دینا شروع کردیا ہے۔ وقت کے ساتھ اس شعبے میں جتنی جدت اور اس کا دائرہ کار پھیل رہا ہے اتنا ہی مسائل اورجرائم کادائرہ کار بھی پیچیدہ اور وسیع ہورہا ہے ۔دو تین عشرے قبل کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطوں کی نئی شکل سامنے آئی تو باعث حیرت تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن رابطوں کی یہ جدید شکل اتنی سہل اور سستی ہو جائے گی کہ بچے بچے کی انگلیوں کی پوروں کی زد میں رہے گی۔ کیا یوٹیوب ، کیا گوگل، کیا فیس بک ، کیا وٹس ایپس ، کیا وائبر ، کیا سکائپ ، کیا آئی ایم او (imo) باہمی رابطوں کے یہ ایسے ذرائع ہیں جن کے استعمال پر آج آپ کا ٹکہ تک خرچ نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ ان کا استعمال حکومتی اداروں کی دسترس سے باہر رہتا ہے اور اگر کوئی حکومت سیکیورٹی ادارہ کسی وجہ سے آپ تک رسائی حاصل کرنا چاہے بھی تو اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے جرائم پیشہ اور انتہا پسند عناصر کے کام کوجہاںآسان اور منظم کیاوہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو مشکل بھی بنا دیا ہے ۔ سیکیورٹی کے یہ جدید مسائل دنیا کے ہر ملک کودرپیش ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ صورتحال اور بھی خطرناک صورت اختیارکرلیتی ہے کیونکہ یہاں قوانین کمزور اور ان پرعملدرآمد نہ ہونا اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی تو دہشت گردوں نے بھی اپنے نیٹ ورک کو منظم اورمربوط رکھنے کیلئے انٹرنیٹ کی نئی سے نئیAppsکا سہارا لینا بڑھا دیا ہے ۔ یوں چھپن چھپائی کے اس کھیل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایک ہی حل باقی رہ جاتا کہ وہ ان ذرائع پر پابندی لگوا کر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پھیلنے سے روکیں۔ اگرچہ اس سے عام آدمی کومشکل ضرور پیش آتی ہے تاہم دوسری جانب دہشت گردی کے نیٹ ورک میں بھی کھلبلی مچ جاتی ہے۔ پابندی لگوانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ نیٹ رابطوں کے تمام ذرائع حکومتی نگرانی والے سسٹم میں آجائیں۔ان جدید ذرائع کا ایک اورخطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ جاسوسی کاباعث بھی بن رہے ہیں۔ جن ممالک کے سائنس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین انہیں ایجاد کرتے ہیں وہی ان کو دوسرے ممالک کے خلاف جاسوسی کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یوٹیوب، فیس بک جب عام استعمال ہونے لگی تو اس حوالے سے آواز بلند ہوئی تھی کہ یہ مفت سروسز جاسوسی کیلئے استعمال ہورہی ہیں اب چونکہ ان کااستعمال اتناعام اوراہم ہوگیا ہے کہ تمام ترخطرات کے باوجود ان سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی۔ کچھ عرصہ قبل بلیک بیری سروس آئی تو اسے دنیابھر میں بڑی تیزی سے مقبولیت ملی۔ پاکستان میں بھی تقریباً ایک عشرہ قبل ایک موبائل کمپنی نے اسے متعارف کرایا تو کاروباری،سفارتی اور اہم سیاسی حلقوں میں اسے خوب پذیرائی ملی۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس کے صارفین کی تعداد5000تک پہنچ گئی چونکہ یہ ایک مہنگی سروس ہے لہٰذا عام شہریوں کی دسترس سے باہر رہی۔بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔یہ ایک ایسی سروس ہے کہ جوای میل اور ایس ایم ایس پیغامات کو انتہائی خفیہ بناتی ہے اور انکرپٹڈ ہے تاکہ کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ اس تک رسائی حاصل نہ کرسکے یہی اہم پہلو اس سروس کی راہ میں خودرکاوٹ بھی بنا ہوا ہے۔ بلیک بیری سروس دنیا کے کئی ممالک میں کام کررہی ہے لیکن تقریباً بیشتر ممالک میں جب سیکیورٹی مسائل پیدا ہونے لگے تو اسے بندش کاسامنا بھی کرناپڑا۔ پاکستان میں بھی جب2010ء میں وکی لیکس نے انکشاف کیا کہ امریکہ بلیک بیری کے ذریعے نگرانی کرتا ہے تو حکومت نے سرکاری سطح پربلیک بیری کے استعمال پرپابندی عائد کردی ۔اس سے قبل بلیک بیری کمپنی کو بھارت ،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اورانڈونیشیا میں اس قسم کی پابندیوں کاسامنا کرنا پڑا۔ بلیک بیری ایک کینیڈین کمپنی ہے جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اسے یہودی چلارہے ہیں مگر اس کے باوجود اس کااستعمال پاکستان میں ہو رہا ہے۔سانحہ پشاور اور نیشنل ایکشن پلان کے بعدانٹیلی جنس ایجنسیوں کو بلیک بیری کے صارفین کے ڈیٹا جمع کرنیکی ضرورت پیش آئی تو انہیں سخت مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔ پی ٹی اے نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے بلیک بیری انٹرپرائز سروس تک رسائی دے لیکن کمپنی انتظامیہ نے اسے یکسر مسترد کردیا ۔گزشتہ برس جولائی میں پی ٹی اے نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کوہدایات جاری کی تھیں کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر 30 نومبر کے بعد بلیک بیری انٹرپرائز سروسز کی فراہمی بند کر دی جائے گی۔ تاہم پی ٹی اے اور کمپنی کے درمیان بات چیت چلتی رہی۔ حکومت رسائی چاہتی ہے جبکہ کمپنی کسی بھی قسم کے ڈیٹا تک رسائی سے انکاری ہے ۔ کمپنی کاکہنا ہے کہ ہم کسی کو بھی چور دروازوں سے یاکھلے طریقے سے اپنے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کااختیار نہیں دیتے ۔یہ ضد کمپنی کے معاملات کو مزید مشکوک بناتی ہے، دنیا میں جہاں بھی بلیک بیری کو بندش کاسامنا کرنا پڑا اسی وجہ سے کرنا پڑا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے ڈیٹا تک رسائی سے انکاری رہتی ہے۔ دہشت گردی اورانتہاپسندی کے حالیہ ماحول میں کوئی بھی ملک ایساخطرہ مول نہیں لے سکتا کہ کوئی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی بغیر کسی نگرانی کے آزادانہ کام کرتی رہے ۔لہٰذا حکومت کا یہ فیصلہ نہایت ہی صائب اورضروری تھا کہ وہ نگرانی کے عمل کو یقینی بنائے۔گزشتہ ماہ 31دسمبر تک یہ سروس معطل تھی مگر رواں ماہ جنوری میں اسے ایک بار پھر اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ اپنی سرورس جاری رکھے۔حتیٰ کہ معلومات تک رسائی کامطالبہ بھی واپس لے لیا گیا ہے اگرچہ یہ اجازت اسے صرف ایک ماہ کیلئے دی گئی ہے لیکن ضروری ہے کہ حکومت اس معاملے میں کسی بھی قسم کی ڈھیل کامظاہرہ نہ کرے ،ملک جس قسم کے سیکیورٹی خدشات سے دوچار ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ صارفین کے زیراستعمال رابطوں کے تمام ذرائع حکومت کی کڑی نگرانی میں ہوں۔سانحہ صفورا میں پکڑے جانیوالے ملزمان نے جس طرح کے انکشافات کئے اور بتایا کہ وہ کس طرح جدید ذرائع کو استعمال کرتے تھے اس کے بعد حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ دہشتگردوں کے ہرقسم کے نیٹ کی کڑی نگرانی کی جائے۔ اسکائپ، فیس بک، واٹس ایپ سمیت تمام مفت وائس کالز سروسز پرپابندی عائد ہونی چاہئے یا پھر تمام مفت وائس سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کیلئے پی ٹی اے سے لائسنس کاحصول لازمی قرار دیاجائے۔ وائس سروسز کو ریگولیٹ کرنا وقت کاتقاضا ہے جوبھی کمپنی لائسنس لے اسے اس بات کا بھی پابند بنایاجائے کہ وہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔