- الإعلانات -

داعش

کل کے کالم میں بات کی گئی تھی اسرار عالم صاحب کی کہ کس طرح انہیں ہر چیز یہودی سازش نظر آ تی ہے۔اگر معاملہ اسرار عالم صاحب تک محدود رہتا تو کوئی بات بھی تھی لیکن اب جناب خورشید ندیم جیسے صاحبِ علم نے اچانک میرے جیسے ’ یہودی ایجنٹوں ‘ کو ایک نئی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ان کے نزدیک ہم ’ داعش ‘ ہیں، اور اسرار عالم کے نزدیک ہم یہودی ایجنٹ۔سوچتا ہوں بیچ کی راس کے ہم لوگ کس دیوارِ گریہ پر سر رکھ کر روئیں؟
خورشید ندیم لکھتے ہیں:’’ داعش دو چیزوں کا مجموعہ ہے: ایک بیانیہ اور ایک مسلح گروہ‘‘۔اور پھر وہ اس بیانیے کے نکات بیان کرتے ہیں ۔ ان کے چند نکات میں یہاں نقل کر دیتا ہوں۔
ان کے مطابق جو لوگ یہ کہتے ہیں ’’ ملک پر سودی معیشت کی حکمرانی ہے ،سود اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے ۔ حکمران طبقہ اس کے خاتمے کے لیے تیار نہیں اور منافق ہے‘‘ ان کا تعلق داعش سے ہے۔جناب خورشید ندیم کے مطابق جو شخص یہ بات اپنے کالم میں بھی کہیں لکھ دے وہ بھی داعش ہی کا حصہ ہے۔ان کے نزدیک یہ سب ایک ہیں ، کسی نے ہتھیار اٹھا لیے تو کسی نے کالم لکھنا شروع کر دیا۔اب معاملہ یہ ہے کہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ملک پر سودی معیشت کی حکمرانی ہے، جہاں تک سود کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ ہونے کا تعلق ہے، یہ میں ہی نہیں خود اللہ بھی یہی سمجھتا ہے۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ دستور پاکستان میں سود کے خاتمے کے آرٹیکل پر آج تک عمل نہ ہونے کی وجہ اہل اقتدار کا اس کام کے لیے تیار نہ ہونا ہے۔۔۔۔۔تو کیا میں داعش ہو گیا؟ کیا ہم حکومت پر تنقید نہیں کر سکتے کہ اس نے سود کے بارے میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے؟کیاکسی کو پرکھنے کے لیے اس طرح کے معیار قائم کرنا ایک معتدل رویہ ہے؟
ایک اور نکتہ بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’ پاکستان پر ایک کرپٹ سیاسی مافیا مسلط ہے ۔اس نے موجودہ جمہوری نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور مروجہ جمہوری طریقے سے اس سے نجات نہیں مل سکتی‘‘ ان کا تعلق بھی داعش سے ہے۔۔۔۔۔تو کیا پاکستان کی سیاست ’ ابو بن ادھم ‘جیسے درویشوں کے ہاتھ میں ہے؟کیا سندھ کے وزراء دامن نچوڑتے ہیں تو آسمانوں سے فرشتے اترتے ہیں کہ وضو کے لیے پانی بھر کر لے جائیں؟اور جناب یہ مروجہ جمہوری طریقے سے کیا مراد ہے؟یعنی اگر کوئی یہ سمجھے کہ مروجہ جمہوری نظام میں دولت کے بے تہاشا استعمال کے بغیر الیکشن نہیں لڑا جا سکتا اور ان مروجہ طریقوں کے خاتمے کے بغیر کرپٹ سیاسی مافیا سے نجات ممکن نہیں تو وہ کم بخت داعش ہو گیا؟یہاں ’’ آ ئینی جمہوری طریقے ‘‘ کی نہیں بلکہ ’’ مروجہ جمہوری طریقے ‘‘ کا دفاع کیا گیا ہے اور اس پر تنقید کرنے والے کو داعش قرار دے دیا گیا ہے۔۔۔۔کیا علم کی دنیا میں یہ ایک قابلِ تحسین رویہ ہے؟
داعش کی نشاندہی کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ ’’ حکمران طبقے کو ملک اور عوام سے رتی بھر دلچسپی نہیں،اس کے خلاف مسلسل نفرت کی آ بیاری قومی فریضہ ہے‘‘ اس کا تعلق بھی داعش سے ہے۔۔۔گویا اب مجھے اس بات پر نقد نہیں کرنا چاہیے کہ ایک شہزادہ، دو شہزادیاں اور ایک بلی دو جہازوں پر کیوں آ تے ہیں۔نہ ہی مجھے شہزادوں کے پروٹوکول میں مرنے والی بسمہ کے دکھ میں آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ یہ حکمرانوں کے خلاف نفرت کی آبیاری قرار پائے گا۔’نفرت کی آبیاری ‘ ایک ذو معنی اصطلاح ہے۔طرز حکومت پر سخت تنقید نفرت کی آبیاری کہلائی جائے گی۔گویا جب تک اہلِ قلم یہ نہ لکھ ڈالیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے بعد سب سے نیک حکمران قائم علی شاہ اور نواز شریف صاحب ہیں تب تک ان کا شمار داعش میں ہو گا۔۔۔۔۔یہ کیسا رویہ ہے؟جناب خورشید ندیم کے نزدیک جو یہ سمجھتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں اور اس سے ہاتھ ملانا غداری ہے وہ بھی داعش ہے۔کوئی ایسی سخت سوچ رکھتا ہے تو آپ اس سے مکالمہ کر لیجیے لیکن ایک جمہوری معاشرے میں لوگوں کی فکر پراس طرح کے پہرے بٹھانا کیا علمی رویہ کہلا سکتا ہے؟اب کیا مودی کو مدر ٹریسا کہا جائے ورنہ داعش قرار دیے جانے کے لیے تیار رہا جائے؟ایک معاشرے میں اختلاف رائے فطری بات ہے ، اس اختلاف رائے میں کوئی موقف نامعقول بھی ہو سکتا ہے لیکن اس کا حل داعش کا فتوی لگا کر اختلاف کا گلا گھونٹ دینا نہیں، مکالمہ ہے۔
اب میرے جیسے لوگ جناب اسرار عالم کے معیار پر پرکھے جائیں تو یہودی ایجنٹ ہیں اورجناب خورشید ندیم کے معیار پر جانچے جائیں تو ’ داعش ‘ ہیں۔معلوم نہیں یہ بر صغیر کے موسموں کا اثر ہے یا کیا ہے کہ راہ میں کوئی مقام جچتا ہی نہیں ، کوئے یار یا سیدھا سوئے دار۔احباب نے اپنے معیار بنا لیے ،اب جو ان پر مکمل پورا نہیں اترتا یہودی ایجنٹ یا داعش قرار پاتا ہے۔سماج میں اتنی خوفناک تقسیم سے کوئی خیر بر آمد نہیں ہو گا۔اس لیے اس طالب علم کی استدعا ہے خواہش کو داعش بنانے سے اجتناب کیا جائے۔

( وضاحت اور گذارش۔۔۔۔میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز سے منسلک ہوں۔ٹاک شو بھی اسی ادارے کے لیے کرتا ہوں اور کالم بھی اسی گروپ کے لیے لکھتا ہوں۔اب ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ اخبارات یہاں شائع ہونے والا کالم اپنے ہاں دوبارہ شائع کر دیتے ہیں۔ اس شفقت کے ساتھ اگر ’ بشکریہ روزنامہ پاکستان ‘ بھی لکھ دیا جائے تو خاکسار مشکور ہوگا)