- الإعلانات -

ہندوستان اور پڑوسی ممالک(حصہ دوم)

بھارت چاہتا ہے نیپال کی طرح مالدیپ اپنا control airspace بھی انڈیا کے حوالے کردے جس میں ٹریفک کنٹرول اورservices naviganal بھی شامل ہیں انڈیا چاہتا ہے کہ یہ تمام خدمات اس خطے میں انڈیا ہی فراہم کرے دوسرےلفظوں انڈیا آپ کے سروں پر superiority air چاہتا ہے اس کے علاوہ انڈیا وہاں اپنا ایک نیول بیس بھی بنانا چاہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ ان تمام مطالبات کو مالدیپ کی مجلس (parliament ) سے قانونی اور آئینی تحفظ بھی دلایا جائے یوں انڈیا کا مالدیپ کے وسائل لوٹنا قانونی قرار پائے بارہا خیر سگالی کے نام پر بن بلائے ہندوستانی بحریہ کے جہاز مالے میں جا لنگر انداز ہوئے اس پر مالدیپ کی جانب سے باقائدہ احتجاج ہوا اور ایسا متعدد مرتبہ کیا گیا مالدیپ میں سیاسی opposition کو خریدنے کی کو شش کی گئی ناکامی کی صورت ایک زیادہ مرتبہ انڈین نیوی ان ہندوستانی مجرموں کو تلاش کرنے مالدیپ جا دھمکی جن کا کوئی وجود ہی نہیں تھا اور مالے حکومت سے اصرار کہ ہمارے مجرم ہمیں واپس کئے جائیں ان سے کہا گیا کہ پہلے آپ ان کا ہمارے یہاں داخلہ تو ثابت کریں وہ کب آپ کے ہاں سے نکلے جب کہ انڈیا اور مالے درمیان جہازرانی نہ ہونے کے برابر ہے کوئی ثبوت تو پیش کریں اس وقت پاکستانی نیوی جو علاقے میں گشت پر تھی مالدیپ کی مدد کو آئی اور یوں یہ مشکل وقتی طور پر ٹل گئی اپنے مجرموں کے مالدیپ میں داخل ہونے کے ثبوت مانگنے کے جواب میں اجمل قصاب کی نوعیت کی زبانی باتیں کر دی گئیں کہ اگر ہم یعنی انڈیا کہ رہا ہے اس کو سچ مانا جائے ہماری زبان کو ہی ثبوت مانا جائے یاد رہے اجمل قصاب نام کا کردار انڈیا کی ذہنی اختراع تھی انڈیا کبھی کسی آزاد ذریعہ سے اس کی تصدیق نہیں کراسکا یا آزاد میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور نہ اسکی اپنی کوئی وڈیو پیش کی گئی گھٹیا سیاست کے نام پر شاید کسی معصوم کی بلی چڑھا دی گئی انڈیا کی نظر وہاں موجود معدنی اور زیر زمین اور زیر آب ذخائر پر ہے اور انڈیا پوری کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہاں اس کو کوئی سیاسی ہمنوا مل جائے جس کو استعمال کرکے مالدیپ میں سیاسی ہلچل پیدا کی جا سکے اور وہاں داخل ہوا جا سکے جس میں انڈیا آج تک ناکام رہا ہے ابھی حال ہی میں ہندوستانی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج مالدیپ جا پہنچیں جس سرد مہری سے ان کا استقبال کیا گیا وہ انڈیا کے لئے نہایت شرم اور ذلت کی بات ہے اسی اثنائ میں مالدیپ کے صدر نے اقوام متحدہ سے باقائدہ شکایت بھی کی ریکارڈ پرہے کہ انڈیا ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے مالدیپ کو آسان قرضے اور انفراسٹرکچر کی ترقی کی پیشکش کی گئی جس سے مالدیپ کی جانب سے معذرت کر لی گئی لیکن انڈیا کی جانب سے کوششیں جاری ہیں تو ہمیں وہ میراثی یاد آ گیا جو اپنے رشتے کے لئے گاﺅں کے چوہدری کے گھر جا پہنچا اور چوہدری سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگ لیا اس کے ساتھ جو ہونا تھا ہوا خوب مار کھانے کے بعد جاتے ہوئے چوہدری سے پھر پوچھنے لگا کہ چوہدری صاحب تہاڈے ولوں فیر ناں ای سمجھاں۔آئیے اب نیپال چلتے ہیں نیپال کو انڈیا نے اس کی جغرافیائی مجبوریوں کے باعث بڑی بری طرح جکڑ رکھا ہے ایک عرصے سے نیپالی ایراسپیس انڈین سول ایوی ایشن اتھارٹی کے براہ راست کنٹرول میں ہے PIA کی نیپال میں تباہ ہونے والی پرواز کے شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں 1947 کے بعد سے نیپال عملی طور پر انڈیا کے اقتصادی نرغے میں ہے نیپال چونکہ locked land ملک ہے جو درآمدات کے لئے مکمل طور پر انڈیا پر انحصار رکھتا ہے نیپال کو کوئی ایسی چیز باہر سے درآمد کرنے کی اجازت نہیں جو انڈیا میں دستیاب ہے یعنی تقریبا صفر اور انڈین مصنوعات کی قیمتیں بھی نیپال کو وہی دینی پڑیں گی جو ہندوستانی حکومت مقرر کرے گی یعنی پائے ماندن نہ جائے رفتن حالانکہ وہ دنیا بھر میں اکلوتی ہندو ریاست ہے جس کے آئین میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جبکہ انڈیا خود کو مذہبی ریاست ہونے کے باوجود دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے خود کو سیکولر کہتا ہے انڈیا کی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ وہ نیپال کے اندر کہیں بھی گرفتاری سمیت کوئی بھی کار روائی کر سکتی ہیں جس کے لئے نیپالی اتھارٹیز کو اطلاع یا اجازت کی ضرورت نہیں جبکہ نیپالی ایجنسیوں کو انڈیا میں داخلے تک کی اجازت نہیں اجمل قصاب نامی شخص کو بھی نیپال سے ہی اٹھایا گیا تھا جس کا مقدمہ تاحال نیپالی سپریم کورٹ کے ریکارڈ پر ہے حال ہی میں نیپال میں نیا آئین تشکیل دیا ہے جس میں انڈیا کی مرضی کے نکات شامل نہ کرنے پر انڈیا سیخ پا ہے اور نیپال کے خلاف شدید پابندیاں لگائے بیٹھا ہے جو عملا نیپال میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد سے نافذ ہیں انڈیا نے نیپال کی تمام سپلائیز جن میں ایندھن دوائیاں خوراک آلات اور زندگی کی باقی ضروریات کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی پاداش میں برطانوی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد ختم کردی گئی ہے جو انڈیا 1947ءسے برطانیہ سے حاصل کر رہا تھا (…. جاری ہے)