- الإعلانات -

فنکار لوگ

معشوقِ ما بہ شیوہ ہر کس موافق است
باما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد
(ترجمہ: میرے محبوب کی عادتیں بھی ہر کس و ناکس سے موافقت رکھتی ہیں۔ ادھر وہ میرے ساتھ بیٹھ کر شراب پی لیتا ہے اور ادھر زاہد کے ساتھ نماز بھی پڑھ لیتا ہے۔)گماں ہوتا ہے کہ یہ شعر ہمارے سیاستدانوں کی غایت ہی لکھا گیا تھا۔ کس قدر صادق آتا ہے یہ شعر ہمارے بیشتر سیاستدانوں کے اعمال و خصائل پر۔ اس خصلت کے حامل ایسے شعبدہ باز ہیں کہ ان آنکھوں میں دھول جھونک کر مفاد حاصل کرنے کی مہارتِ تامہ دیکھ کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں نو کا آکڑہ ہے۔ مسلم لیگ ن مشرق میںہوتی ہے تو تحریک انصاف مغرب میں۔ پشاور حملے جیسے چند ایک واقعات کے سوا کبھی ان دونوں جماعتوں میں کسی معاملے پر اتفاق نہیں ہو پایا۔ ان چند واقعات پر ان کا ایک ہونا بھی مجبوری تھی کہ ان واقعات پر پورا پاکستان یکسو ہو گیا تھا اور کسی سیاسی پارٹی کا الگ موقف اختیار کرنا اس کی سیاسی موت پر موقوف ہوتا۔ دونوں جماعتوں کی اس قدر مخاصمت کے باوجود یہ ذاتی مفاد کے پجاری سیاستدان کس چالاکی اور ڈھٹائی بلکہ بے حسی سے دونوں طرف بیٹھے نظر آتے ہیں اور ہر طرف سے فیوض و برکات سمیٹ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی۔ وہ جو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو رگیدتے نہیں تھکتے تھے انہوں نے اس آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ ن کو وہ ”میٹھی مار“ دی کہ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ وہ بڑے فنکار ہیں جو ایک ہی وقت میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں سے مفاد حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی تعداد بہت مختصر ہے ۔ مگر ایسے لوگ جو ہر دور حکومت میں برسراقتدار جماعت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ان کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو پرویزمشرف ساختہ ق لیگی حکومت میں اعلیٰ مراتب پر فائز رہے۔ اس وقت انہوں نے میاں نواز شریف اور ان کی 98ءکی حکومت پر جو تیراندازی اور دشنام طرازی کی اس کی ویڈیوز جب آج ان کے سامنے لائی جاتی ہیں تو شرمندہ تک نہیں ہوتے، کہ شرم تو ان کو چھو کر بھی نہیں گزری۔ الٹا اپنے ان کھلے بیانات کی انتہائی بھونڈے انداز میں تردید کرتے پائے جاتے ہیں گویا سننے والے احمق ہیں اور انہیں ویڈیو میں کھلے لفظوں میں ان کی میاں نواز شریف کو سنائی گئی صلواتیں سمجھ نہیں آتیں۔ اس وقت میاں نواز شریف کو کرپٹ تر اور نااہل ترین لیڈر گرداننے والے آج انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ایماندار اور اہل ترین لیڈر منوانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکثر سوچتا ہوں کہ ان کے کون سے بیانات کا یقین کروں، وہ جو انہوں نے ماضی میں دیئے یا جو اب دے رہے ہیں؟ مگر پھر خیال آتا ہے کہ ان کے ہر دو بیانات جھوٹ کا پلندہ ہیں کہ جھوٹے شخص سے سچ کی امید ہی عبث ہے۔ یہ صرف اپنے مفاد کے بندے ہیں، اس وقت پرویز مشرف کی تحسین اور ان کے دشمنوں کی تحقیر ہی باعث اجر و ثواب تھی، سو یہ کرتے تھے۔ آج میاں نواز شریف کی تحسین اوربشمول پرویز مشرف ان کے مخالفین کی تحقیر مفاد پرستی کا عین تقاضا ہے، پس یہ وہی کر رہے ہیں۔
یہ رویہ صرف سیاستدانوں ہی پر موقوف نہیں۔ ملک کے عوام بھی کچھ اسی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک میں حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں ، سکرین پرنٹنگ والوں اور پینٹرز کا کاروبار خوب بڑھتا ہے، کیونکہ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں گاڑیوں کی نمبرپلیٹوں کے رنگ اور نشان بھی تبدیل ہوتے ہیں، گاڑی کی پچھلی سکرین پر سائیکل کی جگہ تیر اور پھر تیر کی جگہ شیر لے لیتا ہے۔ ق لیگ کی جگہ پی پی پی اور پھر پی پی پی کی جگہ پی ایم ایل این کے الفاظ لے لیتے ہیں۔ اس سے جہاں گاڑی کے مالک کی لوگوں پر ”دھاک“ بیٹھتی ہے وہیں ٹریفک پولیس سے بھی کچھ رورعایت مل جاتی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ایک بار پانچ سو روپیہ لگا کے نمبرپلیٹ تبدیل کرو اور جب تک حکومت ہے سڑکوں پر من مانی کرو اور اس پر مستزاد یہ کہ ساتھ ساتھ ”تبدیلی“ کے نعرے بھی لگاتے جاﺅ اور ان ”باریاں“ لینے والے سیاستدانوں کا رونا بھی روتے جاﺅ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے گا کہ جوتے کس کو پڑنے چاہئیں، دو چہروں والے سیاستدانوں کو یا کئی چہروں والے عوام کو؟آپ نے بھی دیکھ رکھا ہو گا کہ سڑک پر جیسے ہی ٹریفک پولیس کا اہلکار انہیں روکتا ہے، ان کا ہاتھ جھٹ سے جیب میں جاتا ہے اور ایک کارڈ برآمد ہوتا ہے، کسی سیاسی شخصیت کا دستخط شدہ وزٹنگ کارڈ، اکثر فون پر اہلکاروں کی کسی شخصیت سے بات کرواتے نظر آتے ہیں۔اگر چاہتے ہو کہ تم پر حکمران اچھے آئیں تو خود اچھے کیوں نہیں ہوتے؟ اگر تم نے کسی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اپنا چالان کیوں نہیں کرواتے؟ اور اگر تم نے کوئی غلطی نہیں کی تو ڈر کاہے کا؟آپ کے بس یہی تک چلتا ہے، آپ اتنی ہی کرپشن کر سکتے ہیں۔ حکمران کا بس بہت دور تک چلتا ہے، وہ اسی حساب سے کرپشن کر رہے ہیں۔ آپ میں اور ان میں فرق؟ خود کو اس سوال کا جواب دیجیے اور مطمئن ہو کر بیٹھ رہیے۔