- الإعلانات -

2040ءمیں اسلام امریکہ و یورپ کا بڑا مذہب بن جائےگا

اسلام دنیا کے مختلف غیر مسلم ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور تمام تر منفی پروپیگنڈا کے باوجود لوگ اب بھی اپنی زندگی میں تمام مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرتے نظر آرہے ہیں اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو 2040 ءتک اسلام امریکا کا دوسرا بڑا مذہب ہوگا۔
امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا میں 33 لاکھ مسلمان بستے ہیں اور ان کی تعداد 2050ءتک د±گنی ہوجائے گی جب کہ مسلمانوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو ان کی تعداد یہودیوں سے بھی بڑھ جائے گی اور اسلام 2040 ءتک امریکا کا دوسرا بڑا مذہب بن جائے گا۔ اسی طرح ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ مسلم امریکن آبادی کا تناسب بھی ایک فیصد سے بڑھ کر د±گنا ہوجائے گا۔
تحقیق کے مطابق 2010ءسے 2015ءکے درمیان مسلمان آبادی میں نصف اضافہ تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے ہے جب کہ مسلمانوں میں پیدائش کا تناسب بھی دیگر مذاہب کی آبادیوں سے زیادہ ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ شہروں میں مسلمانوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی زیادہ ہے تاہم مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ہندوستان میں مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان نوجوانوں کی آبادی 47 فیصد، ہندو 40 فیصد جبکہ جین کمیونٹی 29 فیصد ہے۔ ملک میں 19 سال کی عمر کے سب سے زیادہ مسلمان نوجوان ہیں۔ہندوستان میں بسنے والے اگر تمام مذاہب کی آبادی کو ملایا جائے تو یہاں رہنے والی 41 فیصد آبادی بیس سال کی عمر سے کم لوگوں کی ہے۔ 60 سال کی عمر سے اوپر کے لوگوں کی تعداد صرف 9 فیصد بنتی ہے۔ بیس سے پچیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد آبادی کا 50 فیصد ہے۔مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں مختلف مذاہب کے بچوں کے تناسب میں کمی آئی ہے اور بزرگوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غور طلب ہے کہ 2001ءکی مردم شماری کے مقابلے میں نوجوان آبادی میں کمی آئی ہے۔ 2001 ءمیں ہندوستان کی کل 45 فیصد آبادی میں نوجوان شامل تھے جن میں 44 فیصد ہندو، 52 فیصد مسلمان اور 35 فیصد جین تھے۔ ان اعدودوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں آبادی بڑھنے کی شرح میں کمی آئی ہے۔ سب سے زیادہ گرواٹ ہندو، عیسائی اور بدھ مت مذہب میں آئی ہے۔ اس کے بعد سکھوں اور جینوں میں یہ گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمان بزرگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ مسلمانوں میں 60 یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد آبادی کا صرف چھ اعشاریہ چار فیصد ہے جو قومی اوسط سے کم ہے۔ 2001ءمیں ان کی تعداد پانچ اعشاریہ آٹھ تھی۔ جین اور سکھ مذہب کے بزرگوں کی آبادی 12 فیصد ہے جو قومی اوسط سے 30 فیصد زیادہ ہے۔واشنگٹن کے پیو ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اگلی چار دہائیوں میں عیسائی مذہب سب سے بڑا مذہبی گروہ بنا رہے گا لیکن کسی بھی مذہب کے مقابلے میں اسلام تیزی سے پھلے گا۔ اس وقت دنیا میں عیسائیت سب سے بڑا مذہب ، اس کے بعد مسلمان اور تیسری بڑی آبادی ایسے لوگوں کی ہے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔اگلے چار عشروں میں دنیا کی آبادی 9 ارب تیس کروڑ تک پہنچ جائے گی اور مسلمانوں کی آبادی میں 73 فیصد کا اضافہ ہو گا۔اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2070ءتک اسلام سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ جب کہ عیسائیوں کی آبادی 35 فیصد بڑھے گی اور ہندوو¿ں کی تعداد میں 34 فیصد اضافہ ہو گا۔اس وقت مسلمانوں میں بچے پیدا کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی اوسطاً ہر خاتون 3عشاریہ ایک بچوں کو جنم دے رہی ہے۔ عیسائیوں میں ہر خاتون اوسطاً 2عشاریہ 7 بچوں کو جنم دے رہی ہے اور ہندوو¿ں میں بچے پیدا کرنے کی اوسط شرح 2 عشاریہ چار ہے۔آنے والے عشروں میں عیسائی مذہب کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔چار کروڑ افراد عیسائی مذہب اپنا لیں گے وہیں دس کروڑ 60 لاکھ لوگ اس مذہب کو چھوڑ دیں گے۔ اسی طرح ایک کروڑ 12 لاکھ لوگ اسلام کو اپنائیں گے وہیں تقریباً 92 لاکھ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔2010ءمیں پوری دنیا کی 27 فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر کی تھی، وہیں 34 فیصد مسلمان آبادی 15 سال سے کم کی تھی اور ہندوو¿ں میں یہ آبادی 30 فیصد تھی۔ اسے ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دنیا کی آبادی کے مقابلے زیادہ تیز رفتار سے بڑھے گی اور ہندو اور عیسائی اسی رفتار سے بڑھیں گے جس رفتار سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے ،جس میں سے ایک ارب 60 کروڑ سے زائد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ عالمی سطح پر اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے جب کہ دنیا کا ہر چوتھا فرد مسلمان ہے۔ دنیا کی آبادی کا25 فیصدحصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جس میں آئندہ 20 برس میں 35 فیصد اضافہ ہو جائیگا اور 2030 ءتک مسلمانوں کی آبادی 2 ارب 20 کروڑ سے تجاوز کر جائیگی۔اس وقت دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں سے 55 کے لگ بھگ ممالک مسلمان ہیں جب کہ دنیا کے 55 سے زائد ممالک میں اکثر مسلمان اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔ دنیا کے باقی ممالک میں مسلمانوں کو کم اقلیت میں شمار کیا جا تا ہے ،تاہم مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہور ہا ہے۔آئندہ 20 سال میں اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب ہوگا اور مساجد کی تعداد گرجا گھروں سے تجاوز کرجائے گی۔