- الإعلانات -

انڈیا اور پڑوسی ممالک (چوتھی قسط)

ہر طرح سے نیپال کی کلائی مروڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ نیپال پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکے اور نیپال انڈیا کی طفیلی ریاست بنا رہے تاکہ انڈین حکومت اور انڈین کمپنیاں نیپالی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھیں جس میں معدنیات اور جنگلی وسائل شامل ہیں انڈیا کی نظریں نیپال کی ندی نالوں اور دریاﺅں پر ہے تاکہ وہاں پر ڈیم بنا کر بجلی پیدا کریں اور وہاں سے یہ بجلی انڈیا کے صنعتی سیکٹر کو دی جائے جس کی انڈیا میں شدید قلت ہے انڈیا میں توانائی کا بحران اس قدر شدید ہے کہ دارالحکومت دہلی تک میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے نیپال میں دریاﺅں اور ندیوں میں بجلی ہیدا کرنے کی گنجائش کا اندازہ 42000 میگاواٹ کے قریب ہے انڈیا کی کوشش ہے کہ نیپال کو بلیک میل کر کے اس کی زراعت اور پانیوں کا پورا potential استعمال کریں اور نیپال کو کچھ نہ دیں اور بدستور اپنا دست نگررکھیں نیپال کے اندر مواصلات جس میں سڑکیں ٹرانسپورٹ اور دیگر نقل و حمل کے وسائل محدود ہیں اگر کوئی بیرونی طاقت نیپال میں ڈویلپمنٹ کرنا چاہتی ہے یا کوئی غیر ملکی بنک یا مالیاتی ادارہ سرمایہ کاری کرنا چاہے تو سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا بن جاتا ہے جو نہیں چاہتا کہ نیپال خوش حال ہوکر ہمارے کنٹرول سے نکل جائے لیکن اب نیپال کی سیاسی قیادت میں پڑھے لکھے لوگ آرہے ہیں جن کا اپنا قومی vision ہے جو بالکل واضح ہے انہوں نے انڈین پالیسیوں کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے اور ہر روز انڈیا کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں موجودہ نیپالی حکومت نے انڈیا کی جانب سے مکمل ناکہ بندی کے بعد اپنے ہاں ایندھن کی راشننگ شروع کر رکھی ہے جس میں عوام حکومت کے ساتھ بخوشی تعاون کر رہے ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ انڈیا نے یہ بحران پیدا کر رکھا ہے جس کا مقصد نیپالی حکومت کو مجبور کرکے نیپال دشمن اور انڈیا کے مفاد کی پالیسیاں بنائے اور اب نیپال کی جانب سے چین کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے چین سے رابطہ گو بہت دشوار گزار ہے اور خاصہ دور پڑتا ہے لیکن چین ان نیپالی رابطوں کا مثبت جواب دے رہا ہے کوشش کررہا ہے شمال مشرق کی جانب سے نیپال تک سڑک بنا دی جائے اور نیپال اپنی ساری تجارت انڈیا کی بجائے چین کے ساتھ کرے اور اگر اس سڑک کی تعمیر پر عمل درآمد ہو گیا تو نیپال انڈیا کی بلیک میلنگ سے نکل آئے گا جس سے نیپال ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے عام نیپالی انڈیا کی ان حرکتوں سے جو کسی بھی بڑے ملک کے شایان شان نہیں انڈیا سے متنفر ہوتا جارہا ہے اور عوام حکومتی حلقوں پر دباﺅ ڈال رہی کہ انڈیا کی بلیک میلنگ میں نہ آئے اور عوام حکومت سے ہر طرح کا تعاون کر رہے ہیں سپلائی میں کمی اور راشننگ کو بخوشی برداشت کر رہے ہیں آئیے اب ایک نظر بھوٹان پر ڈالی جائے جو نیپال اور ہندوستان کی پڑوسی اور ہندوستان کے شمال میں واقع ریاست ہے وہاں بھی کم و بیش نیپال کی سی صورت حال ہے آس کارقبہ38394 مربع کلومیٹر ہے آبادی 742732 نفوس پر مشتمل ہے انڈیا نے TALA میں بہت بڑا ہائڈرو پاور پلانٹ قائم کر رکھا ہے جس کی مکمل سپلائی انڈیا کو جاتی ہے اور بھوٹان کو اصل قیمت کا عشر عشیربھی نہیں ملتا جو اس کا حق بنتا ہے یہاں کی بادشاہت بھی انڈیا کے رحم وکرم پر ہے وہاں کی سیاحت اور زراعت کا سب بڑا مستفید ہونے والا انڈیا ہی ہے انڈین کرنسی کو انڈیا نے وہاں کی سرکاری کرنسی کا درجہ دلا رکھا ہے اور مقامی کرنسی کہیں ہے کہ نہیں ہے اور اس کو بھی انڈین کرنسی سے منسلک کرکے رکھا گیا ہے تمام وسائل پر پہلا حق انڈیا کا ہی ہے ان کی اقتصادیات بھی براہ راست انڈین کنٹرول میں ہیں ان کی پارلیمنٹ میں بھی ارکان کی اکثریت ہندوستانی ہے اور انڈیا ہی کو جواب دہ ہے اب انڈیا وہاں نئے ڈیم بنانے جا رہا ہے جہاں 30000 میگا واٹ کی گنجائش ہے لیکن بجلی صرف انڈیا ہی کو جائے گی بادشاہ جگمے سنگھے نے انڈین خاتون کو ملکہ بنا رکھا ہے اور سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ خاتون کس کے لئے کام کر رہی ہوگی انڈیا اپنی سیاحت بڑھانے کے لئے دارالحکومت تھمپو تک ریلوے لائین لا رہا ہے جو آسام سے دارالحکومت تھمپو تک جائے گی اور 18کلومیٹرطویل ہوگی بھوٹان جنگلات اور انواع اقسام پھلوں پھولوں اور جڑی بوٹیوں کی پیداوار کا ملک نہایت خوبصورت خطہ زمین ہے کم آبادی وجہ سے اس کے تمام وسائل وافر ہیں اور فی کس آمدنی 2000 ڈالر سے زیادہ ہے مقامی وسائل مکمل طور پر انڈیا کے تصرف میں ہیں یہ ملک بھی بیرونی دنیا تک رسائی کے لئے انڈیا کا محتاج ہے مشرق میں چین ہے جس سے دوستی کی قیمت بہت بھاری ہوسکتی ہے ویسے بھی دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے ج?اں تھانزا کے مشرق میں گلیشیئر پہ چین سے کچھ سرحدی معاملات طے ہونا باقی ہیں جو انڈیا کی رضامندی سے مشروط ہے اور انڈیا بوجوہ اس مسئلہ کو زندہ رکھنا چاہتا ہے حالانکہ تھمپو چین کا موقف تسلیم کر چکا ہے معاملات فورا آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے اور بھوٹان کا حال بھی نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن والا۔