- الإعلانات -

پٹھانکوٹ دہشت گردی کیا ٹیلرڈ آپریشن ہے؟

قارئین کرام !پاکستان بھارت جامع مذاکرات کے پس منظر اور پیش منظر میں 2 جنوری 2016 ءکو بھارتی ایئر بیس پٹھانکوٹ میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے دانشوروں اور تھنک ٹینک کےلئے ایک معمہ بنی ہوئی ہے ۔اِس وقوعہ کے فوراً بعد ہی ایک بھارتی ایلیٹ ایجنسی کے ایجنٹوں کی خاموش ہدایت پر بھارتی میڈیا نے بغیر کسی شواہد کے اِس دہشت گردی کی واردات کا ذمہ دار مبینہ طور پر پاکستان سے آئے ہوئے دہشت گردوں کو ٹھہراتے ہوئے اِس دہشت گردی کا جال بھی پاکستان اور مقتدر پاکستانی اداروں کے گرد بُنا شروع کر دیا تھا ۔جبکہ نہ تو بھارتی وزارت خارجہ امور کی جانب سے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا اور نہ کوئی احتجاجی نوٹ حوالے کیا گیا ۔البتہ بھارت میں دہشت گردی کی اِس واردات کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا گیا اور دہشت گردی کی اِس واردات کے خلاف مکمل تعاون کا یقین دلایا تو بھی بھارتی میڈیا کی اِس مہم جوئی میں کسی نوعیت کی کمی نہیں آئی بلکہ مزار شریف میں بھارتی قونصلیٹ پر افغان دہشت گردوں کے حملے کو بھی پٹھانکوٹ حملے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ دریں اثنا بھارتی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے مبینہ سہولت کاروں ، لباس، ذاتی استعمال کی چیزوں ، موبائل فون اور اسلحہ و ایمونیشن کے حوالے سے دی گئی معلومات کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی گئی جسے بھارتی موقف کے شواہد کو سمجھنے اور مزید تحقیقات کےلئے بھارت بھیجنے کی بات کی گئی ہے ۔ ابھی اِس اَمر کی وضاحت نہیں ہوئی ہے کہ کیا بھارت اِس کمیٹی کے اراکین کو کسی نتیجے پر پہنچنے کےلئے پٹھانکوٹ جا کر وقوعہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دیگا یا اِسے نئی دہلی میں ہی بریفنگ دیکر فارغ کر دیا جائیگا ؟
یہاں اِس اَمر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ گذشتہ برس پاکستان مخالف منشور پر لوک سبھا انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد نریندر مودی سرکار نے پاکستان کےساتھ جامع مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ایک انوکھا کھیل کھیلنا شروع کیا ہے جسے بظاہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے عسکری ونگ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی حمایت حاصل ہے ۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کےلئے سارک تنظیم کے ممالک کے سربراہانِ حکومت کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی گئی۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت کی اور جامع مذاکرات شروع کرنے کےلئے مودی کو خط لکھا تو بھارت نے پاکستان کےساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کےلئے مشیر خارجہ کی سطح پر بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن مشیر خارجہ اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو متنازع کہنے پر نہ صرف مذاکرات ملتوی ہوگئے بلکہ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیر کنٹرول لائین اور سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری پر معصوم شہریوں پر گولہ باری کو روزمرہ کا معمول بنا دیا گیا ۔ نیپال میں سارک کانفرنس ہوئیں تو دونوں وزراءاعظم کے درمیان خفیہ ملاقات کا چرچا بھی ہوا جس کی گرم جوشی کی ایک جھلک پیرس میں نریندر مودی ، نواز شریف ون ٹو ون ملاقات میں بھی دیکھنے میں آئی۔ اندریں حالات، چونکہ پاکستان میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا اور بھارت کےلئے اِس کانفرنس میں شریک ہونا خطے میں بھارتی اسٹرٹیجک مفادات کے زمرے میں آتا تھا لہذا پیرس ملاقات میں نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم کےساتھ ون ٹو ون ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کی بحالی کا عندئیہ پھر سے دے دیا۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کےلئے اسلام آباد تشریف لائیں اور کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس نئی دہلی جاتے ہوئے پاکستان کےساتھ تمام مسائل پر سیکریٹری لیول جامع مذاکرات شروع کرنے کا اعلان بھی کر گئیں ۔ یہ درست ہے کہ بھارت واپسی پر اُنہیں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیالیکن اُنہوں نے ایک مرحلے پر یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ خطے میں مفاہمت کے عمل کو دہشت گردی کی وارداتوں کی وجہ سے روکا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ توقع کی جا رہی تھی کہ خطے میں جاری دہشت گردی کی وارداتوں کے باوجود خارجہ سیکریٹری لیول پر دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کی ابتدا 15 جنوری کو ہو جائیگی لیکن بھارت کی جانب سے متوقع تاریخ کے اعلان پر غیر معمولی خاموشی روا رکھی گئی ۔ دریں اثنا ، جامع مذاکرات کی بحالی کی توقعات کو مزید تقویت اُس وقت ملی جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے میاں نواز شریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر 25 دسمبر کو اچانک لاہور کے دورے میں تحفے تحائف کا تبادلہ کیا۔ لیکن پھر دو جنوری 2016ءکو پٹھانکوٹ دہشت گردی کا واقعہ ظہور پزیر ہوگیا اور پاکستان کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی تشکیل کے باوجود جامع مذاکرات کا معاملہ ایک مرتبہ پھر بھارت کی صوابدید پر ہے جبکہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کےلئے نئی دہلی میں پی آئی اے کے دفتر پر انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے حملہ کیا ہے اور جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ کو بظاہر بھارتی حمایت یافتہ طالبان نے خودکش حملے کا نشانہ بنایا ہے۔
اندریں حالات ، انسداد دہشت گردی کی شُد بُد رکھنے والے بیشتر دانشور پٹھانکوٹ دہشت گردی پر بہت سے سوالات اُٹھا رہے ہیںجن میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ پٹھانکوٹ دہشت گردی کیا ٹیلرڈ آپریشن ہے ۔بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی اِس مبینہ واردات میں پاکستان سرحد سے 30 کلو میٹر سے زیادہ دُور فاصلے پر بھارتی پنجاب کے سب سے بڑے کنٹونمنٹ پٹھانکوٹ جہاں 2 اِنفینٹری ڈویژن اور دو آرمڈ بریگیڈ کے تقریباً پچاس ہزار فوجی تعینات ہیں ، میں واقع MIG 21 کی وسیع و عریض ایئر بیس جسے 11 فٹ اونچی حفاظتی دیوار سے محفوظ بنایا گیا ہے میں پانچ سے سات دہشت گرد بھاری اور وزنی اسلحہ لیکر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس اور ایئر بیس سیکیورٹی کی نظر میں آئے بغیرکس طرح ایئر بیس کے رہائشی علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ چند روز قبل ہی بھارتی سینٹرل انٹیلی جنس بیورو سیکیورٹی الرٹ جاری کر چکی تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس بیورو نے نئی دہلی ہیڈکوارٹر سے کس کے کہنے پر یہ الرٹ جاری کیا تھا اور اِس سیکیورٹی الرٹ کے بعد پٹھانکوٹ ایئر بیس پر سیکیورٹی بیف اَپ کےلئے کیا اقدامات لیئے گئے تھے جنہیں ناکام بنا کر مبینہ دہشت گرد ایئر بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ دہشت گردی کے اِس ٹیلرڈ آپریشن کا سب سے کمزور پہلو ایئر بیس پر حملے سے دو روز قبل یعنی 31 دسمبر کو رات 11 بجے ایس پی پولیس سلوندر سنگھ کی گاڑی روک کر جسے اُن کے دوست راجیش ورما چلا رہے تھے جسے فوجی وردیوں میں ملبوس دہشت گردوں نے بازاری انداز میں سلوندر سنگھ اور اُن کے باورچی مدن گوپال کو باندھ کر قریبی جنگل میں نالے میں پھینک کر اُن کی گاڑی مہندرا XUV پر قبضہ کیا اور ساتھ ہی ایس پی کا موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گرد وں کے جانے کے بعد ایس پی سلوندر سنگھ نے اپنے آپ کو زور لگا کر آزاد کیا اور قریبی گاﺅں میں جا کر اپنے سینئر آفیسرز کو اِس وقوعہ سے آگاہ کیا ۔ یہ واقعہ 31 دسمبر کی رات کو وقوع پزیر ہوتا ہے جس کی اطلاع چند گھنٹوں کے اندر ہی پولیس سیکیورٹی اداروں کو مل جاتی ہے جبکہ ایئر بیس پر دہشت گردوں کا حملہ دو روز بعد یعنی 2 جنوری کو صبح ساڑے تین بجے ہوتا ہے ۔جہاں فائرنگ کے تبادلے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت کئی بھارتی اہلکار مارے جاتے ہیں ۔یہ بھی درست ہے کہ مبینہ دہشت گرد نہ تو رہائشی کمپاﺅنڈمیں کسی کو یرغمال بنا سکے تھے اور نہ ہی ایئر بیس کے آپریشن ایریا میں پہنچ پائے تھے تو 48 گھنٹے تک مقابلے میں تمام دہشتگردوں کو جان سے مارنے کے بجائے اِنہیں زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ ایس پی سلوندر سنگھ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اُن سے مناسب پوچھ گچھ کئے جانے کے بجائے اُنہیں فوری طور پر ٹرانسفر کرکے جالندہر پولیس اکیڈمی میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ کے طور پر تعینات کر دیا گیا،کیوں ؟ سلوندر سنگھ کے بارے میں ڈرگ اسمگلروں سے تعلقات کے شبہات کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیر کمان خاتون پولیس کانسٹبلوں سے چھیٹر چھاڑ کرتے رہتے تھے جس پر پانچ کانسٹیلوں نے اُن کے خلاف جنسی ہراس منٹ کی گمنام درخواست بھی دائر کی تھی۔
معزز قارئین، سلوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ رات کے وقت دعا کےلئے اپنے دوست کے ہمراہ کسی زیارت گاہ تک گئے تھے، ناقابل فہم بات ہے جبکہ ایسے ہی اوقات میں ڈرگ اسمگلر اپنی کاروائیوں کےلئے نکلتے ہیں ۔کیا اِن مبینہ دہشت گردوں کا تعلق بھی قبائلی ڈرگ مافیا اور ان کے مقامی سپورٹ گروپ سے تھاکیونکہ سلوندر سنگھ کے بیان کےمطابق یہ دہشت گرد آپس میں اُردو، پنجابی اور ہندی میں گفتگو کر رہے تھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر مبینہ دہشت گرد ڈرگ اسمگلر نہیں تھے اور دہشت گردی کے خطرناک مشن پر تھے تو پھر اُنہوں نے ایس پی سلوندر سنگھ اور اُن کے ساتھیوں کو محض باندھ کر جنگل نالے میں زندہ کیوں چھوڑ دیا جہاں سے وہ معمولی زور آزمائی کے بعد اپنے آپ کو آزاد کرکے نزدیکی گاﺅں تک پہنچنے میں کامیاب ہو ئے ۔ چنانچہ دہشت گردی کی اِس کہانی میں واضح جھول ہونے کے سبب یہی محسوس ہوتا ہے کہ مودی سرکار اپنی جدوجہد کے تسلسل سے جلال آباد، واہگہ یا قندھار، کراچی زمینی تجارتی راہداری کے حقوق نچوڑنے کےلئے ایک جانب تو اِسٹیل ٹائیکون سجن جندال کے ذریعے دوستی کا کھیل کھیل رہی ہے اور دوسری جانب پاکستان کےساتھ کسی نتیجہ خیز جامع مذاکرات میں مخلص نہیں ہے ۔ ختم شد