- الإعلانات -

پاکستان فریق نہیں خیر خواہ ہے

جناب وزیر اعظم پاکستان سعودی عرب اور ایران کے دورے پر ہیں۔جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں یہ وفد سعودی عرب میں ہے اور جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے وزیر اعظم اور آرمی چیف ایران میں ہوں گے۔ پیغام بہت واضح ہے: پاکستان اس تنازعے میں فریق نہیں بلکہ ایک خیر خواہ ہے جس کے ہاں دونوں برادر اسلامی ممالک کے لیے نیک جذبات پائے جاتے ہیں۔یہ بہت ہی غیر معمولی فیصلہ ہے اور پاکستانی قیادت اس پر مبارک کی مستحق ہے۔
باتیں تو ہوتی رہیں کہ سعودی عرب یا ایران؟ لیکن یہ سرے سے کوئی آپشن ہی نہ تھا۔پاکستان کے لیے کسی ایک کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا ساتھ دینا ممکن ہی نہ تھا۔سعودی عرب کو لے لیں۔یہ ہماری محبتوں کا مرکز ہے۔یہاں وہ پاک مراکز ہیں جن کی حرمت پر جان دینا دنیا کی عظیم ترین سعادتوں میں سے ایک ہے۔کوئی مسلمان سوچ بھی کیسے سکتا ہے یہ مقامات خطرے میں ہو اور وہ جان پر کھیل نہ جائے۔مذہبی واسطہ اتنا مضبوط ہے کہ اس سے طاقتور کچھ ہے ہی نہیں۔پھر ہر اچھے برے وقت میں سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور قابل اعتماد دوست ہے۔ہزاروں پاکستانیوں کا وہاں روزگار بھی وابستہ ہے۔گویا بہت سارے عوامل ہیں جن کیی بنیاد پر سعودیہ کو نظر انداز کیا ہی نہیں جا سکتا۔
دوسری جانب ایران ہے۔ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ ایران وہ پہلا ملک ہے جس نے 1947 میں سب سے پہلے پاکستان کی ریاست کو تسلیم کیا۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے اپنا پہلا سٹیٹ وزٹ ایران کا کیا تھا۔ایران میں اقبال کو جو مقام حاصل ہے وہ سب کے سامنے ہے۔قائد اعظم کو بھی ایران نے بہت عزت دی اور ان کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔پھر ایران ہمارا پڑوسی بھی ہے۔پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایران سے وابستگی رکھنے والوں کی ہے۔پاکستان دونوں میں سے کسی ایک کے خلاف جا ہی نہیں سکتا تھا۔
اب چیلنج یہ تھا کہ پاکستان دونوں کو کیسے ساتھ لے کر چلے۔۔۔یہ آگ ایسی تھی کہ بھڑک اٹھتی تو پاکستان براہ راست متاثر ہوتا۔اس پس منظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے پاکستانی قیادت نے انتہائی موزوں مناسب اور بر محل فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی قیادت کے سامنے چیلنج بہت بڑا ہے۔ایران اور سعودیہ کے مابین تعلقات کی کشیدگی ایک کھلا راز ہے ۔اس کی وجوہات سیاسی بھی ہیں اور مذہبی بھی۔عرب دنیا میں ایران کو ہمیشہ ایک خطرہ سمجھا گیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایران عراق جنگ میں سوائے شام کے ساری عرب دنیا نے صدام کا ساتھ دیا ۔اور جب صدام پر امریکی حملہ ہوا تو ساری امریکی مخالفت ایک طرف رکھ کر ایران نے نئے سیٹ اپ میں اپنے لئے امکانات تلاش کرنا شروع کر دیے۔جون 2010 میںLe Figaro نے لکھاکہ شاہ عبد اللہ نے فرانسیسی وزیرِ دفاع ہرو مورن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دو ممالک ایسے ہیں جن کو رہنے کا کوئی حق نہیں ،ایک اسرائیل اور دوسرا ایران۔جون 2009 میں سعودی شہزادے فیصل نے ہیلری کلنٹن کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی خطرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ محض پابندیوں تک نہ رہا جائے بلکہ فوری اقدامات کیے جائیں۔۔ایران اپنے انقلاب کو ساری اسلامی دنیا میں ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہے اور یہ چیز ظاہر ہے کہ بہت سے ممالک کیلئے قابل قبول نہیں۔چنانچہ اسلامی دنیا عرب اور ایران کے درمیان جاری سرد جنگ کا میدان بن گئی ہے۔خود پاکستان میں جاری فرقہ وارانہ لڑائی بعض دانشوروں کے نزدیک دوبرادر اسلامی ممالک کا تنازعہ ہے۔اگر یہ تنازعہ ختم ہوتا ہے تو امن کے پھول پاکستان میں بھی کھل اٹھیں گے۔
اعتدال ہی ہمیں اس تازہ دلدل سے نکال سکتا تھا۔مقام شکر ہے پاکستان نے ٹھیک فیصلہ کیا۔ہمارے لئے دونوں ہی ملک اہم ہیں۔اگر ہم سعودی عرب کی قیمت پر ایران سے تعلق استوار کرتے تو ظاہر ہے یہ ایک غیر حکیمانہ بات ہو تی لیکن اگر ہم سعودی عرب کی وجہ سے ایران کو بالکل ہی نظراندازکر دیتے ہیں تو یہ رویہ بھی فہم و دانش کے اب میں نہیں لکھا جا سکتا تھا۔پاکستان نے ایک بالغ نظری کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے۔دعا کی جانی چاہیے یہ فیصلہ مسلم دنیا کو قریب لانے کا باعث بن جائے۔