- الإعلانات -

یہ بھارتی فرسٹریشن کیوں ؟

بھارتی وزیر دفاع ” منوہر پریارکر “ نے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” ہندوستانی حکومت پاکستان کی اس تحقیقاتی ٹیم کو پٹھان کوٹ ہوائی اڈے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی جسے پاکستانی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد تشکیل دیا ہے تا کہ دہلی سرکار کے ان الزامات کی حقیقت کا جائزہ لیا جا سکے جو اس نے ماہِ رواں کے آغاز میں پٹھان کوٹ ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے ضمن میں لگائے تھے ۔ بھارتی وزیر دفاع نے مزید گوہر افشانی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ” ایک سال کے اندر بھارت پاکستان سے تمام امور کا بدلہ لے لے گا ۔ موصوف نے یہ باتیں جے پور میں ایک فوجی تقریب کے دوران کیں ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اعتدال پسند حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کی حالیہ فرسٹریشن اور غصہ در اصل درج وجوہات کی بنا پر زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے ۔ 1 : پاکستان کی جانب سے پندرہ جون 2014ءسے آپریشن ضرب عضب کے نام سے دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے جو مہم شروع کی گئی تھی ، وہ اتنی کامیابی سے جاری و ساری ہے کہ اس کے نتیجے میں وطن عزیز میں دہشتگردوں کی کمر بڑی حد تک توڑ کر رکھ دی گئی ہے اور ٹیررسٹ گروہوں کا انفرا سٹرکچر بری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔ جس کا اعتراف ساری دنیا کر رہی ہے ۔ 2 : کراچی میں جاری آپریشن کے نتیجے میں بھارت کے پروردہ عناصر کا زور بھی بڑی حد تک کم ہو گیا ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی دارالحکومت میں امن و امان کی فضا خاصی حد تک بحال ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں نارمل ہونے کی جانب رواں دواں ہیں اور عام شہریوں کے ذہنوں میں موجود خوف و ہراس کے احساسات کافی کم ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے پچھلے چند ماہ میں مذہبی اور قومی تہواروں پر کراچی میں بھر پور رونق دیکھنے کو ملی ۔
فاٹا اور بلوچستان میں بھی پاک افواج اور سول حکومت کے باہمی تعاون سے دہشتگرد عناصر کی سازشیں کافی حد تک دم توڑ چکی ہیں اگرچہ تا حال اس لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا مگر پہلے کی بہ نسبت قابلِ ذکر بہتری ہر خاص و عام کو نظر آتی ہے ۔
افغانستا ن میں حامد کرزئی کے دور میں تو بھارتی عناصر کو پوری طرح کھل کر کھیلنے کا موقع مل رہا تھا اور بھارتی خفیہ اداروں ” را “ اور ” آئی بی “ نے افغان اور پاکستانی عوام کے کے خلاف نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ۔ البتہ اشرف غنی ” حامد کرزئی “ ثابت نہیں ہو رہے اور دہلی سرکار کے تمام تر مکر و فریب ، دھونس دھاندلی اور مختلف طرح کے لالچ دینے کے باوجود وہ ہندوستان کے دام میں پوری طرح نہیں آ ئے جس کی وجہ سے بھارتی اسٹبلشمنٹ اور سیکورٹی فورسز بری طرح بد دلی کا شکار ہو رہی ہیں اور ان کو افغانستان میں اپنی کی گئی ساری انوسٹمنٹ ڈوبتی نظر آ رہی ہے کیونکہ جولائی میں افغانستان میں امن کے حوالے سے جومذاکرات مری میں ہوئے تھے ، ان میں بھی بھارت کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا گیا تھا ۔ اور اٹھارہ جنوری 2016ءکو کابل میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات میں بھی صرف افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ ہی شامل ہوئے ہیں ۔
اس سے ایک ہفتہ پہلے میں اسلام آباد میں ہونے والے مذکراتی دور میں بھی بھارت سے کسی نے نہیں پوچھا کہ وہ بھی افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے حصہ لے ۔ خود اشرف غنی کی حکومت اور امریکہ کی جانب سے بھی اس ضمن میں بھارت کو گھاس نہیں ڈالی گئی اسی وجہ سے بھارتی وزیر دفاع اور دیگر حکام حالت نا امیدی میں پاکستان کے خلاف بے سر و پا بیانات اور الزامات دھر رہے ہیں ۔گویا ”اک مرنے پہ ہو جس کی امید ، نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے “ بظاہر لگتا ہے کہ ہندوستان کا صبر جواب دیتا جا رہا ہے اور اس کو اپنے وہ عزائم خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں جو اس نے ایم کیو ایم ، ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے حوالے سے بنا رکھے تھے اور عالمی برادری بھی اب بھارتی دعووں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور بھارت سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سر زمین استعمال نہ کرے اور آپریشن ضرب عضب اور دہشتگردی کے خلاف نیشنل یکشن پلان کی راہ میں روڑے اٹکانے سے باز رہے ۔
ُُٓٓاپنی اسی ذہنی فرسٹریشن کے نتیجے میں بھارت کے حالیہ الزامات کو دیکھا جا نا چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے بہت زیادہ محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایسی نا امیدی کی کیفیت میں مبتلا کوئی بھی فرد یا گروہ پستی کی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں عالمی رائے عامہ بھی ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کرے گی ۔ علاوہ ازیں وطن عزیز کے سبھی متعلقہ حلقے زیادہ محتاط مگر موثر حکمت عملی اپنائیں گے ۔