- الإعلانات -

انڈیا اور پڑوسی ممالک(پانچویں قسط)

انڈیا ایک رابطہ سڑک تعمیر کر رہا ہے جو برما سے ہوتے ہوئے تھائی لینڈ لاﺅس کمبوڈیا اور ویت نام تک جائے گی جس پر زیادہ تر کام ہوچکا ہے جسے انڈیا ایسٹ ایشین سلک روٹ کا نام دے رہا ہے جو C-pec کی نقل ہی ہو سکتی ہے اس کے کئی ممکنہ مقاصد ہو سکتے ہیں ایک برما سے اپنے تعلقات اور رابطے بڑھانا اور اپنی مشرقی ریاستوں میں چلنے والی تحریکوں کے آگے بند باندھنے کی کوشش میں برما کا تعاون اور خوشنودی حاصل کرنا ہے کہ یہ انڈیا کی مجبوری ہے اگر برما ان تحاریک کو تھوڑا بھی support کرے تو یہ قدرتی وسائل سے مالا مال مشرقی ریاستیں انڈیا سے فورا الگ ہو کر آزاد ملک بن سکتے ہیں دوسرا مقصد آگے ویٹ نام تک کے قدرتی وسائل سے استفادہ وہاں کا سستا خام مال حاصل کرنا اور چین کے ان تمام پڑوسی ممالک کے چین ساتھ رابطوں کو کم کرنا بھی انڈیا کا ہدف ہیں برما تھائی لینڈ کمبوڈیا منشیات کا گولڈن ٹرائینگل کہلاتا ہے جہاں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ منشیات (افیون ) پیدا ہوتی ہیں بلکہ وہاں باقائدہ پرائیوٹ آرمی ہے جس کو پہلے خن سا کنٹرول کرتا تھا 1996 میں اس کے خود کو میانمار ( سابق برما )حکومت کے حوالے کرنے بعد اب بہت سی مافیاز ہیں جو اس علاقے پر کنٹرول رکھنے لگی ہیں جہاں سے افیون خچروں اور گھوڑوں پر میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحدی پٹی پر لائی جاتی ہے جہاں افیون سے ہیروئن بنانے کی فیکٹریاں ہیں وہاں افیون سے ہیروئن بنائی جاتی ہے جس لئے catalyst کیمیکل انڈیاسے آتا ہے وہاں ان وسائل سے استفادہ کرکے دہشتگردی کے لئے فنڈ اکٹھے کئے جا سکتے ہیں کہ دہشتگردی بہت مہنگا کام ہوتا ہے جس کے لئے بھاری رقوم کی ضرورت ہوتی ہےاور اب تو کئی سوال جنم لینے لگے ہیں کہ انڈیا دنیا بھر میں دہشت گردی کرواتا ہے بہت ممکن ہے افغانستان کے علاوہ یہاں سے وسائل tap کر کے دہشت گردی کے لئے استعمال کئے جاتے ہوں ایک اور مقصد انڈیا کا اس امریکی اور مغربی کھیل میں شرکت ہے جو امریکہ اور مغرب پچھلی کئی سالوں سے علاقے کے ملکوں کو ساتھ ملا کرچین کو گھیرنے کے لئے کھیل رہے ہیں اور چین کے میری ٹائم مفادات کو بہت سے خطرات لاحق ہو گئےہیں دوسری طرف انڈیا کی منافقت ملاحظہ فرمائیے کہ چین سےباہمی تجارت کا حجم بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے پچھلے کئی کالموں میں ہم مقتدر ہندوو¿ں کی نفسیاتی ساخت کے بارے میں عرض کر چکے کہ ان کے ذہنوں میں بھرا ایک خناس ہے کہ ہم عظیم اور ذہین (چالاک) قوم ہیں اور سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ رد عمل ہے اس محکومیت کا ہے جس سے یہ محکوم قوم کم ازکم پچھلے ایک ہزار سال سے گزری ہے 1947 میں جیسے آزادی ملی تو ان کو احساس ہوا اب ہم محکوم نہیں رہے لیکن قوموں کا یقین کسی فرد کی نسبت خاصی دیر بعد راسخ ہوتا ہے صدیوں کی غلامی کے بعد جب تک یہ یقیں نہ کر لیں کہ وہ واقعی آزاد اور خود ایک بہت بڑی ریاست کے مقتدر ہیں چھوٹے ملکوں سے چھیڑ چھاڑ اور توسیع پسندی سے ان کو لا شعوری طور پر یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہم واقعی آزاد اور بڑے ہیں یہ ایسا ہی ہے کوئی شخص ڈراﺅنا خواب دیکھتے دیکھتے اٹھ بیٹھے تو اس کو اس خواب کے اثرات سے نکلنے میں دیر لگتی ہے انڈیا کے اجتماعی لا شعور میں یہ بے یقینی موجود ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ چین انڈیا کا پڑوسی ملک ہے جب چین کو انڈیا نے دانستہ سرحدی تنازعات میں الجھایا یہ بھی انڈیا کے خبط عظمت ہی کا شاخسانہ ہے تب چین کوئی اقتصادی فوجی یا سیاسی طاقت نہیں تھا بلکہ مغرب اور امریکہ کا مطعون اور پابندیاں زدہ ملک اور ایک بند معاشرہ تھا اور ہندوستان کے سرپر مغرب کا دست شفقت ہمیشہ سے رہا چونکہ انڈیا نے 1948 سے بمبئی میں اسرائیل کا کمرشل اور رابطہ آفس کھول رکھا تھا تو اس ادا کی وجہ سے یہ مغرب کی آنکھ کا تارا بنا رہا یہی شہ پاکر اور چین کو حقیر سمجھتے ہوئے چین کے بہت بڑے علاقے پر اپنا دعوی داغ د یا جو demchok اور panning سے لیکر اکسائی چن تک پھیلا ہوا ہے یہ صرف ہماچل پردیش کی سرحد کی صورت حال ہے اور اروناچل پردیش ایک الگ معاملہ ہے جو بھوٹان کے جنوب میں آسام کے پاس کا علاقہ ہے انڈیا کی دوغلی حکمت عملی بہت نمایاں ہے ایک طرف چین سے سرحدی مخاصمت ہے چین کے خلاف مغربی پالیسیوں میں مغرب کی ہمنوائی دوسری طرف اسی چیں سے تجارت کا حجم بڑھانے کی کوشش اور چینی قیادت کی اعلی ترین سطح پر یہ بات پہنچائی گئی کہ اگر ہندوستان اور چین کے تعلقات پاکستان چین کے تعلقات کی سطح پر آجائیں اور چینی خارجہ پالیسی میں پاکستان کا درجہ گرا دیا جائے تو بھارت بہت کچھ بھولنے کو تیار ہے لیکن چینی قیادت جو کنفیوشس کی ذہانت کی وارث اور امین ہے جھانسے میں نہیں آئی اور چپ سادھ لی گئی انڈیا کو اپنی اوقات کا اندازہ ہے کہ چین ایک عظیم اقتصادی اور فوجی طاقت ہے اور اقوام متحدہ کی سیکیوریٹی کونسل کا مستقل ممبر اور ویٹو پاور بھی ہے انڈیا کو یہ سفر طے کرنے کے لئے ایک صدی چاہیے اور انڈیا جلد یا بہ دیر چینی موقف ماننے پر مجبور ہوگا یہی تاریخ کا جبر ہے لیکن بنیا ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آ رہا CIA سے مل کر چین کے علاقے ترکستان میں بھاری معاوضوں پر تخریب کار بھرتی کئے جا رہے ہیں جن کے ذریعے چین کے ان مسلم علاقوں میں جہاد کے نام پر بے چینی پیدا کی جا رہی ہے اور منشیات چین اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ چین میں ان جرائم پر سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں اور تمام حرکتوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اور مسلسل کی جا رہی ہے اور اس معاملے میں چینی قیادت سے کانا پھوسی کی جارہی ہے ابھی حال ہی میں نام نہاد انڈین جیمز بانڈ اجیت ڈوول نے چین جا کر کچھ نام نہاد ثبوت بھی پیش کرنے کی کوشش کی لیکن چینی قیادت حقائق سے لا علم نہیں اور حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔(جاری ہے)