- الإعلانات -

ایران سعودی عرب کشیدگی، پاکستان کی مصالحتی کوششیں

تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو عرب خطے میں باہمی تعلقات کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہے۔ باہمی اختلافات بسا اوقات اتنے کشیدہ رہے کہ جنگ وجدل کا ماحول بن جاتا، جیسے آجکل سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی انتہائی تشویشناک سطح تک چلی گئی ہے۔قبل ازیں سعودی عرب یمن سے بھی متصادم ہے۔ یہ صورتحال جہاںعرب خطے کے لئے تباہ کن ہوسکتی ہے وہاںپوری امت مسلمہ پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی اتنے تنازعات ہیں کہ اب ذرا سی اشعال انگیزی، عاقبت نا اندیشی اور جارحیت پر سب کف افسوس ہی ملتے رہ جائیں گے اور شام، فلسطین ،یمن تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی جاری کوششیں اس کشیدگی سے زائل ہوجائیں گی۔ ایسی صورتحال میں فلسطینی عوام اسرائیل کی کسی نئی جارحیت کا شکارہوکر خودمختیار فلسطینی ریاست کی منزل سے برسوں دورہو جائے گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ داعش کی صورت میں جو نئی تباہی جڑیں پکڑرہی ہے اسے مضبوط ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ خطے میں ترک روس کشیدگی جسمیں ایک منظم پلان کے ذریعے دونوںممالک کوٹکراﺅ کی کیفیت سے دورکیا گیا کے بعد ایران اور سعودی عرب کے مابین تصادم کا سب سے زیادہ فائدہ صرف اسرائیل اور داعش کو ہی پہنچے گا۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی تھی کہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مصالحتی کوششیں کی جاتیں۔عالمی برادری کی اولین ذمہ دری بنتی تھی کہ وہ چہ جائیکہ پرامن رہنے کیلئے محض اپیلوں سے کام لیتی،عملی اقدام اُٹھائے جاتے ۔ اقوام متحدہ جس کا قیام ہی تنازعات کے حل کیلئے کیا گیا تھا نے وہ کردار ادا نہ کیا جسکی ضرورت تھی ۔ صرف روس نے ثالثی کی پیشکش کی جسے سنا اَن سنا کردیا گیا۔ اگر اقوام متحدہ خطے کواس آتش فشانی صورتحال سے بچانے کیلئے بروقت کردار ادا کرتا تو کشیدگی قطعاً نہ بڑھتی۔ایسے میں پاکستان نے عرب خطے کے وسیع تر مفاد میں مصالحت کا بیڑہ اٹھایا ہے جو یقیناً لائق تحسین ہے۔ پاکستان کے دونوں برادر ملکوں سے نہایت قریبی اور دوستانہ روابط ہیں۔ دونوںممالک نے اپنی اپنی حیثیت میں پاکستان کا ہاتھ ہمیشہ ہی تھامے رکھا، اسی طرح دونوں ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے مصالحت کی خواہش کا اظہار کیا گیا توریاض اور تہران نے اسے کھلے دل سے مثبت اشارے دئیے۔اس پس منظر میں مسلم دنیا کےلئے یہ اطلاع نہایت خوش آئند ہے کہ پاکستان نے باضابطہ مصالحتی کوششوںکو تیز کر دیاہے۔اس سلسلے میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سعودی عرب کی قیادت سے ملاقات کرچکی ہے اورحوصلہ افزا پیشرفت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ تادم تحریراگلے مرحلے میں وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف ایرانی قیادت سے ملاقات کےلئے ایران میں ہےں۔ سعودی عرب اور ایران کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے۔مشکل وقت میں دونوں ممالک پاکستان کی بے لوث مدد کرتے رے ہیں۔ 65ءکی جنگ کے وقت ایران نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی اورہر طرح کا تعاون کیا جبکہ ایٹمی توانائی کے ایشو پر جب مغربی ممالک نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تو سعودی عرب نے اپنے وسائل کے دروازے پاکستان پر کھول دئیے۔اب جب یہ دونوں اہم ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں تو پاکستان نے اپنی بھاری ذمہ داری سمجھی کہ وہ ان دونوں ممالک کی مدد کرے۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ بعض خفیہ ہاتھ اس تنازعے کو جنگ میںتبدیل کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔اگرچہ یمن کے معاملے پر شروع ہونے والی کشیدگی کے بعدسعودی عرب میں شیعہ عالم دین نمرکی سزائے موت کے بعد ایران سعودی عرب تعلقات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں تاہم حالات ابھی بند گلی یا پوائنٹ آف نوریٹرن پر نہیں پہنچے۔ویسے بھی امید کی چنگاری کو نہیں بجھنے دینا چاہیے۔ بڑے سے بڑے تصادم کو مذاکرات کی میز پر ٹالا جاسکتا ہے۔ پاکستان یہی چاہتا ہے کہ عرب خطے کے یہ دونوں بڑے ملک باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کریں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے حوصلہ افزاءعندیہ پاکر پاکستان نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے مصالحتی عمل کاآغاز کرکے اپنی قائدانہ حیثیت کو ثابت کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں دیگر اسلامی ممالک سے بھی مشاورت کا ارادہ رکھتا ہے۔ا یران اور سعودی عرب دورے کے بعد وزیراعظم پاکستان مصر، انڈونیشیاء،ملائیشیاءاور دیگر ممالک کے سربراہوںسے جلد ملاقاتیں کرنے جارہے ہیں۔اگرچہ اس کیلئے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں ایک چھت تلے اس طرح کے تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ او آئی سی اس طرح کے معاملات کو حل کرنے میں ناکام ہے بلکہ بے وقعت بھی ہوچکی ہے۔ تمام مسلم ممالک او آئی سی کے رکن ہیں، ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہونے کی بنا کر رکن ممالک میں شدید نوعیت کے تنازعات نہ ہوتے اور ایک مثال اتحاد ہوتالیکن انتشار اورافتراق نے اُمت کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ہے۔ تنازعات توتنازعات اب کئی ممالک کے تعلقات باقاعدہ دشمنی میں تبدیل ہوچکے ہیں اس سلسلے میں ایک مثال ایران سعودی عرب سب کے سامنے ہے۔ یہ صورتحال یقیناً پوری اُمت کیلئے فکر مندی کا باعث ہونی چاہیے۔ اگر اس گھمبیرتا میں کوئی مثبت تبدیلی نہ لائی گئی تو مسلم دنیا تباہی کا ہدف بن جائے گی۔ لہذادونوں ممالک کووسیع تر اسلامی مفاد کی خاطر پرامن اور بامقصد بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔پاکستان نے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ثالثی کے ذریعے جن کوششوں کا آغاز کیا ہے، امید ہے کہ اسکے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہونگے۔ایرانی اور سعودی قیادت کشیدگی کے خاتمے کیلئے ہوش مندی اوربصیرت سے کام لیتے ہوئے ایک میز پر آبیٹھیں اسی میںجہاںدونوں ممالک کا اپنامفاد ہے وہاں امت مسلمہ کامستقبل بھی وابستہ ہے۔