- الإعلانات -

یہ مباحثے یا مجادلے؟

پرانے زمانے میںمشاعرے ہوا کرتے تھے جن میں اکابر شعراءایک دوسرے پر جملے کستے تھے۔ ان کے ادبی چٹکلے آج بھی مشہور ہیں۔ سودا اور میرا کی باہمی چقلش اور ذوق اور غالب کی رقابت سے سب آگاہ ہیں لیکن اس میں صرف مﺅدب گفتار ہوتی تھی مار پیٹ یا برا بھلا کا تماشہ نہیں ہوتاتھا اور اگر ایک دوسرے کو نازیباالفاظ بھی دیتے تھے تو نہایت ادب کے ساتھ۔ایک روایت کے مطابق سودا نے ایک شعر کہا تھا
سودا تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ
ہونا ہے تجھ کو میر سے استاد کی طرف
میر نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا
طرف ہونا مرا مشکل ہے میراس شعر کے فن میں
یونہی سودا کبھی ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے
جوابی شعر سن کر سودا کا پارا چڑھا اور جوابا یہ شعر کہا
نہ پڑھیو یہ غزل سودا تو ہرگز میر کے آگے
وہ ان طرزوں سے کیا واقف وہ یہ انداز کیا جانے
جارحانہ اشعار کے تبادلے کے باوجود نہ کبھی میر نے سودا کو طمانچہ رسید کیا نہ سودا کا ہاتھ میر کے گریباں تک پہنچا۔
گزشتہ دنوںاسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں کونسل کے چئیرمین اور متحدہ علماکونسل کے چئیرمین مشتعل ہوگئے ۔کونسل کااجلاس اکھاڑہ بن گیا، مولانا شیرانی اور طاہر اشرفی گتھم گتھا ہوئے،دونوں ہاتھ گریبان تک پہنچ گئے،متحدہ علما کونسل کے چئیرمین صاحب کا گریبان تار تار ہوگیا۔ کونسل کے ممبران نے بچ بچاﺅ کرایاکیا اجلاس ختم ہوااور اجلاس کا ایجنڈہ نامکمل رہا۔ اس پراخبارات نے خوب سرخیاں لگائیں، الیکٹرانک میڈیا پر بھی چرچا رہا۔اس پورے واقعے سے سب سے زیادہ تکلیف ہمیں اس بات سے پہنچی کہ ایسا آخر کیوں ہوا؟ علما کرام اس واقعہ کے بعد صدمہ سے دوچار ہیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا شیرانی کو مولانا فضل الرحمان کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ مولانا طاہر محمود اشرفی کو جمعیت علمائے اسلام کے (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے حمایت یافتہ ہیں۔حالانکہ دونوں مسلک کے اعتبار سے ایک ہی ہیں۔بعد ازاںعلامہ طاہر اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے غنڈوں نے نظریاتی کونسل کو گھیرا ہوا ہے(گویا سیاست کی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں بھی صوبائیت کے جراثیم داخل ہوگئے)۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نوٹس لیں اورچیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کو ان کے عہدے سے ہٹائیں۔ علامہ طاہر اشرفی نے کونسل کے چئیرمین پر فرقہ وارانہ فسادات کی سازش اورخلاف آئین کام کے الزامات بھی لگائے۔ جبکہ اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ۔ میں کہا گیا کہ حافظ طاہر اشرفی نے اجلاس میں آتے ہی ہنگامہ برپا کردیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ کہا گیا کہ علامہ طاہر اشرفی کی رکنیت کا یہ آخری اجلاس تھا اس لیے انہوں نے سارا ہنگامہ کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکز ی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایسے سنجیدہ فورم کو جھگڑالوں علماءنے غیر سنجیدہ بنادیا ہے۔علماءکو معاشرے کے لیے رول ماڈل ہونا چاہیے اور دلیل کی زبان استعمال کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا شیرانی او ر طاہر اشرفی کی لڑائی سے دینی طبقے کی جگ ہنسائی ہوئی،ان دونوں کو اسلامی نظریاتی کونسل سے باہر نکال دینا چاہیے۔ لوگ یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ شیرانی اور اشرفی نے کس فقہ کی روشنی میں لڑا ئی کی۔پہلے ہی سیکولر طبقہ علماءکے خلاف ہے اوپر سے علماءکا ایک دوسرے کا گریبان پکڑ نا مخالفین کو تنقید کے مزیدمواقع دینے کے مترادف ہے۔فقہی اختلاف اور مباحث میں اختلاف رائے کوئی بڑی بات نہیں، آئمہ اربعہ کے درمیان بھی اختلاف رائے پایا جاتا تھا تاہم انہوں نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔علامہ ساجد میر نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ علماءکی باہم انتہاپسندی اور عدم برداشت کی بھی مذمت کرنی چائیے۔ہمارے سیاسی مباحثے بھی بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے۔مگر ہمارے رویے جمہوری نہیں ہیں اور برداشت کی شدید کمی ہے معمولی بات بھی لڑائی جھگڑے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک پارٹی کا نمائندہ دوسری پارٹی کے نمائندہ کو طمانچہ رسید کرسکتا ہے۔ کچھ نئی گالیاں سننے میں آسکتی ہیں۔ ہماری پارلیمنٹ کے اجلاس کے مناظر ہم دیکھتے ہیں کہ جن معزز اراکین کو ہم منتخب کرکے بھیجتے ہیں وہ کیا گل کھلاتے ہیں۔ذرا سے اختلاف پر اپنی اصلیت پر اتر آتے ہیں اور اس بات کی پروا بھی نہیں کرتے کہ ٹی وی کے ذریعہ لاکھوں لوگ ان کی ہر حرکت دیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سابق وفاقی وزیر شرافگن (مرحوم) کے اشارے اسمبلی میں کافی مقبول تھے۔چونکہ وہ قانون کے وزیر تھے اس لئے وہ خواتین اراکین اسمبلی کی طرف مخصوص اشارہ کر اشاروں اشاروں میں کچھ کہ بھی جاتے تھے اور اور اپنے آپ کو بچا بھی لیتے تھے۔چینل والے علماءکے مابین تنازعے کو موضوع بحث بناتے ہیں مگرخود کو بھول جاتے ہیں۔ وی کے ٹاک شوز معلومات کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے مگر اب یہ مباحثے مجادلے کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیںجو ایک خطرناک علامت ہے۔ مختلف چینلز پر چلنے والے ٹاک شوز میں اس قسم کے دلچسپ نظارے روز انہ ہی نظر آتے ہیں چینل کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش بھی کوشش ہوتی ہے مہمانان گرامی ایک دوسرے کے خلاف چیختے چنگھاڑتے ہوئے ہنگامہ مچائے رکھتے ہیںجس سے ہمارے رویوں، نظم و ضبط اوربرداشت کی عکاسی ہوتی۔ٹاک شو کا میزبان اگر ایک چنگاری پھینکتا ہے تو رد عمل میں گولے بنتے ہیں زبانیں شعلے اگلنے لگیں منہ سے نکلتے جھاگ نکلتے صاف نظر آتے ہیں۔ایک دوسرے کی پگڑیاں ا±چھال ا±چھال کر،ادب آداب کی دھجیاں ا±ڑائی جاتی ہیں۔ زبان کا ہوش رہتا ہے نہ بیان کا۔ ایک دوسرے کو بدتمیز کہا جاتا ہے،سرِعام گالیاں تک دی جاتی ہیں، اور ہر کوئی چیخ چیخ کر اپنا مدعا یوں بیان کرتا ہے ۔ مباحثوںمیں لڑائی اور جھگڑے صرف مہمانوں کے مابین ہی نہیں ہوتے بلکہ خود چینل پرسن بھی کبھی کبھاراینکر پرسن بھی وقتا فوقتا ایک دوسرے کی خوب درگت بناتے رھتے ہیں۔کبھی کبھار ان کے مابین تلخ کلامی کے بعد گالم گلوچ ، تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش اور ٹھکائی وغیرہ بھی ہوتی رہتی ہے مگر پھر بھی اور کو نصیحت اور خود میاں فضیحت۔