- الإعلانات -

انڈیا اور اس کے پڑوسی (آخری قسط)

انڈیا اور پاکستان کی تاریخ کے تانے بانے بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں روز اول سے ہندوستانی رویے کی بنیاد ہی مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی ہے لیکن ان متکبروں نے اپنے ہم مذہبوں کو بھی نہیں بخشا پچھلے کالموں میں ہم ہندو کی نفسیاتی ساخت کے متعلق کافی لکھ چکے ہیں یہ 1000سالہ غلامی کا بدلہ اپنے آقاﺅں سے لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان کی صورت موجود ہیں حالانکہ تاریخی حقائق پر نظر ڈالی جائے مسلمان حکمران غیر متعصب تھے اور رواداری کی اسلامی تعلیمات پر خاصی حد تک عمل پیرا رہے وگرنہ پورا ہندوستان 100 فیصد مسلمان ہوتا اصل میں اسلام دعوت دیتا ہے اس کردار کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اس کے بعد اللہ جسے چاہے ہدایت دے ہندو جینیاتی طور بزدل ہوتا ہے اور بظاہر مصلحت کوش لیکن بزدل کو جب بھی موقع ملے نہایت سفاک اور بے رحم ثابت ہوتا ہے آپ دیکھئے انڈیا میں اگر 5 ہندو ہوں اور ایک مسلمان ان کی جرات ہی نہیں ہوگی کہ مسلمان کو چھیڑیں کم از کم 10 ہندو ہونگے اور وہ بھی ہٹے کٹے تو ایک پر پل پڑنے کا امکان ہے جتنے زیادہ ہو نگے اتنا زیادہ بہیمانہ تشدد کریں گے اس کے ہم چشم دید گواہ ہیں بہرحال 11 پاکستان پر ہندو لیڈرشپ کی کرم فرمائیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے تقسیم کے بعد پاکستان کے اثاثے روک لئے گئے کشمیر میں فوجیں داخل کردیں دمن دیوا گوا جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن پر بزور قبضہ کر لیا گیا پانی روک لیا گیا 1965 ءمیں پاکستان پر جنگ مسلط کردی گئی 1971ءمیں مشرقی پاکستان میں تخریب کاری کی گئی اور بنگالیوں کی ہلاکتوں کے اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا پاکستانی فوجیوں کے مظالم کابے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا کرکے دنیا میں پاکستان سے نفرت کے جذبات ابھارے گئے ایک مربوط سازش اور فوجی مداخلت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا دیا اس معاملے سوویت یونین نےبھی گھناﺅنا کردار ادا کیا جس اعتراف کے بی جی کے اعلی افسر یوری بیز مینوف تفصیلا کر چکے ہیں اس سلسلے میں انڈیا کا منہ کالا کرنے کے لئے مشہور امریکن اور اوکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر محقق شرمیلا بوس کی گواہی کافی ہے جس نے مکمل تحقیق کے ذریعے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا انڈیا نے 1974ءمیں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا مغربی پاکستان میں سندھی قوم پرستی کے نام پرگروپ کھڑے کئے سندھ کی علیحدگی اور سندھودیش بنوانے کے لئے انڈیا نے باقائدہ فنڈنگ کی مقامی ایجنٹوں کو استعمال کیا گیا اور تخریب کاروں کو انڈیا میں تربیت دیکر سندھ بھیجا گیا منظم طور پر سندھ میں مقیم مختلف طبقوں میں رقوم تقسیم کی جانے لگیں اسکولوں اور کالجوں میں ریاست کے مخالف گروپ پیدا کرکے ان کو فنڈنگ کی گئی بھولے بھالے ذہنوں کو جھوٹے زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر کرنے کی سعی کی گئی عام لوگوں کی ذہن سازی کرنے کی کوشیشیں شروع کردی گئیں متعصبانہ نغمے لکھے گئے اور ان کو عوامی مقبولیت دینے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی گئی بیرون ملک اور دہلی میں سمبیلن برپا کئے گئے اور اس کا کچھ اثر بھی ہوا لیکن سندھ کے عوام نے ان کو گھاس نہیں ڈالی اور انڈین سرمایہ کاری سندھ میں ڈوب گئی بلوچستان میں حقوق کے نام پر محرومی کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور وہ بھی سرداروں کے ذریعے جبکہ بلوچستان میں بلوچوں کی پس ماندگی میں سب سے بڑا کردار بلوچ سرداروں کا ہی تھا جو بلوچوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے وہی بلوچوں کے حقوق کے چمپئن بن بیٹھے فنڈنگ وہی RAW کی بلوچ سردار دبی اور یورپ میں پر تعیش زندگی گزارنے لگے اخراجات کے لئے انڈین ہینڈلر تمام لوازمات فراہم کرتے مشاورت کے نام پر RAW کے پے رول پر خواتین کی نام نہاد آزادی پسند بلوچ سرداروں سے ملاقاتیں اور ہفتوں تک ساتھ قیام ,ہندوستانی سفارتکاروں کے مکمل رابطے ریکارڈ پر ہیں اور قومی سلامتی کے اداروں کے پاس محفوظ ہیں پاکستانی طالبان تخلیق کئے گئے جو دراصل انڈین طالبان اور RAW کے payroll پر تھے جن میں اکثر ایسے نام نہاد طالبان بھی تھے جو مسلمان ہی نہیں تھے پختونخواہ اور فاٹا میں آگ لگوادی گئی سبب بننے والے ناعاقبت اندیش حکمران تھے جو اپنی بشری کمزوریوں کے غلام بنے رہے اور ملک میں آگ لگی رہی نا کردہ گناہ ریاست کے سرلے لئے گئے افغانستان میں نمک حرام کرزئی ٹولہ جو بذریعہ انڈین اسٹیبلشمنٹ پوری دنیا میں ہیروئن اسمگل کرتے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی سے فاٹا اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے فنڈ فراہم کئے جاتے پاکستان میں کراچی میں لسانی گروپ تشکیل دئے گئے وہ بھی حقوق کے نام پر یہ کون سے حقوق ہیں جن کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کےفوجی اداروں میں تخریب کاری کی تربیت حاصل کی گئی پرامن کراچی میں آگ لگا دی گئی سیاست میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی جس کے ثبوت پوری دنیا دیکھ چکی ہے ٹھپہ مافیا اور کلاشنکوف کے ذریعے منڈیٹ حاصل کئے گئے خوف کے سائے میں پارٹی کو منظم رکھا گیابھتہ اور اغوا برائے تاوان زمینوں پہ قبضے سرکاری املاک کی لوٹ مارمنافع بخش صنعت قرار پائے اسی خوف نے اسمبلیوں میں جگہ بنائی باقائدہ سازش کے تحت صنعتکاروں کو پاکستان سے بھگا دیا گیا کراچی سے صنعتی شہر ہونے کا اعزاز چھین لیا گیا کیا انڈیا اس میں براہ راست ملوث نہیں تھا؟ یہی RAW کا لکھا ہوا اسکرپٹ تھاکشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر 7 لاکھ فوج تعینات کرکے انسانی حقوق کی بدتریں خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں پاکستانی سرحدوں پر آئے روز فائرنگ، بے گناہ شہریوں کے قتل ہندتوا کے نام پرمسلمانوں کی نسل کشی گاﺅ رکشا کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل اور تشدد، یہی ہندوستان کی ریاستی پالیسی ہے آج بھی پاکستان کے بارے میں انڈیا کی پالیسی نہیں بدلی مودی کے آنے کے بعد کچھ بھی راز نہیں رہا آلو گوشت کھانے والوں اور ایک رب کو پوجنے والوں کو تو اپنے کاروبار سے غرض ہے آج بھی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں اور قومی وقار کے منافی بچھے جاتے ہیں جب تک ہندو ذہنیت کا فرما ہے پاکستان سے تعلقات ٹھیک ہونے کی امید ذرا کم ہی ہے کوئی معجزہ ہو جائے یا سبھی مسلمان ہوجائیں تو اور بات ہے قائد اعظم رحمت اللہ علیہ نے بجا طور پر ان کو بروٹل میجارٹی قرار دیا تھا ہمیں چاہیے کہ حکم ربانی کے مطابق اپنے گھوڑے تیا رکھیں اور وقار کے ساتھ انتظار کریں جلد با بدیر بازی پلٹ رہی ہے کل مذاکرات ان کی ضرورت بنیں گے ہماری نہیں انشاءاللہ یوں تو انڈیا کی بدعہدیوں کہ کہ مکرنیوں پر ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن دیگ کے ایک دانے کا ذائقہ بھی وہی ہوگا جو پوری دیگ کا یہ بہرحال یہ ہے مختصر سا جائزہ ان ہندوستانی رویوں کا جو تمام پڑوسیوں سے انڈیا روا رکھتا ہے جس کی بنیاد نخوت اور تکبر ہے اور تکبر صرف اللہ کو زیبا ہے۔