- الإعلانات -

داعش کی حقیقت

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت عراق میں امریکہ کا اصل ہدف ایک کمزور اور اپنی ہم خیال مرکزی کابینہ کی تشکیل کے بعد اس ملک میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو مضبوط بناتے ہوئے عراق کے سیاسی جغرافیہ میں ان دہشت گردتنظیموں کے وجود کو رسمی حیثیت دلوانا ہے۔ امریکی حکام نے اس وقت تک عراق کی تقسیم کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ اکثر امریکی سیاست دان اس تقسیم کے حق میں نظر آتے ہیں۔ وہ اس وقت عراق کے اندرونی حالات، خاص طور پرایران جیسی خطے کی طاقتوں کے ردعمل اور رویوں کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہیں۔مشرق وسطیٰ سے متعلق وائٹ ہاوس کی پالیسیاں گریٹر اسرائیل اور نیو مڈل ایسٹ منصوبے کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ ان پالیسیوں کے تحت امریکہ خطے میں ایسی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانے کے درپے ہے جو اس کی دستِ نگر، ہمنوا اور خطے میں اس کی پالیسیوں کی حامی ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو قبول کرتے ہوئے اس کے وجود کے ساتھ بھی مکمل ہم آہنگ ہوں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ عرب ممالک ہیں جو ایک مضبوط، طاقتور اور خود مختار سیاسی نظام کے حامل ہونے کے علاوہ مغرب مخالف نظریات اور تفکرات بھی رکھتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کا واحد راستہ ایسے ممالک کو محدود جغرافیائی حدود پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دینا ہی تھا۔ اسی طرح ”نیو مڈل ایسٹ“ کے ظہور کے لیے خطے میں موجود امریکہ مخالف خود مختار اسلامی مزاحمتی بلاک کو بھی کمزورسے کمزور تر کرتے ہوئے بتدریج اسے ختم کرنے کی ضرورت تھی،لہٰذا امریکہ اپنے اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے پہلا اور اہم قدم خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی صورت میں موجود امریکہ کے مخالفین کا خاتمہ ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایسی چھوٹی چھوٹی بیشمار ریاستیں ایجاد کرنا ہے جن کا مکمل انحصار امریکہ پر ہو۔ ابتداءمیں امریکی حکام اس زعم میں مبتلا تھے کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے وہ براہِ راست خطے میں حاضر ہو کر خود ہی اسے پایہ¿ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن افغانستان اور خاص طور پر عراق میں پیش آنے والی مشکلات اور مسلسل ناکامیوں نے ان کی سوچ کو تبدیل کر دیاہے۔ امریکی حکام آخرکار اس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ انہیں ازخود مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے چھوٹی ریاستیں بنانے سے گریز کرنا چاہئے اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی تیسری قوت کا سہارا لینا چاہیے۔آج وہ تیسری قوت ”داعش“ کے نام سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے اور پوری قوت سے امریکہ کے اس منصوبے کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے کے لیے برسرِپیکار ہے۔
یوں تو داعش کے معنی ”دولت اسلامیہ عراق و شام“ کے ہیں مگر اس کے تمام تر افعال اس کے نام کی نفی کرتے نظرآتے ہیں۔ اس تکفیری گروہ کی ابتداءشام میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد ہوئی جہاں اس گروہ نے اپنے غیر ملکی آقاﺅں امریکہ اور اسرائیل کے ایماءپر بھرپور خدمات انجام دیں لیکن امریکی مدد اور اسرائیلی حمایت ہونے کے باوجود بھی یہ گروہ شامی حکومت کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہا۔ اس ناکامی کا انتقام لینے کا فیصلہ انہوں نے امریکہ کے تباہ کردہ ملک عراق میں خون خرابہ کرنے کے اعلان سے لیا اور پھر بالآخر عراق کے شمال میں جا پہنچے اور 12جون2014ءکو خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں سینکڑوں عراقی شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس دن سے اس دہشت گرد گروہ کا نام لوگوں کی زبانوں پر آنا شروع ہو گیا ۔ مختصراً یہ کہ اس گروہ کے لوگ پہلے القاعدہ میں شامل تھے لیکن پھر اندرونی اختلافات کے بعد القاعدہ سے جدا ہوئے، شام میں جاری محاذ پر انہوں نے ایک اور تنظیم کی بنیاد رکھی جسے النصرہ فرنٹ کا نام دیا گیا اور پھر بعد میں اس گروہ سے خود کو جدا کر کے ایک اور گروہ بنا لیا اور اس کا نام ”داعش “ رکھ لیا ۔
داعش یا امارت اسلامی ظاہری طور پر اسلامی شریعت کے نفاذ کی تحریک نظر آتی ہے لیکن درحقیقت یہ ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے افکار و نظریات مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ یہ گروہ شریعت کے نفاذ کا نعرہ اس لیے لگا رہاہے کہ دنیا والوں پر یہ ظاہر کریں کہ وہ ایک اسلامی گروہ ہیں۔ اس کا مقصد ایک طرف اسلام کے چہرے کو بدنام کرنا ہے اور دوسری طرف عالم اسلام میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ کی آگ بھڑکانا ہے اورمشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کو چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرکے امریکہ کے تابع فرمان بنانے اور اسرائیل کے وجود کو بقاءدلوانے کے امریکی منصوبے کی تکمیل ہے۔