- الإعلانات -

سٹوڈنٹس یونینز پر پابندی اور۔۔ !

وطن عزیز کے اکثر تعلیمی اداروں میں ” طلبہ یونینز “ بنا نے پر پابندی عائد ہے مگر بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پابندی کو ختم کر دیا جائے اور تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ یونینز بنانے کا حق دے دیا جانا چاہیے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے جانکار حلقوں نے کہا ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں تعلیمی اداروں میں یونینز بنانا جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے مگر اس حوالے سے زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا بھی کسی طور دانشمندی نہیں ۔
کسے علم نہیں کہ پاکستان گذشتہ کئی عشروں سے وطن دشمن عناصر کے مذموم عزائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور پچھلے کچھ سالوں سے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ملک و قوم پوری طرح سے حالتِ جنگ میں ہے کیونکہ دہشتگردی کو کچلنے کے لئے تمام حکومتی اور ریاستی ادارے اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں اور اس ضمن میں انہیں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے مگر اس کے باوجود تا حال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مادرِ وطن سے اس لعنت کی جڑیں مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں ۔
گاہے بگاہے دہشتگردی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جیسا کہ بیس جنوری کو خیبر پختونخواہ میں ” چار سدہ “ میں واقع باچا خان یونیورسٹی میں دہشتگردی کی ایک سنگین واردات ہوئی جس میں سفاک درندوں نے بے گناہ طالب علموں کو اپنی شیطانیت کا نشانہ بنایا ۔ ایسے میں تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز بنانے کا فیصلہ کرنا قوم کو مزید گروہوں میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ پہلے ہی ملکی سا لمیت کی مخالف اندرونی اور بیرونی قوتیں یہاں مختلف نوع کے تعصبات کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ۔ گروہی ، فرقہ وارانہ ، جغرافیائی اور لسانی تعصبات کو بنیاد بنا کر باہمی نفرت کے مکروہ کھیل کھیلے جا رہے ہیں ۔ اس پس منظر میں دشمن کے ہاتھوں میں تعصب کی ایک نئی قسم فراہم کرنا غالباً کسی بھی طور مناسب ہے نہ ضروری ۔ البتہ جب ملک و قوم کامیابی کے ساتھ دہشتگردی کی اس جنگ کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے (انشاءاللہ ) تب اس بابت سوچنا غلط نہیں ہو گا ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ نسبتاً مستحکم معاشروں میں بھی طالب علم یونینز بالعموم آپسی سر پٹھول میں مصروف رہتی ہیں اور اس ضمن میں جھوٹی سچی تاویلیں بھی فراہم کر لی جاتی ہیں جیسا کہ تین روز قبل بھارتی صوبے ” آندھرا پردیش “ کے صوبائی دارالحکومت دکن حیدر آباد میں ہوا جب اچھوت ہندوﺅں کی تنظیم ” امبیڈکر سٹوڈنٹس فیڈریشن “ سے تعلق رکھنے والے چھبیس سالہ طالب علم ” روہت “ نے خود کشی کر لی تھی ۔ وہ ” حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی “ میں زیر تعلیم PHD کا سٹوڈنٹ تھا ۔ ایک ماہ قبل BJP سے تعلق رکھنے والی طلبا ءتنظیم ” اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد “ ( ABVP ) سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد دونوں طلباءتنظیموں کے مابین یہ جھگڑا زیادہ شدید نوعیت اختیار کر گیا ۔ چونکہ ABVP کو حکومتی سر پرستی حاصل ہے اس لئے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ” روہت “ سمیت چھ طلباءکو یونیورسٹی اور اس کے ہوسٹل سے جبراً نکال دیا گیا ۔ بے دخل کیے جانے والے تمام طلباءاچھوت تھے ۔ ان طلباءکو نکالنے میں تعلیم کی مرکزی وزیر ” سمرتی ایرانی “ ، مرکزی وزیر مملکت برائے لیبر ” بنڈا رودتا تریہ “ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ” اپا راﺅ “ نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ ” روہت ویملا “ نے دلبرداشتہ ہو کر سترہ جنوری کو گلے میں پھندا ڈال کر یونیورسٹی کے ہوسٹل میں خود کشی کر لی لیکن مرنے سے پہلے موت کے حوالے سے لکھی تحریر میں دونوں وزیروں اور یونیورسٹی وی سی کو بھی اپنی خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا ۔
اس کے بعد یہ معاملہ بھارت کی پوری سیاست کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ انیس جنوری کو ” راہل گاندھی “ متاثرہ طلباءاور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کے لئے حیدر آباد پہنچے تو اس کے اگلے روز دہلی کے وزیر اعلیٰ ” اروند کجریوال “ نے ان سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد CPIM کے سربراہ ” سیتا رام یچوری “ بھی اپنی سیاست چمکارہے ہیں ۔ وزیر ” سمرتی ایرا نی “ ، ” بنڈا رودتا تریہ “ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور ان کے خلاف قتل پر اکسانے کی FIR بھی درج کر لی گئی ہے اور اس پر بھارتی سیاست مزید گرماتی جا رہی ہے اور قوی امکان ہے یہ واقعہ آنے والے دنوں میں بھارتی سیاست میں کسی نئے طوفان خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
صرف اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بھارت جیسے ملک جہاں سیاسی نظام خاصا مستحکم ہے ، وہاں اگر طلباءتنظیموں سیاسی مد و جزر پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں تو وطنِ عزیز میں ان کے منفی اثرات کا اندازہ غالباً کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہونا چاہیے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں سبھی متعلقہ حلقے تعمیری سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے متوازن حکمت عملی اختیار کریں گے ۔