- الإعلانات -

سعودی ایران مصالحت اورپاکستان کامثالی کردار

سعودی عرب اورایران کے درمیان تعلقات جس تیزی کیساتھ خراب ہوئے اس سے عالمی سطح پرتاثرابھرا کہ اب عالم اسلام کے دوبڑے ممالک آپس میں ٹکراجائیں گے اوران کے وسائل آپس میں لڑنے کے باعث ضائع ہونگے یہی احساس پاکستان کے بچے بچے کو بھی ہوا کیونکہ ایران اورسعودی عرب دونوں پاکستان کیلئے اہمیت کے حامل ملک ہیں جہاںسعودی عرب نے پاکستان کی ہرمشکل لمحہ میں مالی مدد کھل کرکی ہے تواسی طرح ایران نے بھی اپنا کردار اداکیا۔بدلتے ہوئے عالمی منظرعامہ میں جہاں ایران پراقتصادی پابندیاں ختم اورآزادجمہوری ممالک کیساتھ مل بیٹھنے کاموقع ملا۔ان حالات میں سعودی عرب اورایران کاتنازعہ پاکستان کیلئے ایک لمحہ فکریہ تھا کیونکہ اگردونوں ممالک جنگ میں الجھ جاتے توپھردونوں کئی دہائیاں پیچھے چلے جاتے اوردونوں ممالک کی معاشی ترقی پھرزیروپوائنٹ پرآکھڑی ہوتی۔پاکستان کی مصالحتی کوششوں کے نتیجے میں برادر ملک سعودی عرب نے عندیہ دیا ظاہر کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ درپیش معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔سعودی فرمانروا جناب شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ سعودی عرب مسلم امہ میں بھائی چارے کا فروغ چاہتا ہے۔ یہ بات سعودی عرب کادورہ کرنے والے وفد کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی ہے ۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جب سعودی عرب نے اپنے ایک شہری اور شیعہ عالم کو ریاست کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی اور پھر اس پر عملدرآمد بھی کردیا اسکے ردعمل میں تہران میں ہزاروں مظاہرین نے ہلہ بول کر سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کردیا اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ،گو کہ یہ بات اخلاقی ، سفارتی طورپر بالکل ہی غلط تھی کیونکہ کوئی بھی ملک اپنی ریاست کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کسی بھی شہری کو مروجہ سزا دینے کا حق دار ہے اور اگر کوئی دوسراملک اس پر اعتراض کرے تو یہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے۔ مگر یہاں کیونکہ معاملہ مذہبی تھا اس لئے تہران میں مشتعل افراد نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سعودی سفارتخانے پر ہلہ بولا اور اسے نذر آتش کردیا۔ اس کے بعد سعودی ردعمل کے نتیجے میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے اور دونوں نے اپنے سفارتکاروں کو اپنے اپنے ملک واپس بلا لیا۔ اسکے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے یہ ظاہر ہورہا تھا کہ دونوں ممالک انتہا تک جائیں گے اور اس کا نقصان ظاہر ہے امت مسلمہ کو اٹھانا پڑتا چنانچہ ان حالات میں پاکستانی قیادت نے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کی جنگ میں کسی بھی فریق کا ساتھ دینے کی بجائے دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ بحال کرایا جائے گا تاکہ اس کا فائدہ کوئی تیسری مسلم دشمن قوت نہ اٹھا سکے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے عسکری حلقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سعودی عرب اورایران کا ایک روزہ دورہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ سعودی عرب پہنچے۔وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس دورے کو نہ صرف علاقے بلکہ عالمی سطح پر ایک بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا گیا اور اسے خوش آئند قرار دیا گیا کہ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے اس نے دو مسلمان ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو حل کرانے کیلئے بروقت اقدام اُٹھایا ہے۔سعودی عرب سے آنے والی خبروں کے مطابق وزیراعظم کے اس مشن کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا اور اسے خوش آئند اقدام بھی قراردیا گیا۔ ایران اور سعودی عرب اسلامی دنیا کے دو اہم ملک ہیں جو نہ صرف معاشی اعتبار سے بلکہ دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کے حامل ہیں،ان دونوں کا آپس میں ٹکرانا امت کے مشترکہ وسائل کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ایک ایسے وقت میں وزیراعظم کی جانب سے اٹھائے جانے والایہ اقدام ایک تاریخی اور بے مثال ہے کہ مملکت پاکستان نے اپنی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مصالحت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔پاکستان نے نہایت مخلصانہ طورپر یہ قدم اٹھایا اس لئے امید یہ کی جارہی ہے کہ وزیراعظم پاکستان دونوںممالک کے سربراہان کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی بلکہ عالم اسلام کی کامیابی تصور کی جائے گی۔ پاکستان کے عوام سعودی مملکت کی خود مختاری اور علاقائی یکجہتی کو لاحق کسی بھی خطرے کیخلاف ہمیشہ سعودی عوام کا ساتھ دینگے۔