- الإعلانات -

حسین حقانی سے چارسدہ یونیورسٹی تک

میموگیٹ سکینڈل کے بعد ایک بار حسین حقانی کا نام قومی سیاسی منظرنامے پر ابھرا ہے اور حسبِ سابق اس بار بھی ملک دشمنی کے الزامات کے تحت ہی وہ موضوعِ بحث بنے ہیں۔ خواجہ آصف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں امریکہ سے ایف 16جنگی طیارے نہ ملنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیں ایف 16دینے کو تیار ہے مگر پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہنے والے حسین حقانی بھارتی لابی کے ساتھ مل کر روڑے اٹکا رہے ہیں اور امریکہ پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو ایف 16طیارے نہ دے۔ ایک بحث چل رہی ہے کہ حسین حقانی آیا واقعی پاکستان کو ایف16دیئے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں یا نہیں؟ تو عرض کرتا چلوں کہ یہ بحث ہی فضول ہے کیونکہ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے، حسین حقانی نے خود بھی کبھی اپنا یہ ”پاکستان دشمنی “ کا روپ چھپا کر نہیں ۔ وہ اس موضوع پر اب تک کئی آرٹیکلز لکھ چکے ہیں جن میں انہوں نے واضح طور پر پاکستان کو ایف 16نہ دیئے جانے کے حق میں دلائل دیئے ہیں۔ لہٰذا یہ بحث بے محل ہے کہ وہ پاکستان مخالف ہیں یا نہیں۔
دوسری بحث ہو رہی ہے کہ آیا ان کا یہ رویہ ملک سے ”غداری“ کے ضمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ اس سوال پر ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ نہ ہی حسین حقانی کے حامیوں کو انہیں بلاسوچے سمجھے بے گناہ اور ستی ساوتری قرار دینا چاہیے اور نہ ہی ان کے مخالفین کو چھوٹتے ہیں ان پر غداری کا الزام عائد کر دینا چاہیے۔ ہمیں اس طرح کی فتویٰ گری سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے پس ہمیں اسی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر خواجہ آصف اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر حسین حقانی پر الزام عائد کر سکتے ہیں تو اسمبلی میں بیٹھے ہوئے دیگر لوگوں کو اس قسم کی بحث کرنی چاہیے اورفیصلہ کرنا چاہیے کہ حسین حقانی کا یہ کام غداری ہے یا نہیں اور پھر اسی کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ حسین حقانی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ حکومتوں کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ مگر ریاست سے وفاداری کی اولیت برقرار رہنی چاہیے۔ اس بات کی کسی کو بھی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی ہے وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرگرمیوں کے حق میں پاکستانی حکومت سے مخالف کی دلیل لائے۔ یہ بات کسی بھی پاکستانی کو زیب نہیں دیتی کہ وہ پاکستان کا دفاع مضبوط کرنے کی کوششوں کے خلاف کام کرے اور وہ بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ مل کر۔ حسین حقانی کو اگر پاکستان کی حکومت سے کوئی گلہ ہے تو حکومت ہی کی مخالفت کرے، پاکستان کی مخالفت ہمیشہ کے لیے انہیں راس نہیں آئے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے ملکوں اور اپنی ریاستوں کے ساتھ غداری کی ان کے نصیب میں دنیا بھر کی ذلت و خواری آئی، ایک وقت تک ایسے لوگوں سے ملک دشمنوں نے مفاد حاصل کیا اور جب اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تب ان کا وہ حشر کیا کہ آج بھی وہ دنیا کے لیے نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ اپنے گزشتہ دور حکومت میں پیپلزپارٹی کے ماتھے پر کئی کلنک کے ٹیکے لگے جن میں ایک نمایاں ٹیکہ حسین حقانی کے نام کا بھی ہے۔
آج کے لیے حسین حقانی کا ماتم یہی پر موقوف، ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ ہوا ہے۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے بعد ایک بار پھر دہشت گردوں نے ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا ہے۔ چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردی کے اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ہم نے آپریشن ضرب عضب میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر دہشت گردوں کی کمین گاہیں اب بھی موجود ہیں، وہ پاکستان میں ہوں یا پاکستان کے بارڈر کے ساتھ افغانستان میں۔ پاک افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے ان کمین گاہوں کے مکمل خاتمے تک سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔ ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی منزل کی طرف ہمیں ابھی بہت سا سفر کرنا باقی ہے۔ جس طرح آرمی پبلک سکول پر حملہ آپریشن ضرب عضب کا ردعمل تھا اسی طرح باچاخان یونیورسٹی پر حملہ بھی اسی کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، ہمیں ان حملوں کو دہشت گردوں کی آخری ہچکیاں سمجھنا چاہیے۔ قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور افواج پاکستان اس ناسور سے چھٹکارے کا تہیہ کر چکی ہیں۔ اب یہ ننگِ انسانیت دہشت گرد اپنے بدترین انجام سے زیادہ دور نہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد پاکستان میں امن کا سورج طلوع ہو گا۔ اللہ تعالیٰ باچاخان یونیورسٹی کے شہداءکو غریق رحمت کرے ، پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے اور زخمی ہونے والوں کو جلد روبہ صحت کرے۔