- الإعلانات -

اے پی ایس کے بعد باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردی

آرمی پبلک سکول پشاور میں سفاکانہ دہشت گردی کے دلدوز واقعہ کے ایک سال ایک ماہ بعد بے رحم اور بزدل دہشت گردوں نے گزشتہ روز باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کو اپنے جنونی عزائم کی بھینٹ چڑھا کر خون میں نہلا دیا۔گزشتہ روز باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں اسسٹنٹ پروفیسر، 18 طلبہ سمیت 20 افراد شہید اور 11 زخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج کے کمانڈوز نے جوابی کارروائی کر کے 4دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ وزیراعظم نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ سانحہ پر خیبر پی کے حکومت نے صوبے میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں قومیت پرست رہنما باچا خان کی برسی کے موقع پر مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکت کیلئے طلبا، اساتذہ اور مہمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ صبح ساڑھے 9 بجے کے قریب دہشت گردوں نے یونیورسٹی میں داخل ہوکر اچانک فائرنگ شروع کردی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور پاک فوج کے کمانڈوز نے چارسدہ یونیورسٹی کا محاصرہ کر لیا اور جامعہ کے اندر فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملہ آور عقبی راستے سے یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ یونیورسٹی کے گارڈز نے حملہ آورورں کو روکا اور ان سے مقابلہ کیا اور شور مچا کر لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد پھر حملہ آوروں نے ہاسٹل کی طرف حملہ کر دیا۔ شہید ہونے والوں میں 4گارڈز اور ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر اور پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے ماسٹر مائنڈ عمر منصور نے نامعلوم مقام سے فون پر باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے ایک ای میل کے ذریعے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ٹی ٹی پی ترجمان محمد خراسانی کے مطابق طالبان شوریٰ ٹی ٹی پی کا نام استعمال کرنیوالوں کیخلاف ایکشن لے گی۔ حملے میں ملوث دہشت گردوں سے اہم دستاویزات برآمد ہوئیں۔ چار دہشت گرد غیر ملکی، کم عمر، پشتو بولنے والے تھے جنہوں نے حلئے طلباءکے بنا رکھے تھے۔ حملہ آور دہشت گردوں کے گھروں کا حساس اداوں نے سراغ لگا لیاہے اور معاملہ افغان حکومت کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان طارق گیدڑ گروپ سے ہے۔ دہشت گرد گروپ کے ایک لیڈر عمر نرے نے افغانستان میں بیٹھ کر تمام حملے کی نگرانی کی۔ حساس اداروں نے دہشتگردوں کے مواصلاتی رابطوں کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا۔ دہشت گرد براہ راست افغانستان میں موجود عمر نرے سے ہدایت لیتے رہے۔ حملہ آوروں کے پاس خودکش جیکٹس بھی تھیں۔ تاہم وہ پھٹ نہیں سکیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آ ر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا سانحہ چارسدہ کے حوالے سے کافی معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔ حملہ کرنے والے دہشتگرد کون تھے کہاں سے آئے کس نے بھیجے کس نے حملہ کروایا اس بارے میں کافی معلومات مل گئی ہیں۔ کم وقت میں بہت بریک تھرو ہو چکا اور مزید شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے قبضے سے دو موبائل فون ملے جن کا تجزیہ کیا گیا اور زیادہ تر موبائل کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا چکا ہے۔ نادرا ملزمان کا مزید ڈیٹا چیک کر رہی ہے۔ دہشت گردوں کے پاس افغانستان کی سمیں تھیں اور ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعد بھی اس کے فون پر افغان سم سے کالیں آ رہی تھیں۔ فرانزک اور فنگر پرنٹس لیکر نادرا کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے فنگر پرنٹس کے ساتھ میچ کر کے تصویر بنائی جا رہی ہے، حملہ آور کہاں سے آئے ، کس نے بھیجا کافی حد تک معلومات اکٹھی ہو چکی ہیں۔ چارسدہ یونیورسٹی میں دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعہ سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں۔ نیکٹا فعال ہے نہ مدارس کی رجسٹریشن ہوئی، کالعدم تنظیمیں بھی نئے ناموں کے ساتھ بغیر کسی روک ٹوک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردوں کی بربریت کے بعد دہشت گردی کے ناسور سے خلاصی کیلئے پوری قوم متحد ہوئی۔ ایک دوسرے کیخلاف صف آراءسیاست دان بھی یکسو ہو گئے اور سیاسی اور عسکری قیادتیں بھی ایک صفحے پر آگئیں چنانچہ وزیراعظم نوازشریف کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں دہشت گردی کے خاتمہ کا ایک جامع نیشنل ایکشن پروگرام ترتیب دیکر اسکی پارلیمنٹ سے متفقہ منظوری لی گئی اور 21ویں آئینی ترمیم منظور کراکے فوجی عدالتوں کی تشکیل پر بھی صاد کرلیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے بلاشبہ اس معاملہ میں فعال کردار ادا کیا۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا اپریشن ضرب عضب پہلے ہی جاری تھا جبکہ آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کی گھناﺅنی واردات نے قوم کے سینے غم سے چھلنی کئے تو سکیورٹی فورسز نے اپنے فعال کردار کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر قوم کے دکھوں کا مداوا کیا تاہم دہشت گردوں نے اپریشن کے دوران تتربتر ہوتے ہوئے بھی سکیورٹی فورسز کے بعض حساس مقامات کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جبکہ پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ بھی ردعمل میں ہونیوالی دہشت گردی کی ہی بھینٹ چڑھے۔ اس حوالے سے قوم کو بجا طور پر یہ تشویش لاحق ہوئی کہ ایک جامع نیشنل ایکشن پروگرام کو فعال انداز میں عملی جامہ پہنائے جانے کے باوجود دہشتگرد اپنے متعینہ اہداف تک پہنچنے اور دہشت گردی کی واردات ڈالنے میں کیوں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یقیناً سکیورٹی کے انتظامات میں سکیورٹی اداروں کے اندر ایسی خامیاں برقرار رہی ہیں جن سے دہشت گردوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا رہا ہے۔نیشنل ایکشن پروگرام ہی کے تحت ملک بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کرنے کا بھی پابند کیا گیا جس کے تحت مین گیٹ کے باہر مورچے بنانا اور سکیورٹی گارڈز متعین کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ تعلیمی اداروں نے اس حکمنامے کی تعمیل کی اور سکیورٹی کے ایسے ہی انتظامات کئے جس سے طلبہ و طالبات‘ والدین اور اساتذہ کیلئے مشکلات تو پیدا ہوئیں مگر تعلیمی اداروں کا تحفظ یقینی نہ بن سکا۔ باچاخان یونیورسٹی میں سفاکانہ دہشت گردی اسکی تازہ مثال ہے جس سے یقیناً یہ سبق بھی ملتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے باہر مورچے بنانے اور چند سکیورٹی گارڈز متعین کرنے سے دہشت گردی کے ناسور سے مستقل نجات حاصل نہیں کی جا سکتی بلکہ دہشتگردی کے اسباب‘ محرکات اور دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کا مکمل کھوج لگا کر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانا ضروری ہے۔