- الإعلانات -

سانحہ چارسدہ،ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے

خیبرپختونخوا کی تحصیل چارسدہ کے نواحی علاقے پلوسہ میں قائم پختون لیڈر عبدالغفار المعروف باچاخان کے نام سے منسوب باچاخان یونیورسٹی 2012ءمیں قائم کی گئی اس سے قبل یہاں عبدالولی خان یونیورسٹی کاکیمپس قائم تھا۔200کنال اراضی پرمشتمل باچاخان یونیورسٹی میں16شعبوں میں تدریس کاعمل جاری ہے اور تین ہزار سے زائدطلباءوطالبات علم کی روشنی سے منور ہورہے ہیں 20 جنوری2016ءبروز بدھ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے دہشتگردوں نے یونیورسٹی کی عقبی دیوار پھلانگ کرحملہ کیا جس میں21افرادشہید جبکہ اتنے ہی زخمی ہوئے۔بظاہر توایسالگتا ہے کہ اسی دن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہونیوالامشاعرہ دہشتگردوں کاہدف تھا تاہم اس بات کو تقویت اس پہلو سے نہیں ملتی کہ اگر ان کاہدف مشاعرہ تھا تو وہ لوگوں کے یونیورسٹی میں آنے سے قبل کیوں حملہ آور ہوگئے اوراگر غلط معلومات پردہشتگردوں نے حملہ کرہی دیاتھا تووہ آڈیٹوریم میں کیوں داخل نہیں ہوئے ان کو کیسے معلوم ہوگیا کہ آڈیٹوریم میں سارے لوگ ابھی نہیں آئے انہوں نے کیوں ہاسٹل کارخ کیا۔یونیورسٹی کے اپنے گارڈز نے کتنی مزاحمت دکھائی، کیا دہشتگردوں کاپلان اے کیساتھ پلان بی بھی تھا یاپلان سی پرعمل ہورہا تھا ۔ ان تمام سوالات کے جوابات تو انویسٹی گیشن ایجنسیاں ہی تلاش کرسکتی ہیں یا کرلئے ہونگے تاہم یونیورسٹی کے طلباءکے مطابق دہشتگرد صرف دوالفاظ کہہ رہے تھے جن میں ایک لفظ آرمی اوردوسرالفظ سٹوڈنٹس تھا جس سے صاف ظاہر تھا کہ دہشتگرد کسی منصوبے پرعمل نہیں بلکہ ان کا ہدف صرف اورصرف زیادہ سے زیادہ قیمتی جانوں کاضیاع تھا۔ہوسکتا ہے کہ انکو یہ معلوم ہوکہ مشاعرہ کی تقریب کاانعقاد کیاجارہاہے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ انہیں آڈیٹوریم کابھی پتہ تھا جہاں تک دھند کافائدہ اٹھانے کی بات ہے تو کم عقل لوگوں کیلئے عرض ہے کہ ایسے دہشتگردی کے منصوبے دھوپ، بارش اوربادل دیکھ کرنہیں بنائے جاتے جن لوگوں کامقصد صرف اورصرف دہشتگردی پھیلانا ہو ان کو موسم کی تغیر ات سے کیا لینادینا لیکن یونیورسٹی کے اطراف میں گنے کی فصل ان کے چھپنے اور حملے سے قبل اپنے آپ کو تیار کرنے کیلئے آئیڈیل تھی جس کاانہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔کاش آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانے والوں نے باﺅنڈری وال کو سی سی ٹی وی کیمروں سے کورکیاہوتا اورایک مانیٹرنگ روم قائم کیاگیا ہوتا آخرایسا کیوں نہ کیاگیا؟ آبادی سے دور اورمہمندایجنسی کے قریبی علاقے میں جب یہ یونیورسٹی قائم کی گئی یاجب کیمپس قائم کیا گیا تب چاروں اطراف کی سیکیورٹی کو کیوں مدنظر نہیں رکھا گیا حالانکہ آج کے مقابلے میں 2010ءیاپھر2012ءمیں پاکستان زیادہ حالت جنگ میں تھا اوردہشتگردی کیخلاف جنگ بارے اے این پی سے زیادہ کون جان سکتا ہے۔باچاخان یونیورسٹی پر حملہ سفاکانہ فعل اوربزدلانہ کارروائی ہے جس کے دکھ میں آج پورا ملک ڈوبا ہوا ہے۔ گزشتہ روز قومی پرچم بھی سرنگوں رہاچارسدہ اوراس کے ملحقہ علاقوں میں صف ماتم ہے قوم شدید صدمے اور کرب میں مبتلا ہے لیکن اس حملے سے واضح ہوگیا کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں میں کمی اور دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے ۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف اورسپہ سالار پاک فوج جنرل راحیل شریف کے بیانات کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے بالکل درست ثابت ہوگئے اس حملے کی ٹی ٹی پی اورافغان طالبان دونوں نے مذمت کی ہے صرف ٹی ٹی پی درہ آدم خیل وخیبرایجنسی کے امیر خلیفہ عمرمنصور نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور میرا خیال ہے کہ اس حملے سے طالبان کے اپنے اندر بھی تبدیلیاں آئیں گی۔کمزورحکمت عملی اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ حملہ صرف اورصرف دہشتگردی پھیلانے اورملک کو بدنام کرنے کیلئے کیاگیا اس لئے میری گزارش ہے کہ جو لوگ ہمارے سیکیورٹی اداروں پرانگلیاں اٹھارہے ہیں وہ محض بغض سے کام نہ لیں اورحقائق کومدنظررکھ کربات کریں صرف اپنے دل کی نفرت نکالنے کیلئے کسی واقعے کاانتظار کرنے والے اس ملک وقوم پررحم کریں ۔ آج پوری قوم کو اپنی مسلح افواج اورسیکیورٹی فورسز پرفخر ہے جمہوری نمائندوں اوروزراءکو بھی چاہیے کہ وہ تعمیری بات کریں1980ءکی دہائی کے فیصلوں پر ساراملبہ ڈالنا درست نہیں ۔ کیا بلوچستان میں بھی1980 ءکے دہائی کے فیصلے اثرانداز ہوئے خداکاخوف کرناچاہیے اور قوم کو سچ بتاناچاہیے کے پی کے کے قبائلی علاقے اورفاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کے فقدان کے باعث احساس کمتری کالاوا پکا اور پھر ایک پلیٹ فارم کے نام پر پھٹ گیا۔قبائلی علاقوں میں پورے پاکستان کے جرائم پیشہ افرادقبائلی علاقوں میں پناہ لیتے آئے ہیں اور قانون کی عملداری نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ افراد اپنے آپ کو قبائلی علاقہ جات میں انتہائی محفوظ تصور کرتے تھے کیا یہ پاکستان کی 69سالہ تاریخ کی تلخ حقیقت نہیں ہے؟ فاٹا اورقبائلی علاقہ جات میں چند افراد کے ہاتھ میں پورے فنڈزتھماناہماری غلطی نہیں آخر کروڑوں روپے کے عوض فاٹا کے لوگ کیوں سینیٹرز بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں جمہوری نمائندوں کو چاہیے کہ وہ مسائل کی درست نشاندہی کریں اورمسائل پرقابوپانے کیلئے عملی اقدامات کریں ۔ آج کے حالات کی ذمہ داری 1980ءکی دہائی کے فیصلوں پر ڈالنے والے جواب دیں کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پرمکمل عمل کیوں نہیں کیا آخر نیکٹا کے فنڈز کس نے روکے اور سیکیورٹی ادارے نیشنل ایکشن پلان پرجتنا عمل کررہے ہیں ان کی راہ میں روڑے کون اٹکارہاہے۔69سالہ پاکستانی تاریخ کاالمیہ ہی یہی رہا ہے کہ ہم نے قوم کو کبھی بھی درست نہیں بتایا آج کی دہشتگردی کی ذمہ داری 36سال پہلے کے فیصلوں پر ڈال کراس لئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں ہم سے نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں نہ پوچھ لیاجائے یاپھر جن اداروں نے نیشنل ایکشن پلان پرعمل جاری رکھا ہوا ہے وہ اس پرمزید تیزی کے ساتھ عملدر آمدنہ شروع کردیں ۔اب قوم ساری حقیقت جان چکی ہے کہ سب کے چہرے پہچان چکی ہے اب وہ دورنہیں رہا کہ اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پرڈال کرخودبری الذمہ ہوجایاجائے تاہم سیکیورٹی میئرز لینے میں جن لوگوں نے غفلت کامظاہرہ کیا ان کوبھی کیفرکردارتک پہنچاناچاہیے ورنہ سرحد پار سے اسی طرح حملے ہوتے رہیں گے اور طلباءوطالبات سمیت دیگرشہید ہوتے رہیں گے ہم سب کواپنی اپنی ذمہ داری سمجھنی اورپوری کرنی چاہیے۔