- الإعلانات -

سانحہ چارسدہ….بھارت افغا ن گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے . .

بدھ 20جنوری 2016ءکی صبح لگ بھگ9بجکر 15منٹ پرسانحہ آرمی پبلک اسکول کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ اور چاردن بعد ایک بارپھر مُلک دُشمن عناصراور معصوم اِنسانوں کے خون کے پیاسے اِنسان نما سفاک دریندوں نے خیبرپختونخواہ کواپنی سفاکانہ کارروائی کے لئے چنااِس مرتبہ بھی دہشت گردوں نے اپنی پیاس نہتے طالبعلوں کے پاک خون سے بجھائی ، اِس بار فرق صرف یہ تھا کہ دہشت گردوں نے اسکول کے بچوں کو اپنی سفاکانہ کارروائی کا نشانہ بنانے کے بجائے خیبرپختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرکے معصوم اور نہتے18طلبہ ایک پروفیسر اور لیب اسسٹنٹ کو شہیدجبکہ 11افراد کوزخمی کرکے اِن نہتوں کے خون سے ہولی کھیلی، زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی تھی، اِس دفع بھی 16دسمبر2014 آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے طرز کا حملہ باچاخان یونیورسٹی پر کیا گیااور اَب تک کی صاف وشفاف تحقیقات اور شواہد سے بس ایک یہی لائین سامنے آرہی ہے کہ اِس حملے کے ڈانڈے بھی حیرت انگیز طور پر سرحد پارافغانستان سے جاملے ہیں۔
جبکہ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سانحہ چارسدہ کے بارے میں میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ باچاخان یونیورسٹی حملے میں20قیمتی لوگ شہیدہوئے جن میں 18طلبااور 2اسٹاف ممبرتھے نیورسٹی پر چاردہشت گردوں نے حملہ کیا اور یونیورسٹی میں موجود سیکورٹی اسٹاف نے مزاحمت کی فوج پہنچی تو چاروں دہشت گردزندہ تھے دہشت گردوں کو سیڑھیوں اور چھت پر ماراگیادہشت گردوں کے پاس گرنینڈبھی تھے اُنہوں نے کہاکہ45 منٹ کے اندرتمام فورسز ایکٹوتھیں اگر حملہ آوروں کو روکانہ جاتاتو زیادہ نقصان ہوسکتاتھا اِن کا کہناتھا دہشت گردوں کے قبضے سے دوموبائل فونزملے ہیں جن کا تجزیہ کیاگیا اور زیادہ ترموبائل کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا چکا ہے، نادراملزمان کا مزید ڈیٹا چیک کررہی ہیں دہشت گردوں کے پاس افغانستان کی سمز تھیں اور ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعدبھی اِ س کے فون پر افغان سم سے کالیں آرہی تھیں، دہشت گردوں سے 2موبائل برآمدہوئے جن نمبروں سے کالیں ہوئیں اِن کا زیادہ سے زیادہ ڈیٹا حاصل کیا جاچکاہے، عاصم باجو ہ کا مزید یہ کہناتھاکہ ” آپریشن کے دوران دہشگردوں کے آپس میں رابطہ ہوئے تھے“ اور اِسی کے ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہناتھاکہ”جب تک اِن کے سہولت کار اور ہمدردموجود ہیں دہشت گرد کہیں بھی حملہ کرسکتے ہیں،کیونکہ پاک افغان بارڈربہت لمباہے جِسے سیل نہیں کیاجاسکتاہے“۔
آج اِس سے تو انکار نہیں کہ ہماری سول اورعسکری قیادت مُلک سے دہشت گردوں اور دیگر جرائم میں ملوث مُلک دُشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے ایک پیچ پر ہے اور دونوں کی یہی کو شش ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہوسکے مُلک میں جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں اور مُلک دُشمن عناصر کا خاتمہ کرکے مُلک کو دہشت گردوں اور دہشت گردی سے پاک کردیاجائے،یقیناجس کے لئے ہماری سول اور عسکری قیادت متحرک ہے اورآج یہی وجہ ہے کہ جِسے ہی صاف وشفاف تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی کہ چارسدہ یونیورسٹی پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کا موبائل کے زریعے رابطہ افغانستان سے تھاتو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت سے فون پر رابطہ کرکے اپنے تحفظات کا اظہارکیا اور اِن سے دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کو کہا۔
جبکہ آج اِس میں شک نہیں کہ سانحہ چارسدہ باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والادہشت گردوں کا حملہ بھی ایک قومی سانحہ ہے، جس نے ایک بار پھر ساری پاکستانی قوم کو سوگوا رکردیاہے، جس کی صدر، وزیراعظم ،آرمی چیف اور پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا،مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ںسمیت عوام اور زندگی کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ عالمی سُپر طاقتوں اور ہمارے دوست ممالک کے سربراہان نے بھی سانحہ چارسدہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور دہشت گردوں اور اِن کے سہولت کاروں کو بھی جلدازجلد کڑی سزادینے اوراِنہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جبکہ ایسے میں ایک خاص سوچ رکھنے والے طبقے اور مخصوص سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور کارکنان سمیت بہت سے اینکرپرسنز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ کہنا کیا درست ہوگا..؟ کہ خفیہ اداروں اور فورسزکی جانب سے کئی بار جاری ہونے والی پیشگی اطلاع اور ہائی الرٹ کی وارننگ کے باجودبھی کے پی کے کے ضلع سانحہ چارسدہ باچاخان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا ہوجانے والا حملہ وفاقی اور خیبرپختونخواہ کی حکومتوں اورمقامی انتظامیہ کی نااہلی کا نتیجہ ہے…؟ اَب کیا وفاقی اور کے پی کے کی حکومتیں اور چارسدہ کی ضلعی انتظامیہ اِس کاکوئی تسلی بخش جواب دے پائیں گیں یا پھر اِدھر اُدھر بغلیں جھانک کر کنی کٹاکر دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈال کر بھاگ نکلیں گیں؟؟ اور سانحہ چارسدہ کے شہداءکے لواحقین اور ورثاءاپنے پیاروں کے قاتلوں کو سزائیں دلوانے کے لئے دردرکی خاک چھانتے پھیریں گے اور بالآخر تھک ہارکر خاموش بیٹھ جائیںگے اور حکومتیں اپنے اپنے دوسرے اُمور میں لگ جائیں گیں۔بہرحال، آج جہاں اِس سوال نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کئے جانے والے انتظامات اور اقدامات پر سیکڑوں سوالیہ نشان لگادیئے ہیں تو کیا وہیں حکومتی اورعسکری قیادت کی جانب سے آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کے دعوو¿ںپر بھی ایک ہلکا پھلکا یہ سوال ضرورپیداکردیاہے کہ اگرآپریشن ضربِ عضب بغیر کسی مصلحت پسندی اور سیاسی دباو¿ اور تنقیدکے درست سمت میں جارہاہے تو پھر المناک سانحہ اے پی ایس کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ اور چاردن بعد ہی افغانستان سے آئے سفاک دہشت گردوں نے سانحہ باچاخان یونیورسٹی کے نہتے طالبعلموں اور اساتذہ اور اسٹاف کو اپنی سفاکیت کا نشانہ کیسے اورکیوں بنایا..؟ یہ اور ایسے اور بہت سے سوالات ہیں جو مُلک کا ایک خاص سوچ رکھنے والا طبقہ عوام الناس میں پیداکررہاہے اور سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے مُلک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو تنقیدکا نشانہ بناکر اِسے مشکوک بنانے کے لئے راہ ہموار کرنے میں تیزی سے سرگرمِ عمل دِکھائی دے رہاہے۔
جب بدھ 20جنوری کو سرحدپار افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد افغانستان سے موبائل فون پر ہدایات لے کر باچاخان یونیورسٹی کواپنی سفاکیت کا نشانہ بنارہے تھے اُس روزباچاخان کی برسی کے سلسلے میںمشاعرے کاانعقادکیا گیاتھا بہرکیف، باچاخان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل الرحیم کا کیا یہ کہنا بھی درست ہے کہ یونیورسٹی کو کبھی بھی دہشت گر د حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی “وائس چانسلر ڈاکٹرفضل الرحیم کا یہ جملہ بھی اپنے اندر خود ایک بڑی بحث کی راہیں کھول سکتاہے جیسا کہ اُن کے مطابق اُس وقت باچاخان یونیورسٹی میں 3ہزار طلباءاور600 مہمان موجودتھے ،اِن خیالات کا اظہاراُنہوں نے میڈیااور دریں اثناءایک پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی میں دولڑکوں اور ایک لڑکیوں کا ہاسٹل ہے ،جبکہ اُن کا یہ بھی کہناتھاکہ ”یونیورسٹی کو کبھی بھی کسی دہشت گرد حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی یونیورسٹی میں سیکورٹی کے مکمل انتظامات کئے گئے تھے“۔جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے مطابق اطلاع یہ ہے کہ یونیورسٹی کو تین روز قبل ہی یہ اطلاع مل چکی تھی کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہے اَب کیا اِس کا جواب خبیرپختونخواہ کی حکومت دے گی یایونیورسٹی کی انتظامیہ کہ کیاواقعی یونیورسٹی کو کبھی بھی کسی دہشت گرد حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی ۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)
آج بھارت لاکھ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے مگر مجھے اِس پر کسی صورت یقین نہیںہوگاکہ وہ ہم سے بے لوث دوستی کا خواہاں ہے اِس کی دوستی کے پیچھے بھی دھوکہ اور مکاری کا ہی عنصر غالب رہے گا اَب اِس پر کوئی کچھ بھی کہے مگر میراقوی خیال یہ ہے کہ آپ بھی اِس سے ضرور متفق ہوں گے کہ گزشتہ سال 16دسمبر2014کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعدایک بارپھر جس طرح بدھ 20جنوری 2016کو دہشت گردوں نے باچاخان یونیورسٹی کو اپنی ناپاک اور گھناو¿نی کارروائی کا نشانہ بناکرساری پاکستانی قوم کو پھر غم و غصے میں ڈبودیا اِس سانحہ کے پسِ پردہ بھی بھارتی سازش کارفرماہے اوراَب ہمیں ایسے میںیہاں یہ نقطہ بھی ضرورذہن نشین رکھناہوگاکہ جب تک بھارت کی افغانستان میں مداخلت جاری رہے گی اور بھارت اور افغانستان میں گٹھ جوڑ رہے گااُس وقت تک بھارت لالچی افغان شہریوں کو ڈالرز کے عوض خریدتارہے گااور زرخریدافغان دہشت گردوں کی مددسے پاکستان میں اس طرح کی کارروائیاں کرتارہے گا، کیونکہ آج نہ بھارت پاکستان کے امن اور ترقی کے خواب کو حقیقی رنگ میں پوراہوتادیکھناچاہتاہے اور نہ ہی افغانستان یہ چاہتاہے کہ پاکستان خطے میں ترقی کرے کیونکہ یہ دونوں وہی ممالک میں جنہوں نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو اول روز سے ہی تسلیم نہیں کیاہے تو اَب یہ کیوں چاہیں گے…؟؟ کہ پاکستان میں امن قائم ہواور پاکستان معاشی ، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ترقی اور خوشحالی کی راہیں طے کرتاہوااُوجِ ثُریاکی بلندیوں سے بھی اُونچاہوجائے۔
یہاں میرا اپنی سول اور عسکری قیادت سے یہ بھی کہنا ہے کہ اَب اگر ہماری سرزمینِ مقدس پاکستان میں افغانستان سے آئے دہشت گردوں نے کوئی ایسی المناک اور ناپاک کارروائی کی تو پھر ہماری سول اور عسکری قیادت ایک لمحہ اور ایک سانس بھی سوچے بغیر افغانستان میں گھس کر دہشت گردوں کی کمین گاہوں پر حملہ کرے اور اپنی سرزمین میں دہشت گردی کرنے والے بھارتی شیطان کے چیلوںاور دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کردے کیونکہ اَب مُلک کو دہشت گردی سے روکنے کا یہ ایک ہی طریقہ باقی رہ گیاہے جسے کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہم بھارتی زرخریدافغان دہشت گردوں کو لگام دے سکیں،اوراَب ایسے میں ہماری سول اور عسکری قیادت دوستی کا ہاتھ بڑھانے والی بھارتی عیاراور مکار چائے بیچنے والے بنیوں اور بھارتی قیادت کے رویوں پر بھی کڑی نگاہ رکھے کیونکہ” چورچوری سے جاتاہے ایراپھیری سے نہیںجاتاہے“۔

محمداعظم عظیم اعظم [email protected]