- الإعلانات -

اس ملک سے بھاگنے کو دل چاہتا ہے

اگر ہم مسلمانوں اور پاکستان کی حالت زار پر غور کریں تو 2ارب مسلمان دنیا کے تمام خطوں میں ذلالت اور رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اور انکی رسوائی ، تباہی اور بر با دی میں مسلم اُمہ کی نا اہل اور نالائق قیادت اور حکمران شامل ہیں ۔اگر ہم پاکستان کی سماجی اقتصادی اشاروں کو دیکھیں تو وہ انتہائی نا گفتہ بہ ہیں ۔ عالمی اقتصادی فورم2015 کی رپو رٹ کے مطابق اس وقت پاکستان انسانی وسائل کی فہرست میں 124 ممالک کی فہرست میں 113نمبر پر ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس جنوبی ایشیاءکے دوسرے ممالک نیپال (106 ویں نمبر) انڈیا (100 ویں نمبر) بنگلہ دیش (99 نمبر) ،بوٹان ( 87 نمبر) اور سری لنکا 60 ویں نمبر پر شامل ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کو چھوڑیں جنوبی ایشاءکی 7 ممالک کی فہرست میں پاکستان ہر لحا ظ سے سب سے نیچے ہے۔ کسی ملک کے بننے اور اسکو ترقی دینے میں میں لیڈران اور حکمرانوں کاانتہائی اہم کر دار ہوتا ہے ۔ وہ ملک اور قوم کے لئے ایسی پالیسیاں اور قانون سازی کرتے ہیں جس سے ملک دن دوگنی اور رات چگنی ترقی کرتا ہے۔ مگر پاکستان بننے کے 68 سال گزرنے کے با وجود بھی پاکستان کو کوئی ایسا لیڈر ، قیادت اور حکمران نہیں ملا جو پاکستان کو معاشی دھدل اور دوسرے مسائل سے نکال سکیں اور اسکو مزید دھدل میں نہ گرائیں۔ مگر یہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہر دور کے سیاست دان ، لیڈر اور حکمران طبقہ، 19 کروڑ پاکستانیوں کے سروں پر آئی ایم ایف، عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے پیسے لیتے ہیں اور وہ پاکستان اور پاکستانیوں پر خرچنے کے بجائے اُن لیڈروںاور حکمرانوں کے شاہ خرچیوں پر خرچ ہوتے اور یا یہ پیسے انکے باہر کے اکاﺅنٹس میں جمع ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس وقت 25000ارب روپے قرض دار ہے۔ پاکستان نے 1963میں مغربی جر منی کو ترقیاتی کاموں کے لئے 20 سال کی مدت کے لئے 12 کروڑ قرضہ دیا تھا ۔ جرمنی کے علاوہ پاکستان نے ما ضی میں فرانس بیلجیم، پولینڈ، ملائشیائ، انڈونیشیاءاور اسکے علاوہ دیگر اور ممالک کو انکے ترقیاتی کا موں کے لئے قرضہ دیا تھا۔اس دوران جنوبی کو ریا نے پاکستان کی تیزی سے کرتی ہوئی ترقی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کا 5 سالہ منصوبہ اپنے ملک لے جاکر اسکو عملی جامہ پہنایا اور اسوقت جنوبی کو ریا ترقی کے سفر میں پاکستان سے سینکڑوں کو س آگے نکل چکا ہے۔اگر ہم پاکستان کی اقتصادی حالت کو دیکھیں ۔عالمی بینک کی رپو رٹ کے مطابق سال 2013ءمیں پاکستان کی فی کس آمدنی 1275 ڈالر،سری لنکا کی 4500 ڈالر، بھارت کی 1600ڈالر اور چین کی فی کس آمدنی 6500ڈالر ہے اور فی کس آمدنی کے حساب سے 2013ءمیں پاکستان ان ملکوں کی فہرست میںسب سے پیچھے ہے۔ ایک ماہر اقتصادیات کے مطابق اس وقت پاکستانی سیا ست دانوں، سول اور فوجی بیورو کریٹس کے تقریبا3500ارب ڈالر دنیا کے مختلف ممالک کے بینکوںمیں پڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم وینز ویلا کی اقتصادی ترقی کو دیکھیں وینزویلا چین کے بعد واحد ملک ہے جنکی اقتصادی شر ح نمو 8فی صد ہے۔ ہو گو شا ویز کے 12 سالہ اقتدار میں وینز ویلا کی اقتصادی شرح 48 فی صد بڑھی اور اس ترقی میں انکے لیڈر ہوگو شاویز کا نہایت اہم کردار ہے۔ چین کی ترقی میں بھی انکے قائدین کی مر ہون محنت ہے۔ہم چین ، وینزویلا اور یورپی ممالک کی کیا بات کریں گے،زندگی کے دوڑ میں پاکستان تو اب بنگلہ دیش اور دوسرے ترقی پذیر ممالک سے پیچھے ہے۔ یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ مسلمان روشن مستقبل کی خاطر کنٹینروں ، لانچوں اور گا ڑیوں کی ڈگیوں میںمُر غیوں اور دوسرے پالتو جا نوروں کی طرح چھپ کر یو رپ اور دوسرے مغربی ممالک میں جانے کی کو ششیں کرتے ہیں۔ کیونکہ یو رپی اور ترقی پذیر ممالک نے علم ، تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پردنیا کے ممالک میں اہم مقام حا صل کیا ہے جو بد قسمتی سے مسلمان ممالک اور انکے لیڈران و حکمران حا صل نہ کر سکے۔ اہل مغرب اور یو رپی ممالک مسلمانوں سے ہر لحا ظ سے آگے ہیں ۔ جبکہ اسکے بر عکس دنیا کے دو ڈھائی ارب مسلمان جنکے پاس دنیا کے70 فی صد وسائل ہیں ذلالت اور کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔یورپ اور مغربی ممالک کے ویزے کو ہمارے جوان زندگی ہر چیز سے زیادہ تر جیح دیتے ہیں۔ ہر جوان لڑکے اور لڑکی کا یو رپ اور مغربی ممالک کا ویزہ ایک خواب ہوتا ہے۔ اور انکی کو شش ہوتی ہے کہ قانونی اور غیر قانونی طور پر ہت صورت میں یورپ اور مغربی ممالک چکے جائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں کی لیڈر شپ کی مناسب اور موثر پلاننگ، ہیومن ریسورسس میں ترقی اور اس پر خرچنے ،سائنس اور ٹیکنالوجی ، تعلیم اور زندگی کے دوسرے شعبوں میںاتنا کام کیا ہوا ہے کہ وہاں پر کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی ۔ میں عمران خان کے اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کسی ملک کی ترقی میٹرو، اورنج ایکسپریس سے نہیں ہوتی بلکہ وہاں کے عوام پر خرچنے سے ہو تی ہے۔کسی ملک کی ترقی کا دار ومدار وہاں پر انسانی وسائل کی ترقی سے ہو تا ہے۔ مگر مسلمان ممالک کی بد قسمتی یہ ہے کہ اُنہوں نے نہ تو انسانوں کی ترقی پر اور نہ ملکی ڈھا نچے کی ترقی پر زور دیا ، بلکہ کا ہر شعبہ زوال پذیر اور انخطاط پزیر ہے۔ یہ سائنس ٹیکنالوجی ، تعلیم کا دور ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان ہر لحا ظ اور ہر مد میں ترقی یافتہ ممالک میں سب سے پیچھے ہیں۔ اور اس میں مُسلم اُمہ کی لیڈروں اور حکمرانوںکی نا اہلی شامل ہے۔ مثلاً او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک کامجموعی قومی پیداوار 7740 ارب ڈالر یعنی 7.7ٹریلین ہے جبکہ اسکے بر عکس صرف امریکہ کا مجمو عی قومی پیداوار 16000 ارب ڈالر یعنی 16 ٹریلین جبکہ جاپان کا 6000 ارب ڈالر یعنی 6 ٹریلین ڈالر ہے۔یہ سائنس اور ٹیکنالوجی تحقیق اور ترویج کا دور ہے 80 عالمی ممالک کی فہرست میں صرف 6 اسلامی ممالک یعنی سعودی عرب ، ترکی ، پاکستان، انڈونیشیائ، مصر، ایران اور سوڈان شامل ہیں جو اپنے اپنے ممالک میں سائنس کی تحقیق اور ترویج پر سالانہ 100 ملین ڈاکر تک خرچ کرتا ہے۔ حالانکہ دنیا میں 57 اسلامی ممالک ہیں اور ان میں صرف 6ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرتے ہیں۔بد قسمتی سے مسلمان تعلیم پر بھی کچھ نہیں خرچ کرتے ۔او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک میں تعلیم پر تقریباً 3 فی صد تک خرچ کیا جاتا ہے جبکہ اسکے بر عکس تیمور، ٹوباگو اور کیوبا تعلیم پر بالترتیب 17فی صد، 16فی صد اور 15 فی صد خرچ کرتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی اور عصری علوم کو مزید پروان چڑھا نا چاہئے اور اپنے ممالک کے لوگوں میں سماجی اور اقتصادی تبدیلیاں لانا چاہئے۔ یورپ اور غیر مذہب کدھر سے کدھر پہنچ گئے اور پاکستان اور مسلم دنیا ذلیل سے ذلیل تر ہو رہی ہے۔ جب پاکستان اور مسلم دنیا کے معا ملات پر سوچتا ہوں تو اسکا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے اور سوچتا ہوں کہ اس ملک سے کہیں دور چلا جائے۔