- الإعلانات -

مسئلہ افغانستان اور پاکستان کا کردار

ایک غریب افغانستان مسلم ملک پر تکبر سے حملہ کرنے اور اسے نیست ونابود کر دینے والے، دنیا میںنیو ورلڈ آڈر جاری کرنے والے ،جو کئی سال افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے، بلکہ اُسے تورا بورا بنانے والے، نہ جانے کون کون سا جدید اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود فاقہ مست افغانیوں کو اپنے چالیس ناٹو اتحادیوں کی فوج ظفر موج کے باوجود شکست نہ دے سکنے والا متکبرامریکا اب پاکستان سے کہتا پھرتا ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے اُس کی مدد کرے۔کچھ ہفتے پہلے امریکا کے نمائندہ برائے پاکستان و افغانستان نے بھی بیان دیا تھا کہ بھارت اور افغانستان کی حفاظت کے پاکستان اقدامات کرے۔ اس بیان کے بعد ہمارے سپہ سالار نے افغانستان کا دورا کیا تھا اورامن کوا ٓگے بڑھانے کے لیے افغانستان سے بات چیت کی تھی۔اس کے بعد کئی ملکوں کے نمائندوں نے مل کر اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے امن کی کوششوں پر سیر حاصل سوچ بچار کی تھی۔اس میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ نے بھی شرکت کی تھی اور بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم جناب نواز شریف صاحب اور وزارت خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز صاحب سے بھی ملاقات کی تھی جس میں پاک بھارت مذاکرات کے لیے دونوں طرف سے رضامندی ظاہر کی گئی تھی جو اب بھی متواقع ہیں۔اس ہی سلسلے میں دو دن پہلے ایک اور کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کی گئی جس میں چار ملک، پاکستان ،افغانستان چین اور امریکا کے نمائندے شامل ہوئے اور سب نے مل جل کر مشرکہ اعلامیہ جاری کیا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان برائے راست مذاکرات ہونے چاہئیں۔یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں تشدد (آزادی کے لیے جنگ)پورے خطے کو متاثر کر رہا ہے۔مذاکرات سے پہلے حالات ساز گار بنانے کے لئے جنگ بندی ہونی چاہےے۔طالبان پر پیشگی شرائط نہ رکھی جائیں۔ تواقع ہے اس سے طالبان جنگی کاروائیاںچھوڑ کر مذاکرات کی ٹیبل پر آجانے پر تیار ہو جائیں گے۔ سرتاج عزیز نے مشورہ دیا کہ افغانستان میں امریکا اور ناٹو فوجوں کو اپنے حملے بند کر دینے چاہییں اور ساتھ ہی ساتھ طالبان کو بھی اپنی کاروائیاں روک دینی چاہیےں۔طالبان کے تمام گروپوں کو مذاکرات پرآمادہ ہوناچاہےے۔ مفاہمتی عمل جلد از جلد شروع ہونا چاہےے۔پاکستان کی پیش کردہ تجاویز پر چین نے بھی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں چار ملکوں کااگلا اجلاس اٹھارہ جنوری کو کابل میں ہونے کا بھی طے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اشرف غنی کی طرف سے اخبارات میں بڑی حیرت انگیز خبریں چھپی تھیں کہ پاکستان طالبان کو مذکرات کی ٹیبل پر لائے اور جو طالبان امن مذاکرات میں شامل نہ ہوں ان کے خلاف پاکستان افغان حکومت کے ساتھ مل کر کاروائی کرے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک بیان آج ہی پریس میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے حوالے سے آیا ہے کہ پاکستان افغانستان کو مذاکرات کرنے والے طالبان کی فہرست دے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ یہ دونوں نکتہ نظر پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہیں کیوںکہ یہ طالبان اور غنی حکومت کا اندرونی مسئلہ ہے اس میں پاکستان کو ٹانگ نہیں اڑانی چاہےے۔ اسی لیے پاکستان نے بڑی مہارت دکھاتے ہوئے چار ملکی کانفرنس میں جونکات رکھے ہیں وہ صحیح ہیں بین القوامی انصاف اور اصولوں کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔افغان طالبان خود مختیار ہیں وہ اپنے ملک کی آزادی کے لیے حملہ آورامریکا اور ناٹو کی فوجوں سے مذاحمتی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ملا عمر کی وفات کے بعد ان میں دو دھڑے ہو گئے ہیں ایک ملا منصور اور دوسرا ملا رسول، دونوں دھڑے حملہ آور فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں ساٹھ فی صد افغانستان پر ان کی حکومت ہے کبھی وہ قندوز پر قبضہ کر لیتے ہیں اور کبھی کسی اور علاقے پر قبضہ کر کے اپنی قوت مظاہرہ دکھاتے رہتے ہیں۔ دونوں دھڑوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمارے ملک سے غیر ملکی فوجیں نکل جائیں۔ہمیں اپنے ملک کا نظام خود چلانے دیا جائے۔ جبکہ امریکا نے دوسرے اسلامی ملکوں کی طرح ذبردستی ور جعلی انتخابات کے ذریعے افغانستان میں بھی اپنی پٹھو اشرف غنیعبداللہ عبداللہ حکومت قائم کی ہوئی ہے۔اس پٹھو حکومت کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ دس سال کے امریکا کی فوج کو افغانستان میں رکھنے کی اجازت دے جو اس پٹھو حکومت نے دی ہے۔اسی پر افغان پٹھو حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات ہیں جو اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو سکتے۔ امریکا بہادر کبھی پوری دنیا کے نمائندوں کو اسلام آباد میں جمع کر کے کانفرنسیں کرے اورکبھی چار ملکی کانفرنس منعقد کرے۔امریکا بھی جانتا ہے کہ اور افغانوں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ افغان طالبان کو آسانی سے مذاکرات کی ٹیبل پر لانا اتنا آسان نہیں۔آپ کسی کے ملک میں اپنی فوجوں کے ساتھ دس سال کے لیے ڈیرے ڈال کر بیٹھ جائیں اور ذبرستی اُسے مذاکرات پر مجبور کریں تو شاید افغانوں کے علاوہ کوئی قوم مجبوری میں تیار ہو جائے مگر یہ فاقہ مست افغان جو کبھی بھی کسی کی غلامی میں نہیں رہے ان سے امریکا کو تواقع نہیں رکھنی چاہےے۔ کیا امریکا کو معلوم نہیں کہ روس نے افغانستان میں کوئی بھی ہلتی ہو چیز نہیں چھوڑی تھی جس پر بمباری نہ کی ہو۔ پچاس لاکھ افغانوں کو ملک سے نکال دیا تھا دس لاکھ شہیدکیے گئے تھے اتنے ہی آپاہج بنا ددیے گئے تھے مگر وہ روس سے لڑتے رہے جب تک کہ روس نے شکست نہیں مانی اور اس لڑائی کی وجہ سے روس کے ٹکرے ٹکرے ہوگئے۔ خود امریکا نے کون سا جدید اسلحہ ہے جو افغانیوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا ہو؟ مگر افغان اب بھی زندہ ہیں امریکی اور ناٹو فوجوں سے لڑ رہے ہیں اب بھی ساٹھ فی صد سے زائد افغانستان پر ان کی حکومت ہے۔ افغان مسئلے کا حل یہ ہے کہ امریکا سیدھے طریقے سے ان کے ملک سے اپنی فوجیں نکال لیں تو شاید طالبان افغان پٹھو حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔موجودہ مذاکرات بھی امریکا کی جنگی چال نظر آتی ہے جس میں پاکستان کو پھنسانا چاہتا ہے۔وہ امریکا جو جدید اسلحہ استعمال کر کے بھی کئی سالوں سے افغانوں پر قابو نہ پا سکا اپنی لڑائی کو پاکستان میں لے آیا ہے۔ پاکستانی عوام کے ساتھ پاکستان کی فوجوں کو لڑا دیا۔پاکستانی طالبان کی بھارت کے ساتھ مل کر پشت پنائی کرتا رہا ہے۔ اب پاکستان کو افغان طالبان سے بھی لڑانے کی چال چل رہا ہے۔کیا یہ بات ممکن ہے کہ پاکستان مذاکرات کی ٹیبل پر نہ آنے والے افغان طالبان کے خلاف لڑائی مول لے؟کیا یہ ممکن ہے کہ عبداللہ عبداللہ کی فرمائیش پر مذاکرات کرنے والے طالبان کی فہرست اُس کو مہیا کرے کیا افغان طالبان پاکستان کے شہری ہیں؟ارے بھائی آپ کس قسم کے افغانستا ن کے چیف ایگزیکٹیو ہیں کہ اپنی عوام جو آپ سے لڑ رہی ہے ان کو مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں لا سکتے اور پاکستان سے ایسے مطالبے کر رہے ہو۔اس مسئلے پرپاکستان کی یہ بہت صحیح سوچ ہے کہ ناٹو اور امریکا فوجیں حملے بند کریں۔ اس کے جواب میں طالبان بھی اپنی کاروائیاں بھی بند کریں۔ایک دوسرے سے پیشگی مطالبات نہ رکھیں اور مذاکرات کی ٹیبل پر مل جل کے بیٹھیں ایک دوسرے کا نکتہ نظر سنیں اور کوئی فیصلہ کریں ۔پاکستان اس کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی پیش کرتا رہے گا۔ فیصلہ امریکی پٹھو اشرف غنی سحکومت اور افغان طالبان نے کرنا ہے ۔ افغانستان اُن کا ملک ہے اور اپنے ملک کے لیے وہ ہی کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز بھی ہیں دوسرے لوگ صرف اُن کی مدد کرسکتے ہیں۔مسئلہ افغانستان پر پاکستان کا بس یہی کردار ہے۔