- الإعلانات -

مردہ نمازندوں کی دوڑ

انسان کیا سوچتا کیا کرتا اور کیا چاہتا ہے ۔ جس کی عکاسی اس کے افعال سے کنفرم ہوتی ہے کہ وہ کیا سوچتا اور کیا کرتا اور کیا چاہتا ہے ۔ ہمارے قائدین کی سوچ سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ اپنا اور اپنوں کا من ہی راضی رکھنا چاہتے یہی کچھ کرتے اور یہی کچھ سوچتے ہیں ۔
ہمارے اکابر راہنما کیسے قوم کو ایک نقطے پر جمع کر سکتے ہیں جبکہ ہر لیڈر کا اپنا منشور ہے ۔ انہیں قرار داد مقاصد سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کیا تھی اور پاکستان کس بنیاد پر اور کیوں بنایا گیا تھا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مفاد پرست مذہبی راہنماﺅں نے اللہ کے گھر کو بھی ایک نہیں رہنے دیا ۔ اب سنی دیوبندی کی مسجد علیحدہ ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوںعقیدوں کے حاملین اب کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں ۔ اب نماز اللہ کیلئے نہیں مسلک کیلئے پڑھی جاتی ہے ۔ ابھی ابتداءہے اور انتہا یہ کہاں تک لے جائیں گے اللہ نہ کرے میرا گمان سچ ہو ۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اس میں ہر خاص و عام کو ایک جیسا حق حاصل ہے ۔ مسجد میں اگر کوئی فقیر آ کر صدا بلند کر دے تو ہمارے لوگ یوں اس پر بولتے ہیں جیسے وہ ہی رازق ہیں ۔ اللہ کے بندو کیا تم نے کبھی سوچا کہ کہ تم بھی اللہ کے ہاں فقیر ہی ہو اور اگر اس کا کوئی بندہ تم تک حاجت رسائی کیلئے اپنی خودی اور انا کو مار کر آ تا ہے تو تم اس کی تکذیب کرتے ہو ۔ اگر تم اللہ کے در پر بیٹھ کر اس کے بندہ کو یوں دھتکارو گے تو کیا تم ڈر نہیں لگتا کہ کہیں تم اس مختار کل کے ہاں سے نہ دھتکار دیئے جاﺅ۔ عورت کو تو ہمارے معاشرہ میں نجس کی حیثت سے دیکھا جا تا ہے ۔ خواتین کی تحریم کا عنصر شاید ہمارے ہاں رہا ہی نہیں ۔ بیوی پاﺅں کی جوتی اور بیٹی کو ایسے رکھا جاتا ہے جیسے پالتو جانور جب مناسب مول لگا اگے کر دیں گے ۔ بہو غلام سمجھی جاتی ہے ۔ ان کے شریعت اور انسانیت پر لیکچر سنو تو انسان کے آنسو نکل آتے ہیں ۔
مذہبی طبقہ جو کہ کسی بھی معاشرہ کی بنیاد ہوتا جب وہی اس کی یکجہتی کو پارا پارا کرنے میں ہراول کا کردار ادا کرنا شروع کر دے تو اس معاشرہ کو کون یکجا کر سکتا ہے ۔ سیاسی قائدین جن کی اہم ترین ذمہ داری معاشرہ کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کی دہلیز تک آسان فراہمی ہے ۔ ہمارے قائدین اس سیاسی کردار کی بجائے شخصیت پرستی کے پیامبر ہو چکے ہیں ۔ جو گذر گئے وہ تو اپنا کردار ادا کرگئے اب تو تمھاری باری ہے تم کیا صرف پدرم چہ سلطان بود ہی کو اپنا اثاثہ بنائے رکھو گے ۔ ہر ذی وقار کا فرزند اگر بابر غوری صلاح الدین ایوبی ہوتا تو آج ملت اسلامیہ اس طرح رسوا نہ ہو رہی ہوتی ۔ ہم نے وراثت میں شخصیت پرستی میں اس بری طرح گھر چکے ہیں کہ اب سیاست اور مذہب میں بھی کردار کی اہمیت نہیں رہی ۔ صوفیاءاکرام کی تصانیف میں لکھا ہے کہ ولایت کبھی بھی وراثت میں نہیں ملتی بلکہ یہ ہمیشہ باہر کی طرف اور اگے کی طرف منتقل کی جاتی ہے ۔ پھر بھی ہمارے ہاں پیر پرستی اور شخصیت پرستی شرک کی حد تک پہنچی ہوئی ہے ۔
سیاسی قائدین معاشرتی اسلوب سے انحراف کر کے اپنی شخصیت کے سحر سے معاشرہ میں مقام بنانے پر زور دئیے ہوئے ہیں۔ جتنی سرمایہ کاری وہ اپنی شخصیت کو ابھارنے پر کرتے ہیں اگر یہی سرمایہ وہ معاشرہ کی فلاح و بہبود کے کسی منصوبہ پر کرتے تو یقینا اس وقت پارلمینٹ کے اراکین کے تعداد کے برابر چھوٹے چھوٹے کتنے منصوبہ جات معاشرہ میں ان کے نام کو امر کررہے ہوتے ۔ چند پارلیمنٹیرین اگر مل کر کسی دیہی علاقہ میں ہسپتال سکول توانائی اور صنعت قائم کرنے پر توجہ دیتے تو آج بلوچستان اور تھر کے مظلوم لوگ یوں زندگی کیلئے نہ ترس رہے ہوتے ۔ سیاسی گھرانوں نے اقتدار اختیار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے صرف قومی خزانہ کو ہی مرکز نگاہ بنا رکھا ہے ۔ عوام کے خون پسینے سے نچوڑا ہوا ٹیکسوں کی مد میں پیسہ انہی پر کسی بھی جگہ لگا کر اس پر اپنے نام کی تختی لگا نا عوام کی جوتی عوام کے سر پر مارنے کے عین مترادف ہے ۔ انہی ٹیکسوں کی رقوم سے سیاسی اکابرین پروٹوکول اور مراعات بھی لیتے ہیں پھر بھی قوم کے حاکم کہلاتے ہیں ۔ اگر سیاستدان قوم کے نمائیندے کہلاتے ہیں تو پھر وہ قومی خزانے سے جو تنخواہ لیتے ہیں اس کی تعریف کی رو سے تو وہ نمائیندے نہیں بلکہ نوکر ہیں ۔ قوم کے تنخواہ دار ملازم کی کیا اوقات کہ وہ قوم کی نمائیندگی کرے ۔ نمائیندگی حضرت قائد اعظم نے کی تھی اور وہ قوم کے نمائیندہ کہلانے کے مستحق بھی ہیں ۔اپنی جیب سے خرچ کیا اور قوم کی نمائیندگی میں اپنا خون جلاکر قوم کو منزل سے روشناس کرایا ۔
سیاسی پارٹیاںاربوں روپیہ الیکشن میں صرف کر دیتی ہیں ۔ آج تک کسی سیاسی جماعت نے پارٹی فنڈ سے کوئی بھی قومی ترقی کا منصوبہ بناکر قومی ترقی میں اپنا کردار نبھا کر نہیں دکھایا ۔ کروڑوں روپے پارٹی کی یوم تاسیس اور سیاسی اکابرین کی برتھ ڈے پارٹیوں اور ان کے یوم وفات پر لگا کر قوم کی کیا خدمت کی جا سکتی ہے ۔ یہی رقوم ملک میں صنعت و حرفت اور توانائی کے منصوبہ جات پر صرف کر کے قوم کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا کیا سیاسی اور معاشرتی ترقی کا زینہ نہیں ۔ کوئی زندہ کو مردہ تو کوئی مردہ کو زندہ کرنے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔
اس سیاسی اسلوب سے کس طرح قوم کو یکجا اور ترقی کی منازل طے کرائی جا سکتی ہیں ۔ بھٹوزندہ ہے تو ایوب بھی تو اسی طرح زندہ ہے ۔ اگر یحیٰ مردہ ہے تو اس کے تقلید کار تو اب بھی ایوان حکمرانی کی غلام گردشوں میں ابھی نظر آ رہے ہیں ۔ ہمارے لیے اہم یہ ہے کہ جس نے جو کردار ادا کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوایا اس کی تقلید کر کے اس کے کام کو اگے بڑھائیں ۔ کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے متروک مسلہ قرار دے کر ہٹانے کی کوشش عروج بلکہ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے لیکن بھٹو کے ورثا کو اس کی پرواہ نہیں ۔ ایوب جس نے 65کی جنگ لڑی اس کے وارث امن کی آشا کی پناہ میں مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ پھر کیسے کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ اور ایوب کی یاد ہمارے دلوں میں آج بھی قائم ہے ۔ بلوچستان سندھ سرحد میں عوام کی زندگیاں اجیرن ہیں ۔ بلوچ سیاسی اکابر محرومیوں کا ذمہ دار ہے لیکن سیاسی پلیٹ فارم پر اس کے وارث ہی اس کے جرم کے سزا عام بلوچ کو دے رہے ہیں ۔ پھر بھی وہ معتبر قرار پاتے ہیں ۔ سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت دہائیوں سے ہے لیکن محرومیوں کا سبب کوئی اور ہے ۔ سرحد میں سرخے اور سرخاب والوں کی حویلیاں آج بھی سیاست کا محور و مرکز ہیں لیکن محرومی کا ان سے کوئی تذکرہ نہیں۔ پنجاب ہو گلکت بلتستان یا پھر کشمیر ایک مخصوص لابی ہی اس پر دہائیوں سے اختیار و اقتدار کی جنگ میں عوام کو محروم رکھ کر اپنی مظلومیت اور بیچارگی کی سند عوام سے جمہوریت کے نام پر لیتی رہتی ہے ۔ انصاف مساوات انسانی حقوق کے نام پر سیاست شروع کر کے اس کی بنیادوں میں ہی بے انصافی کو شامل کر کے جمہوریت کی تکذیب سے کبھی بھی معاشرہ کو منزل تک نہیں لے جا یا جا سکتا ۔ یہ قوم اپنے ملک سے محبت کرتی کیونکہ دھرتی تو ماں ہے اور ماں سے محبت اولاد کا سرمایہ ہے ۔کیا اکابر اس دھرتی کے بیٹے نہیں جو اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ بھی دغا کرنے سے نہیں چوکتے ۔