- الإعلانات -

پاکستان ایک ایٹمی طاقت

یوں تو ازل سے حق و باطل کا معرکہ جاری ہے لیکن رسالت مآب صل اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد باطل زیادہ متحرک ہوا ہے باطل قوتوں نے حق کا راستہ روکنے کے لئے ہر حربہ آزمایا لیکن حق اپنے راستے پہ چلتا رہا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا حق و باطل کا معرکے میں مال و جان کی قربانیاں معمول ہے اس کی معراج خانوادہ نبوت کے چراغ عالمتاب حضرت امام حسین ؓ کا قرآن پڑھتا سر مبارک نیزے کی انی پر پرو دیا جانا تھا جن نفوس طاہرہ کو دیکھ کر سورج بھی حیا کرتا سر کی چادروں کے بغیر سر بازار لے جایا اور دربار یزید لعین میں پیش کیا گیا مسلمانوں کی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں غیروں سے زیادہ اپنوں کی کاگزاریوں کا عمل دخل تھامثلا تیمور اگر سلطان یلدرم کی پیچھے سے حملہ کرکے پیٹھ میں چھرا نہ گھونپتا تو یورپ کی تاریخ مختلف ہوتی اسپین میں اسلامی حکومت کا خاتمہ کی وجہ بھی اپنوں ہی کی کارفرمائیاں تھیں جب بھی مسلمان آپس میں الجھے کوئی تیسری باطل طاقت فائدہ اٹھا گئی سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ملعون قوم یہودی تھے اس سازشی اور حجتی قوم نے نافرمانیاں کرکے اللہ کو ناراض کیا اور مدینہ منورہ میں ان ملعونوں نے فتنوں کی انتہا کر دی اسی لئے نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو پورے جزیرہ نما عرب سے نکال دیا اس کے بعد ریاست مدینہ مکرمہ میں سکون ہوا یہودی بنیادی طور پر ہے ہی فتنہ پرور قوم آج دنیا میں جتنے بھی فتنے سر اٹھا رہے ہیں کہیں نہ کہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہودی ہاتھ ہی کار فرما ہوگا مادی دولت کی چونکہ ان کے ہاں ہمیشہ فراوانی رہی ہے اسی دولت سے مزید دولت بٹورنے کے لئے یہودی سب کچھ کر سکتے ہیں بھروسہ اور خاص طور کسی اور پر یہودی اس کو جرم سمجھتے ہیں بچوں کی تربیت کے دوران اپنی چھوٹے سے بچے کو میز پر کھڑا کرکے اس کے سامنے اپنے بازو پھیلا کر کہتے ہیں آجاﺅ جیسے ہی بچہ ماں باپ طرف لپکتا ہے یہ ہاتھ پیچھے ہٹا لیتے ہیں اور بچہ زمین پر گر جاتا ہے اور چوٹ لگتی تو بچے کہتے ہیں کہ ہم تمھارے والدین ہیں ہم پر تم نے بھروسہ کیا اور ہم نے تم کو دھوکہ دیا اور تم نے گر کر چوٹ کھا لی تو کیا کسی اور پر بھروسہ کر سکتے ہو مقصد بچے کے دماغ میں یہ بات راسخ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ بھروسہ کسی پر نہیں کرنا تو ایسی فریبی قوم تو اپنے مفاد کے لئے کس حد تک جا سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ان کا اپنا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے انہوں نی 1717 عیسوی میں فری میسن نام کی تنظیم کی بنیاد رکھی جو خفیہ ہوتی ہے شروع میں عام لوگوں کو مخلوط پارٹیوں میں بلایا جاتا ہے اس اجتماع میں سے اپنے ڈھب کے لوگ چھانٹے جاتے ہیں ان کی آہستہ آہستہ بریں واشنگ کی جاتی ہے اپنے وقت کے نامور لوگ اس خفیہ تنظیم کے ممبر رہے ہیں ان کے ہاں باقائدہ شیطان کی پرستش کی جاتی ہے یہودی چونکہ کتابوں کے محرف تھے انہوں نے تورات میں تحریف کر کے مشہور کردیا کہ حضرت سلیمان علیہ سلام جادوگر ہیں اس لئے فری میسن اپنے ممبران کو جادو بھی سکھاتے ہیں اور شیطان کی پوجا کرائی جاتی ہے اور شیطان سے اظہار ہمدردی کیا جاتا ہے کہ کیا ایسی بڑی بات ہو گئی تھی کہ آدم کو ابلیس نے سجدہ نہیں کیا معاذاللہ معاذاللہ اور اللہ رب العزت پر بہتان تراشی بھی ان کی تعلیمات کا حصہ ہے حکومت پاکستان نے 70 کی دہائی کے شروع میں ملک میں پھیلے ہوئے فری میسن لاجز ختم کر دئے تھے اب بھی یہ لوگ موجود ہیں لیکن انکی سرگرمیاں سب کچھ خفیہ ہوتا ہے ان یہودیوں کا ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کا خواب 2000 سال پرانا ہے جب بادشاہ desious یا دقیانوس ان کے ہیکل کو گرا کر چلا گیا ان کے عقیدے کے مطابق جب تک ہیکل سلیمانی دوبارہ نہیں بنے گا ان کا بادشاہ مسایا نہیں آئے گا (ہم اس سلسلے کی کچھ معلومات دجال کے باب میں پچھلے کالموں میں عرض کر چکے ہیں) مال و دولت کی فراوانی اور ابلیسی ذہنیت کے ساتھ دوہزار سال سے اپنا ایجنڈہ بڑھا رہے ہیں یہودیوں کے بزرگوں نے 1901 عیسوی میں پروٹول آف ایلڈرس کے نام کچھ بنیادی اصول طے کئے تھے جس میں اسرائیل کا قیام وہاں اپنا فوجی تسلط قائم کرنا اور فوجی طاقت بڑھانا اب سلطنت عثمانیہ کو یہ اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے جو ماضی قریب میں مسلمانوں ایک بہت بڑی خلافت تھی جس کی سرحدیں پورا مشرق وسطی ترکی سے یورپ تک پھیلی ہوئی تھیں اور ترکی میں دارالخلافہ تھا جو اس وقت بہت بڑی فوجی طاقت تھی اب سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنا ان کی پہلی ترجیح ٹھہری اس کے لئے یہودیوں نے 28جون 1914 کو سرائیوو میں پیس برگ تخت کے وارث شہزادہ فرانسس اور اس کی بیوی صوفیہ کو قتل کروادیا اور کرائے کا قاتل ایک روسی شہری تھا اس طرح کہ بادشاہ زار کے روس پر قتل کا شبہ ہوا جو جرمنی کے ساتھ معاہدے میں تھا اسی طرح اتحادی برطانیہ فرانس سربیا اور دیگر اتحادیوں کے مابین ایک معاہدہ تھا کی کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا اب توپوں کا رخ روس اور جرمنی آسٹریا اور ہنگری کی جانب ہو گیا سلطنت عثمانیہ اس معاملے ذرا فاصلے پر تھی جاری ہے۔