- الإعلانات -

کشمیریوں کا یوم سیاہ اور فلم”پی کے“

”ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کسی کی زندگی پربات کی جائے تو اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، کوئی آزادانہ طریقے سے نہ لکھ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کہہ سکتا ہے تو ایسے ماحول میں ہم اپنے آپ کو جمہوری کس طرح کہہ سکتے ہیں، ملک میں بڑھتی عدم برداشت کے ماحول پر کچھ نہیں بولوں گا کیوں کہ بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکاروں نے اس پربولنے کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھ کیا ہوا وہ سب کو معلوم ہے اور اس ملک میں آپ وہ نہیں کرسکتے جس کی حکومت آپ کو اجازت نہ دے۔ بطور ہدایت کار انہیں ہرسطح پرلگتا ہے کہ وہ جکڑے ہوئے ہیں اور جہاں جاتے ہیں خوف کے سائے ساتھ چلتے ہیں۔جہاں جاتا ہوں وہاں قانونی نوٹسز انتظارکررہے ہوتے ہیں اورمجھ پراتنے مقدمات قائم کردیئے گئے ہیں کہ مجھے ایف آئی آر کا بادشاہ بنادیا گیا ہے اور مجھے نہیں پتا کہ تقریب کے بعد جب گھر پہنچوں توکون میرے خلاف مقدمہ درج کرا دے“ ۔ یہ الفاظ ہیں دنیا کی سب بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک بھارت کے ایک فلم ساز کرن جوہر کے جوانہوں نے جے پورلٹریچرفیسٹیول میں اپنے خطاب کے دوران کہے۔یہی ملک آج26 جنوری کو اپنا 56 واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔ بھارت میں یہ دن 1950 سے منایا جارہا ہے اس دن دستور ہند کا نفاذ عمل میںآیا تھا جبکہ اس سے قبل 1935 کا حکومت ہند ایکٹ نافذ تھا۔ بھارتی حکمرانوں کو اس بات پر ناز ہے کہ وہ دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ہیں اور اسکاآئین مکمل طورپر سیکولر ہے۔یوم جمہوریہ بھارت کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھی منایا جاتا ہے، مگر کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی کشمیری رہنماﺅں نے یوم سیاہ کی کال دے رکھی ہے۔یوم جمہوریہ کا دن قریب آتے ہی مقبوضہ کشمیر میں پکڑ دھکڑ اور کرفیو کا سماںعروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس برس بھی یہی صورتحال ہے۔بڑے دھوم دھڑکے سے یوم جمہوریہ منانے والے بھارتی حکمرانوں خصوصاً مودی جی کو اپنے گریباں میں جھانک لینا چاہیے کہ وہ کس منہ سے آج یوم جمہوریہ منا رہے۔ حقیقی جمہوری ملکوں میں رواداری ، برداشت اور انسانی حقوق کا بول بالا ہوتا ہے، مگرگزشتہ دو سال میں یہ سب کچھ بھارت سے عنقا ہوچکا ہے۔اقلیتیں تو اقلیتیں ادیب ، لکھاری ، فلم ساز اور فنکار بھی اب مودی کی ”جمہوریت“ کا شکار ہوچکے ہیں۔بھارتی فلم ساز کرن جوہر نے بھاری جمہوریت کا جس طرح پردہ چاک کیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے قبل ازیں گزشتہ سال اپنی 50ویں سالگرہ کے موقع پر شاہ رخ نے بھی ایک شو کے دوران ہندوستان میں بڑھتی عدم برداشت کے حوالے سے بات کی تھی جس میں ان کا کہنا تھاہندوستان میں عدم برداشت ہے، میں سمجھتا ہوں یہاں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔ شاہ رخ کے بیان کے کچھ عرصے بعد عامر نے بھی ملک میں بڑھتی عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ان دونوں اداکاروں کے خلاف ہندوستان میں کئی احتجاج کیے گئے جس سے شاہ رخ کی فلم دل والے بھی متاثر ہوئی۔عامر خان کی بخشش تو اب تک نہیں ہوئی۔ اب ان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی اگلے روزنے ایک نیا الزام دھر دیا ہے کہ ان کی فلم پی کے کو آئی ایس آئی نے سپانسر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عامر خان نے اپنی فلم ’پی کے‘ کے پروموشن کے لئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مددحاصل کی تھی۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیئے اپنے بیان میں سوامی نے اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ عامر نے اپنی فلم’ پی کے‘ کے پروموشن کے لئے آئی ایس آئی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔حسب سابق موصوف سوامی نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ان سے یہ بجا طور پر پوچھا جانا چاہئے کہ ‘پی کے‘ فلم 2014میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے پروموشن کےلئے اگر عامر نے آئی ایس آئی سے ہاتھ ملایا تھا تو اس وقت وہ کیوں خاموش رہے؟ اپنی و قوم کو کیوں نہیں بتایا کہ عامر اور آئی ایس آئی ساز باز کر رہے ہیں۔ عامر خان نے گزشتہ سال نومبر میں کہا تھا کہ ملک میں عدم برداشت کے ماحول کی وجہ سے ایک موقع پر انکی اہلیہ کرن راﺅ نے ملک سے منتقل ہو کر کہیں اور بس جانے کی بات کہی تھی۔حالانکہ عامر خان نے وضاحت سے کہا تھا کہ وطن چھوڑنے کا مشورہ انکی اہلیہ جو ہندو ہیںکا تھالیکن آفتوں کا پہاڑ عامر خان پر ٹوٹنے لگا۔ بی جے پی کے کئی شِکرے آستینیں چڑھا کرمیدان میں آگئے اور عامر خان کو غدار وطن تک کہہ ڈالا۔ عامر خان سے متعلق یہ تنازعہ تقریباً ختم ہو چکا تھا لیکن بی جے پی نے شاید کچھ سوچ کر اسے از سر نو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی چند روز پہلے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے عامر کا نام لئے بغیر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ملک کے وقار کے بارے میں صرف آٹو ڈرائیوروں کو ہی نہیں بلکہ اپنی بیوی کو بھی ملک پر فخر کرنے کا گیان دینا چاہئے۔ اس سے قبل بی جے پی کے رہنما کیلاش وجئے ورگیہ نے ایک پروگرام میں عامر اور شاہ رخ کو اشاروں ہی اشاروں میں دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عدم تحمل کی بات کرنے والوں کا علاج کرنا پڑتا ہے۔ ابھی ایک کا علاج ہوا ہے دوسراباقی ہے۔ ہمیں دنگل میں منگل کرنا ہے۔ اس بیان کے ذریعہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو عامر کی آنے والی فلم دنگل کی طرف اشارہ کر کے اسکی ریلیز میں رکاوٹ ڈالنے کا اشارہ دے دیا ہے۔بھارت کے اندر موصوف کے بارے رائے ہے کہ متنازعہ بیانات دینے اور سنسنی پھیلانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ممبراورآل انڈیاتعلیمی وملی فاو¿نڈیشن کے صدرمولانا اسرار الحق قاسمی اپنے ایک حالیہ تجزیے میں لکھتے ہیں کہ” الزام تراشی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ بغیر سوچے سمجھے کسی پر بھی کوئی بھی الزام لگا دیتے ہیں۔ دعوی کرتے ہیں کہ انکے پاس پختہ ثبوت ہیں لیکن آج تک شاید ہی اپنا کوئی بھی الزام ثابت کر سکے ہوں۔نتیجے میں عدالتوں کی پھٹکار ان کا مقدر بنتی ہیں۔ پھر بھی باز نہیں آتے۔نہرو گاندھی خاندان سے خداواسطے کا بغض رکھتے ہیں۔ کبھی سونیا گاندھی نشانے پر رہتی ہیں تو کبھی راہل گاندھی۔ ان ہی کج رو خیالات و افکار بلکہ خرافات کی وجہ سے سوامی آج کل آر ایس ایس کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں اور اس ہندوتوا وادی تنظیم کی سرپرستی میں اسلام اور مسلم مخالفت کے ساتھ ساتھ شہیدبابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ ابھی 12 جنوری کو دارالسلطنت دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے زور دیکرکہا کہ مسلمانوں کو ایودھیا‘ متھرا اور بنارس میں تین مساجد پر اپنا دعویٰ ترک کر دینا ہوگا تاکہ وہاں مندر بننے کی راہ ہموار ہو سکے“۔موصوف کی مقامی سیاست میں کتنی قدر ہے اس کا اندازا اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا وی سی بنانے کی اطلاع سامنے آئی تو یونیورسٹی کے طلبہ یونین نے انہیں وائس چانسلر بنائے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کی اور فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی طرح تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی۔طلبہ یونین کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ مودی حکومت تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے لئے سوامی کو اس یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنانے جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے ایجنڈے کو نافذ کر سکے لیکن ہم طلبہ ایساہونے نہیں دیں گے اور اس کی جم کر مخالفت کریں گے۔یہ بھی کہا گیا کہ سوامی اپنے اسلام مخالف بیانات کے لئے جانے جاتے رہے ہیں اور اس وجہ سے ہی وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر ہٹائے بھی گئے تھے۔پاکستان سے کارروائی کا مطالبہ کرنے والی مودی حکومت بتائے کہ پی آئی اے کے دہلی آفس پر حملہ کیا دہشت گردی نہیں ہے اور حملہ آور بجرنگ دل کے دہشت گردوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔