- الإعلانات -

ڈاکٹرجمشید ترین(م) کی مثالی خدمات

تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور ممبر بورڈ آف گورنرز نظریہ پاکستان ٹرسٹ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ انکا شمار حمید نظامی مرحوم اور مجید نظامی مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ مرحوم نے ساری زندگی نظریہءپاکستان کی ترویج و اشاعت کیلئے بھرپورکام کیا۔28 نومبر 1998ءکو تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور اگست 2009ء میں اسکے چیئرمین بننے کے بعد انہوں نے کارکنان تحریک پاکستان کی فلاح و بہبود کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر کرنل جمشید احمد ترین کا شمار ان مدبرین میں ہوتا تھا جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کیلئے بڑی جانفشانی سے کام کیا۔ 1940ءمیں جب ایمرسن کالج ملتان میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اسکے بانی ارکان میں شامل تھے۔ 1941ء میں ایف۔ سی کالج لاہور میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی تو آپ یہاں پر سال سوم کے طالب علم تھے اور بانی ارکان میں شامل تھے۔ بعد میں آپ کو صدر چ±نا گیا۔ 1943ء میں آپ نے کے۔ ای میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ اس وقت کے۔ای میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آ چکا تھا لیکن اس کے عہدیداران کا انتخاب ابھی نہیں ہوا تھا۔ وہاں آپ کو فیڈریشن کا پہلا جنرل سیکرٹری چنا گیا۔ اسی سال آپ مجلس عاملہ کے رکن بھی چنے گئے۔ جب تحریک سول نافرمانی کا آغاز ہوا تو اس میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ کئی مرتبہ پولیس کے ہاتھوں تشددکا نشانہ بنے اور پابند سلاسل بھی ہوئے۔ 1946ء میں الیکشن ہوئے تو مسلم لیگی ا±میدواروں کی کنویسنگ کے لئے دن رات کام کرتے رہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام ا±بھرا تو مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے جن کی بحالی کیلئے کام کیا۔ میڈیکل کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے مہاجرین کو طبی سہولیات بہم پہنچاتے رہے۔آپ کو قائداعظمؒسے کئی بار ملاقات کا شرف حاصل رہا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کر لی۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور کے سرگنگا رام ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس ہسپتال کی ترقی و توسیع کے سلسلے میں شاندار کردار ادا کیا۔ بعدازاں خود کو قومی اور سماجی کاموں کیلئے وقف کر دیا۔ ڈاکٹر جمشید ترین کی خدمات زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ تحریک پاکستان کے ورکرز کو انہوں نے کھوج کھوج کر نکالا، ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، گولڈ میڈل دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے خاندانوں کو احساس دلایا کہ جس شخص کو انہوں نے پرانے سامان کی طرح گھر کے کونے میں جگہ دے رکھی ہے، اس کی اہمیت اس معاشرے میں آج بھی ہے چنانچہ تحریک پاکستان کے ورکرزکو نہ صرف گولڈ میڈلز دے کر حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں سر چھپانے کے لئے پلاٹس بھی لے کر دیئے گئے۔ورکرز کی اپنی ذاتی جیب سے بھی خدمت کی، ہر کسی سے مسکرا کر ملتے تھے اور ہمیشہ سر اٹھا کر جینے کا درس دیتے تھے۔ ڈاکٹر جمشید ترین کے صاحبزادوں میں سے شوکت ترین نے بینکاری کے شعبے میں عالمی سطح پر بہت نام کمایا ہے اور پاکستان کی حکومت کو ماضی میں معاشی مسائل سے نکالنے کے لئے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں ،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چند سال پہلے ہی عالمی سطح پر دیوالیہ قرار دے دیا جاتا۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں ، لیکن ڈاکٹر جمشید ترین کبھی حالات سے دل برداشتہ نہیں ہوئے تھے۔ انہیں دو مرتبہ قید و بند میں بھی ڈالا گیا۔ پہلی بار 1944ءمیں بطور سٹوڈنٹس لیڈر اور دوسری بار 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جنگی قیدی بنایا گیا۔ جب میجر نادر پرویز فرار ہوئے چونکہ ڈاکٹر جمشید ترین بھی ان کے ساتھ ہی بند تھے ،لہٰذا دشمنوں نے ان پر بہت سختی کی اور کہا کہ اس کے فرار میں آپ کا ہاتھ ہے تو اس وقت کرنل جمشید ترین نے سینہ تان کر کہا ،اگرچہ میرا اسے فرار کرانے میں کوئی کردار نہیں ہے ،لیکن اگر وہ کہتا تو میں ضرور اس کی مدد کرتا۔ جنگی قیدی کی حیثیت میں وہ دن رات تلاوت قرآن پاک میں مصروف رہتے اور بعض اوقات تو دن میں ایک پورا قرآن حکیم پڑھ لیتے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت میں رکھے ،کیونکہ وہ اللہ کے سپاہی تھے۔ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیا جس میںپروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘شوکت ترین‘عظمت ترین ‘ کرنل (ر) سلیم ملک ‘ میاں فاروق الطاف‘جسٹس(ر) آفتاب فرخ‘ مجیب الرحمن شامی‘ چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ افتخار علی ملک‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘بیگم مہناز رفیع‘ڈاکٹر اجمل نیازی‘ایم کے انور بغدادی اور میاں محمد ابراہیم طاہر بھی موجود تھے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ کرنل (ر)ڈاکٹر جمشےد احمد ترےن مرحوم نے نہ صرف قےامِ پاکستان کے لئے جدوجہد کی بلکہ پاک فوج مےں شامل ہوکر دفاع وطن کا مقدس فرےضہ بھی انجام دےا۔ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشےد احمد ترےن مرحوم کو بذاتِ خود تحرےک پاکستان مےں حصہ لےنے کا شرف حاصل تھا‘ لہٰذا تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور چےئرمےن کی حےثےت سے انہوں نے قائداعظمؒ کے ان سپاہےوں کی فلاح و بہبود کے لئے گرانقدر خدمات انجام دےں۔پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر جمشید ترین پاکستان اور قائد اعظمؒ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ قائد اعظمؒ یا پاکستان کی شان میں گستاخی کرے یا ان کے خلاف کوئی بات کرے۔ بڑی محبت سے بتاتے تھے کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور نظریہءپاکستان میں بچوں کے لئے نظریاتی سمر سکول میں بھی ان کی کاوشوں کا بہت عمل دخل ہے۔ بچوں کو بہت محبت سے پاکستان کی تاریخ بتایا کرتے تھے۔بہت سادہ طبیعت اور انصاف پسند تھے ،اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے تھے۔ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور بہت بیباک تھے۔ کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔ مرحوم کے بڑے بیٹے سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر) جمشید احمد ترین بحیثیت باپ رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ہماری تربیت یہ کہہ کر کی کہ ہمیشہ سچ بولیں، ایماندار رہیں، کسی سے ڈریں نہیں اور رزق حلال کمائیں۔ وہ بہت شفیق باپ تھے۔ پاکستانیت اور انسانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ شوکت ترین نے کہا علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ انہیں والہانہ عقیدت تھی۔کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین کو اللہ تعالیٰ نے بڑا فےاض طبع بناےا تھا۔ ےتےموں اور مسکےنوں پر دست شفقت رکھنا اور تنگ دستوں کی مدد کرنا ان کا شےوہ تھا۔ وہ خود بھی خلق خدا کے کام آتے تھے اور دوسروں کوبھی اےسا کرنے کی تاکےد کرتے تھے۔ ان کی فےاضی نے اےک عالم کو ان کا گروےدہ بنا دےا تھا اور مےں سمجھتا ہوں کہ انہوںنے ان اوصاف کی بناءپر دنےا مےں ہی جنت کمالی تھی۔