- الإعلانات -

حکومت اب”قربانی کیلئے تیار ہیں“ کی رٹ چھوڑ دے

آج پھر پاکستان کا پرچم سرنگوں رہا غمگین اور اُداس کہ ٓاج چارسدہ میں اس کے بچے خون میں نہلا دیے گئے تھے جوان گھبرو بچے۔وہ جوان جنہوں نے صرف چند ماہ بعد بہت سارے میدان سنھبالنے تھے عملی زندگی میں آنا تھا، سائنس،انتظامیہ،ادب اور بہت سارے دوسرے میدان مارنے تھے وہ مار دیے گئے اور ساتھ ہی بہت سی اُمیدیں بھی مار دی گئی۔ اس سے صرف ایک دن پہلے حیات آباد میں دس افراد ایسی ہی بر بریت کا شکا ہو ئے ،ننھا شاہ زیب دس روپے کا نوٹ مٹھی میں دبائے معلوم نہیں ٹا فیاں ،چپس یا کچھ اور خریدنے کے ارمان دل میں لیے اپنی جان ہار گیا اس شہید بچے کی معصوم لاش نے پہاڑوں کو بھی رُلا دیا۔اس سے پہلے کوئٹہ میں گیارہ بے گناہ خون میں نہلا دیے گئے۔ نیا سال جس کی مبارک بادیں یوں دی جا ر ہی تھی جیسے عید آگئی ہواسے دہشت گردی کے خاتمے کا سال بھی قرار دیا گیا خدا کرے کہ ایسا ہو لیکن ابھی تک تو اس نے اپنے ابتدائی دنوں میں خون ہی خون دیکھ لیا اورپرچم کو سر نگوں ہوتے دیکھا۔ابھی تک کوئی پرچم کے اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے کیوں اسے بار بار سر نگوں ہونا پڑتا ہے پرچم کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن آج اسے یوں سر جھکائے دیکھ کر آنسو ٹپک رہے تھے یہ اُن نوجوانوں کے خون کی سُرخی تھی جو چارسدہ میں بہہ گیا تھا اور پوری قوم کو رُلا گیا۔ قوم کو یہ بتایا گیا ہے کہ بہت ساری کڑیاں مل گئی ہے، واقعے کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں وغیرہ وغیرہ، ایسا ہے تو پھر مجرم پکڑے کیوں نہیں جاتے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو سزا کیوں نہیں پاتے۔ سانحہ اے پی ایس ہو ا تو قوم یک جان ہو گئی ،نیشنل ایکشن پلان بنا ، پھانسی کی سزا پر پابندی ختم ہوئی اور آپریشن ضرب عضب میں تیزی لائی گئی۔ اگر چہ جون2014 میں شروع ہونے والا یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف آخری اور حتمی قرار دیا جا رہا تھاتاہم اس میں اصل تیزی 16دسمبر2014کے بدقسمت حادثے کے بعد آئی اور قوم اس کے حتمی نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف نمایاںکامیابیاں بھی حاصل ہوئیںاور دہشت گرد کاروائیوں میں کمی بھی آئی لوگ کچھ پُرسکون بھی ہوئے اگر چہ ایسا نہیں تھا کہ یہ سب ختم ہو گیا تھا لیکن بہتری ضرور آئی تھی مگر 2016 کے شروع ہوتے ہی دہشت گرد پوری تیاری کے ساتھ پھر میدان میں اُتر آئے اور پے در پے وار کرکے قومی وجود کوپھر ہلا دیا ۔ایک بار پھر جب طلباءکا خون بے دریغ بہاد یا گیاتو حکومت کچھ جاگی ،سینٹ اور قومی اسمبلی کو ہوش آیا اور شور اُٹھا معلوم نہیں کب تک یہ شور رہے گا اور پھر کب یہ آوازیں دب جائےں گی۔ قومی ایکشن پلان جس کو شروع کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قوم کا نجات دہندہ بن جائے گا ، فوجی عدالتوں کو کھل کر کام کرنے دیا جائے گا لیکن ہمارے ماہرین قانون اس کے خلاف بولتے نہیں تھک رہے ۔ عاصمہ جہانگیر جیسے کچھ خدائی خدمتگار جو یہ فرض صرف اورصرف نام و نمودکی خاطرانجام دیتے ہیںاور ایسا کرتے ہوئے انہیں ملک اور قوم یاد نہیں رہتے اس مشن میں آگے آگے رہتے ہیں انہوں نے ہی ان فوجی عدا لتوں سے سزا پانے والے تیرہ دہشت گردوں کی سزائے موت کے خلاف سٹے آرڈر لیا ۔یہ لوگ ان سزاوئں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیتے ہیں لیکن باچا خان یو نیورسٹی کے جوان طلباءکے جوان لاشے بھی اِن کو لب کھولنے پر مجبور نہیں کرتے اور حیرت انگیز طور پر یہ آوازیں ان احتجاجی آوازوں میں شامل نہیں ہوتیں۔ معلوم نہیں کس کا ایجنڈا ہے جسے پورا کیا جاتا ہے۔اس بار تو ہمارے بہادر وزیر دفاع بھی غائب ہیں حکومت تو، حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان پر بھی ابھی تک خاطر خواہ عمل نہیں کرا سکی ہے اور اب تک صرف 42 سزائے موت پر عمل ہوا ہے جبکہ اس ایک سال کے دوران مزید 77 فوجی اور 287 شہری شہید ہوئے اگر چہ اس سے کہیں زیادہ دہشت گرد فوج کے ساتھ مقابلوں میں یا کاروائیوں میں مارے گئے لیکن عدالتوں اور حکومتی اداروں کی طرف سے جو رویہ اپنایا جارہا ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ قومی ایکشن پلان کو بنا کر ایک مقدس صحیفے کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ اس وقت ہم غیر معمولی حالات میں ہیں اور ہمیں غیر معمولی فیصلے بھی کرنے ہونگے اور ان پر غیر معمولی طور پر عمل بھی کرنا ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے باچا خان یونیورسٹی کے پانچ سہولت کاروں کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا اگر یہ ملزمان اقرار جُرم کر چکے ہیں تو کیا پھربھی انہیں عدالتوں کے حوالے کیا جائے گا،سالہاسال ان پر مقدمہ چلایا جائے گا، معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا ،ملزمان چھوٹ جائیں گے اور ایک دفعہ پھر کسی اور حملے کی تیاری میں لگ جائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کو سرِ عام پھانسی دی جائے اور فوری دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو دہشت گردوں کی مدد کرنے کی ہمت ہی نہ ہو۔مجھے یہ بھی یقین ہے کہ منصوبے میں شامل دو عورتیں جو مفرور ہیں اگر پکڑی گئیں ان کے بہت سارے ہمدرد بھی حقوقِ نسواں کے نام پر میدان میں آجائیں گے اور آجائیں گی لیکن برائے خدا جو بھی اس طرح کی کاروائیوںمیں ملوث ہیںانہیں قرار واقعی اور فوری سزا دی جائے اور ان ملکوں سے بھی سخت لہجے میں بات کی جائے جو یا تو خود ان حملوں میں ملوث ہیں یا ان کی سر زمین استعمال ہو رہی ہے۔بظاہرلگتا تو یہی ہے کے بھارتی وزیر دفاع نے اپنے کہے اور دھمکی پر عمل کر دکھایا ہے کیونکہ ایک موقع پر بھارتی قونصلیٹ سے تیس لاکھ روپے کی فراہمی کا بھی ذکر ہوا آخر اس کا کچھ تو تعلق ہو گامعاملے سے اور جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ افغانستان سے دس کالیں دہشت گردوں کے نمبر پر کی گئی تو اس میں تو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ افغانستان میں بیٹھے بھارت کے نمک خوار ملا فضل اللہ اور عمر منصور جیسے درندے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے بذریعہ ٹیلی فون کنٹرول کیا گیا لہٰذا افغان حکومت سے بھی پُر زور مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اِن درندوں کو پکڑنے میں پاکستان کی مدد کرے اور یاپاکستان کو اجازت دے کہ وہ خود ان کے خلاف کاروائی کرے۔ افغانستان کو یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ پاک افغان امن ایک دوسرے سے منسلک ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب بھارت کو افغانستان سے بے دخل کیا جائے اور افغان عوام کو بھی وہ احسان یاد دلایا جائے جب پاکستان کی سر زمین نے اُنہیں اُس وقت پناہ دی جب ان پر اپنی زمین بھی تنگ کر دی گئی تھی یہ اب بھی لاکھوںکی تعداد میں پاکستان میں موجود ہیں ، لیکن یہ” مہمان“ جس طرح ہمارے لیے مسائل کا باعث بن رہے ہیں ضروری ہے بلکہ لوگوں کاشدید مطالبہ ہے کہ ا نہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا سکیں۔ ہماری حکومت کی پہلی ذمہ داری اپنے عوام ہیں اگر یہ حکمران اپنے ہی ملک کو سنبھال لیں تو بہت ہے جب ہم خود کو مضبوط اور پُر امن بنا لیں اور اگر ہماری کچھ صلاحیتیں ، وسائل اور ذرائع بچ رہیں تو دوسروں کی مدد کے لیے اُسے استعمال کر لیں گے۔بے شک کہ مسلمان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے لیکن دوسری طرف سے کیا رسپانس مل رہا ہے اسے بھی مدِنظر رکھانا چاہیے۔ پڑوسی اگر دشمن سے مل جا ئے تو اُس کی بھی شنوائی ضروری ہے۔ہمارے حکمران اپنی تجارت چھوڑ کر ملکی مسائل کی طرف توجہ دیں گے تو دوسرے ہمارے ہاں یوں کُھل نہیں کھیلیں گے۔اگر ہم ان کی محبت میں ان کے یوں گُن نہیں گائیں گے تو وہ اپنی دھمکیوں پر اتنی جلدی عمل نہیں کر سکیں گے۔ہماری حکومتیں اب اگر ”قربانی کے لیے تیار ہیں“ کی رٹ بھی چھوڑدیں تو اچھا ہو گا کیونکہ اس ملک کو زندہ جوانوں کی ضرورت ہے جوان مقبروں کی نہیں کیونکہ جوان مقبروں کی تکلیف کسی پوری قوم کو مار دینے کے لیے کافی ہوتی ہیں ،اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے، آمین۔