- الإعلانات -

بھارتی ٹکڑوں پر پلنے والے دہشت گرد

نیا سال پاکستان اور بھارت کے درمیان نئی تلخیاں لے کر آیا ہے۔2016کے پہلے مہینے کے دوسرے روز بھارتی ایئر بیس پٹھان کوٹ پر حملہ ہوا تو دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں دوآتشہ ہوگئیں۔حسب عادت حملے کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا کہ دہشت گردوں نے پاکستانی زمین استعمال کی۔یہ الزام مسترد کردیا جانا چاہیے تھا لیکن پاکستان نے تعاون کی یقین دہانی کرادی کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے۔ پاکستان کی یقین دہانی کے بعد ضرورت اس امرکی تھی کہ بھارتی حکومت کے ذمہ دار تحمل سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے حتمی جواب تک انتظار کرتے لیکن بدقسمتی کہ مودی کے دائیں بائیں بیٹھے شکروں نے بہتان تراشی اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس حملے کے رد عمل میں 11گیا رہ جنوری کوبھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ”نقصان پہنچانے والوں کو تکلیف کا احساس دلانا ہو گا۔ وقت اور جگہ کا تعین خود کریں گے“۔پھروہی ہوا جسکا خطرہ تھا اور 20جنوری کی صبح 9بجے چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہوگیا جسمیں 22 افراد شہید ہوگئے۔ان بائیس افراد میں18 معصوم طالب علم بھی زد میں آئے اور شہید ہوئے۔معصوم بچوں کی شہادت پر پورا پاکستان غم کی تصویر بن گیا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی یہ تکلیف محسوس کی گئی۔ قبل ازیں سانحہ پشاور سکول کے معصوم بچوں کا صدمہ قوم ابھی نہیں بھلائی پائی تھی کہ باچا خان یونیورسٹی کے طالبعلموں پر حملہ ہوگیا جس سے تکلیف اور صدمے کا احساس دو چند ہو گیا۔یوں اگر11جنوری کی منوہرپاریکر کی دھمکی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ منوہر یہی چاہتے تھے۔پٹھان کوٹ پر حملہ کرنےوالوں کا ابھی تعین بھی نہیں ہوا کہ مودی سرکار نے حسب عادت از خود فیصلہ کرلیا کہ مجرم پاکستان ہے لہذا بقول منوہر” نقصان پہنچانے والوں کو تکلیف کا احساس دلانا ہو گا“ لہذاپاکستان کے معصوم بچوں کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب کرکے اپنی دھمکی سچ کردکھائی۔یہ حملہ یقیناً پاکستان کی سالمیت اور مستقبل پرحملہ ہے اسے بھلایا نہیں جاسکتا ، اس حملے سے پاکستان کا دست تعاون جو دراز ہوا تھا سمٹ سکتا ہے۔یہاں عالمی برادری بھی جانبدارانہ طرز عمل اپنا کر جلتی پر تیل ڈال رہی ہے۔دو روز قبل امریکی صدر نے ڈومور کا مطالبہ کیا تو فرانسیسی صدر نے بھی اوبامہ کی ہاں میں ہاں ملا دی لیکن ان رہنماﺅں نے بھارتی وزیر دفاع کی دھمکیوں پر کان دھرنے کی زحمت گوارہ نہ کی۔ادھر چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے چار معاونین کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کردیا ہے،مگر ابھی تک پاکستان نے وہ رویہ اختیار نہیں کیا جو بھارتی حکومت نے کررکھا ہے۔پاکستان اس حملے کے تانے بانے کی چھان بین کررہا ہے کہ آخر اس کے پیچھے کون ہے تاہم بعض کھلے شواہد ایسے ہیں کہ جن کی کڑیاں ملانے سے ایک نقشہ واضح ہوتا ہے کون کوکہاںسے ڈوریاں ہلاتا رہاہے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور حملہ آوروں کی تربیت افغانستان میں کی گئی تھی جبکہ حملہ ٓاور طورخم کے راستے پاکستان آئے تھے ،اس موقع پر افغانستان کے ایک فون نمبر سے کی جانے والی کالز کی تفصیلات بتاتے ہوئے میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ اس دہشت گردی کے واقعے کے دوران دس کالیں ہوئیں تھیں جنکا ریکارڈ انکے پاس موجود ہے“۔ اس حملے کے تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔سیکیورٹی ادارے بھی اسکا جائزہ یقینا لے رہے ہوں گے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے غیر ملکی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔دفاعی تجزیہ کار اور فاٹا کے سابق سیکرٹر ی بریگیڈیئر (ر) محمو د شاہ کا کہنا ہے کہ ”اسمیں شک نہیں کہ افغانستان میں موجود لوگوں کو کوئی نہ کوئی تو فنڈنگ کررہا ہے“۔سانحہ چار سدہ حملے کے بارے میں انکشاف ہواہے کہ حملہ کرانے میں”را“ کے ٹرینڈ دہشت گرد ملوث ہیں۔ جنہوں نے ازبک دہشت گردوں کو مذموم مقصد کیلئے استعمال کیا۔کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کے دست راست ملا عمرمنصور عرف نارے کی ایک کال ٹریس ہوئی ہے جسکے مطابق اس نے بھارتی قونصلیٹ سے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے لئے 30 لاکھ بھارتی روپے حاصل کئے۔ کالعدم تحریک طالبان کے مذکورہ کمانڈراورحملہ آوروں کے درمیان درج ذیل فون نمبرز پر بات چیت ہوتی رہی۔ 0093774022167، 0093782552489 اور 0093774262593 ۔ حکومت پاکستان نے ان شواہدکے بعد معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قبل ازیں آرمی چیف نے افغان قیادت سے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے تعاون طلب کیا تاکہ دہشت گردی کے واقعے میں ملوث مجرموں تک پہنچا جا سکے۔اس سے پہلے گزشتہ برس آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد بھی آرمی چیف نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور اس دورے میں افغان حکومت کو ایسے ثبوت مہیا کئے گئے تھے۔ افغان حکومت اگر اس وقت موثر کارروائی کر کے دہشت گردوں کو گرفتار کرتی یا ان کے ٹھکانے تباہ کرنے کی کوشش کرتی تو بھارت کے پالتو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دوبارہ استعمال نہ کرپاتے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے بھی درست مطالبہ کیا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت بھارت اور افغانستان سے کھل کر بات کرے اور وہ اپنی سرحدوں سے دہشت گردوں کی آمد بند کرائے ۔ دیگر سیاسی رہنماﺅں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے،یہ حملہ بھارتی وزیر دفاع کی دھمکیوں کا نتیجہ نظر آتا ہے۔رحمن ملک نے کہا حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” نے کروایا ہے۔ شیخ رشید نے کہا پاکستان میں جتنی بھی جگہوں پر حملے ہوئے ان میں بھارت ملوث ہے۔ بھارت کے بارے میں کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں۔یہ بات درست ہے کہ افغان حکومت سے پوچھا جائے کہ وہ اگر کچھ نہیں کر سکتے تو پھر کوئی دوسرا راستہ بتایا جائے تاکہ ایسے واقعات سے نمٹا جا سکے۔