- الإعلانات -

سول قیادت کو بھی آرمی چیف کی تقلید کرنی چاہیے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تمام چے میگوئیاں اور افواہوں کو یکسر غلط ثابت کرتے ہوئے مدت ملازمت میں توسیع بارے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج عظیم ادارہ ہے مدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کیساتھ ریٹائر ہو جاﺅں گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس بیان کا احاطہ کیا جائے تو یہ پہلو عیاں ہے اور کوئی دو رائے نہیں کہ پاک افواج کا سپہ سالار جیسا ہونا چاہیے بالکل ویسا ہی جنرل راحیل شریف کو پایا گیا بلا شبہ ہمیں اپنی پاک افواج پر فخر تھا ہے اور رہے گا لیکن جب جنرل راحیل شریف کی سوچ والے سپہ سالار بنتے ہیں تو قوم اپنی افواج سے مزید امیدیں باندھ لیتی ہے۔ آرمی چیف کا بیان صرف اور صرف افواہوں کے دم توڑنے کیلئے نہیں تھا جو لوگ صرف یہ سوچ رہے ہیں کہ آرمی چیف کا بیان صرف اور صرف افواہوں کے دم توڑنے کے لئے تھا وہ بہت بڑی بھول میں ہے۔ ساری قوم جانتی تھی کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے حالانکہ قوم کی خواہش ہے کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت زیادہ ہونی چاہیے اور اقوام کی یہ خواہش کوئی اچنبے کی بات نہیں ہر قوم چاہتی ہے کہ انکا لیڈر ایماندار اور باوقار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کا مخلص ہو اور سپہ سالار ایسا ہو جس کو اپنی خامیوں کودورکرنا اورجرا¿ت مند ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کربات کرنا آتی ہو اور کربھی سکے اور اپنی فوج کو ہردور کے مطابق کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاررکھے چونکہ جنرل راحیل شریف کی صورت میں قوم نے وہ آرمی چیف پایا جس کی اسکو خواہش اور آرزو تھی اس لئے قوم آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی معصوم خواہش رکھنے پر حق بجانب ہے۔ ابھی آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں تقریباً ایک سال باقی ہے تو پھر آرمی چیف نے آخر اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا بیان کیوں دیا؟ شاید اس کی وجہ ایک تو یہ ہوسکتی ہے کہ کچھ پاک فوج کے دشمن عناصر جان بوجھ کر آرمی چیف کے عہدے بارے ابہام پیدا کرنے کی سازش میں مصروف عمل تھے اب قوم بہتر جانتی ہے کہ آرمی چیف کے عہدے بارے ابہام کے اثرات کتنی دور تک جاتے ہیں اور پھر اس صورتحا ل کافائدہ کون کونسی قوتیں اٹھاتی ہیں لہذا اس سازش کو ناکام بنانا ضروری تھا دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملاقاتوں کو غلط رنگ دیا جارہا تھا جس کا سحرتوڑنا اشد ضروری تھا اس کے ساتھ ساتھ مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جو بحث جاری تھی اس کو بھی سمیٹنا وقت کی ضرورت تھی ۔ یہ تمام پہلو تو وہ پہلو ہیں جو قوم کے سامنے ہیں اورزیر بحث بھی ہیں لیکن آرمی چیف کے بیان میں ایک اور قائدانہ پہلو پنہاں ہے جس کو اجاگر کرنے کی بہت ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایماندار مخلص اور قابل شخصیات کوجب بھی کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کو ایماندارانہ طریقے سے نبھاتے ہیں اور خود کو اداروں کیلئے ناگزیر نہیں سمجھتے بلکہ سخت محنت اورتوجہ کے ساتھ اداروں میں موجود خامیوں کودورکرکے اپنے جیسے یا اپنے سے بہتر شخصیات تیار کرنے کیلئے ایسا نظام پروان چڑھاتے ہیں جس سے کبھی بھی قائدین کی کمی نہیں آتی ۔ اس طرح جنرل راحیل شریف نے بھی کیا۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے آپ کو پاک فوج کیلئے ناگزیر نہیں سمجھا بلکہ ایسی ٹیم تیارکرکے اسکے لئے اپنے آپ کو رول ماڈل کے طورپر پیش کردیا انہی رویوں سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور پاک فوج جیسے ادارے کی مضبوطی کا مطلب ملک و قوم کی مضبوطی ہے۔ اب یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ آرمی چیف نے تو اپنے آپ کو ایک مثال بنا دیا اور خود کو ملک و قوم کیلئے ناگزیر نہیں سمجھا لیکن آخر یہ سوچ سول قیادت میں کب پیدا ہوگی کیونکہ سیاسی جماعتوں میںکسی بھی قیادت نے اپنا متبادل برداشت نہیں کیا اور ہلکی سی بھنک پر متبادل قیادت کا روپ دھارنے والے عناصر کو یاتو کھڈے لائن لگا دیا یا پھرخون کی ندیاں بہا دی گئیں ۔ آرمی چیف نے اپنے بیان میں قوم کو بھی پیغام دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے نظام کی مضبوطی کیلئے جو اقدامات کیے ہیں انہیں ان پر بھروسہ ہے لیکن کیا ایسا پیغام قوم کو کبھی سول قیادت کی جانب سے بھی ملے گا تو اس کا جواب نفی میں لگتا ہے کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ(ن) ہو یا پاکستان مسلم لیگ(ق)، اے این پی کا تجزیہ کرلیں یا جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی پر نگاہ ڈالیں تو صرف اے این پی اور جماعت اسلامی وہ واحد جماعتیں ہیں جسکی قیادت بذریعہ پارٹی انتخابات تبدیل ہوئی جبکہ بڑی جماعتوں میں بذریعہ انتخابات قیادت کی تبدیلی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی معلوم نہیں اس قوم کو وہ لیڈر شپ کب ملے گی جو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تقلید کریگی۔ یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایل ڈی سی کی سرکاری ملازمت کے لئے تو تعلیمی قابلیت ضروری ہے جبکہ اس ملک و قوم کیلئے قانون سازی کرنے والوں کیلئے کسی بھی ڈگری کی پابندی نہیں ۔ ساری عمر انتظامی امور چلانے اور دنیا کا علم سیکھتے رہنے والوں کیلئے تو اسی سرکار میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال مقرر ہے لیکن 60 سال مقرر کرنے والوں کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ۔کیا ہم اس کو ملک و قوم کی بدقسمتی سمجھیں یا بدنصیبی ۔ بحرحال ہمیں اچھے کی امید کرنی چاہیے جلد یا بدیر ضرور ایسی قیادت اس ملک و قوم کو نصیب ہوگی جو اس ملک کو ترقی کی بلندیوں پر لے جائے گی۔