- الإعلانات -

امریکہ….ایک نظر ادھر بھی

امریکہ کے بعض حلقے اس امر کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے ۔ یاد رہے کہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امید وار ” ڈونلڈ ٹرمپ “ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف ایک عجب طرح کی پراپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اسی کے ساتھ انیس دسمبر کو امریکی کانگرس کے رکن اور فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیئر مین ” ED ROYCE “ نے پاکستان میں چھ سو مدارس کو بند کیے جانے کے حوالے سے عجیب و غریب اور بے بنیاد افسانے تراشے تو دوسری طرف نو اور دس جنوری کو بھارتی دارالحکومت میں واقع ” دہلی یونیورسٹی “ میں دو روزہ سیمینار ہوا جس میں انتہا پسند ہندو گروہوں نے ” رام مندر “ کے تنازعہ کو نئے سرے سے ہوا دینے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ BJP کے رہنما ” ڈاکٹر سبرا منیم سوامی “ نے تو اس موقع پر یہاں تک کہا کہ ” بھارتی مسلمانوں کی بہتری اسی میں ہے کہ ایودھیہ میں واقع ” رام بھگوان “ کی ” جنم بھومی “ پر بنائی گئی بابری مسجد سے نہ صرف دستبردار ہو جائیں بلکہ ” متھرا “ میں کرشن بھگوان کی جائے پیدائش پر بنی ” عید گاہ مسجد “ اور بنارس کی عالمگیری مسجد کو بھی ہندوﺅں کے حوالے کر دیں کیونکہ بنارس کی عالمگیری مسجد اصل میں ” شیو بھگوان “ کی جنم بھومی ہے ۔ موصوف نے موقع پر یاوہ گوئی کی انتہا کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستانی مسلمان ان تین مسجدوں سے رضا کارانہ طور پر پوری طرح دستبردار ہو جائیں تو اس کے بدلے میں بھارت کے طول و عرض میں واقع انتالیس ہزار نو سو ستانوے مسجدوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا وگرنہ ان سبھی کو بھارت کے نقشے سے نیست و نابود کر دیا جائے گا ۔ اس ضمن میں سبرا منیم سوامی نے ہندو مذہب کی کتاب ” گیتا ُ“ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ” مہا بھارت “ شروع ہونے سے قبل کرشن بھگوان نے مخالف دھڑے کے سربراہ ” راجہ در یو دھن “ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پانچ گاﺅں سے دستبردار ہوجائیں مگر ”’ در یو دھن “ نے نا عاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے کرشن بھگوان کا یہ مطالبہ نہ مانا جس کے نتیجے میں مہا بھارت کا یدھ ہوا اور در یو دھن کو اپنی پوری سلطنت سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ غیر جانبدار حلقوں نے کہا ہے کہ یوں تو بھارت میں عرصہ دراز سے ہندو جنونی ” رام مندر “ کے تنازعہ کو ہوا دے رہے ہیں اور اسی سلسلے میں چھ دسمبر 1992 ءکو ایو دھیہ میں واقع سینکڑوں سال پرانی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا جسے ظہیر الدین بابر کے جرنیل ’ میر عبدالباقی “ نے تقریباً پانچ سو سال پہلے تعمیر کرایا تھا اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت کے بہت سے شہروں میں مسلم کش فسادات بھی ہوئے جن میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا ۔
خصوصاً 1993ءکے اوائل میں جنوری تا مارچ کے مہینوں میں ممبئی میں مسلم نسل کشی کا مکروہ کھیل کھیلا گیا جس میں سنگھ پریوار کی جماعتوں نے جی بھر کر حصہ لیا تب بھی مہا راشٹر میں BJP اور شیو سینا کی مخلوط حکومت تھی اور شیو سینا سے تعلق رکھنے والے ” منوہر جوشی “ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے ۔ ان فسادات کی تحقیقات کرنے کے لئے دہلی سرکار نے جسٹس شری کرشن کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا جس نے اپنی رپورٹ میں صاف الفاظ میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے لئے اس وقت مہاراشٹر میں بر سر اقتدار BJP اور شیو سینا کی مخلوط حکومت کو قرار دیا اور وزیر اعلیٰ منوہر جوشی اور BJP کے نائب وزیر اعلیٰ ” گوپی ناتھ منڈے “ کو قصور وار ٹھہرایا ۔ مگر ان میں سے کسی ایک فرد کو بھی قانون کی گرفت میں نہ لایا جا سکا اور گوپی ناتھ منڈے مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ان کی قابینہ میں مرکزی وزیر بنے البتہ اس کے چند روز بعد اپنی رہائش گاہ سے دہلی ایئر پورٹ جاتے ہوئے سڑک حادثے میں ہلاک ہو گئے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے کچھ عرصے کے بعد کئی سالوں تک BJP اور اس کے ہمنوا قدرے خاموش رہے البتہ گذشتہ ماہ وشو ہندو پریشد ( VHP ) کی جانب سے ایودھیہ میں ” رام مندر “ کا علامتی افتتاح کیا گیا اور راجستھان سے مندر کی تعمیر کے لئے لاکھوں کی تعداد میں ٹائلیں وغیرہ جمع کرنی شروع کر دی گئی ہیں اور اب دہلی یونیورسٹی میں دو روزہ سیمینار کر کے اعلان کیا گیا کہ ہے کہ سالِ رواں کے آخری مہینے یعنی دسمبر 2016 ءکو رام مندر کی باقاعدہ تعمیر شروع کر دی جائے گی ۔ مبصرین نے کہا ہے کہ کچھ روز پہلے بنارس کی ہندو یونیورسٹی میں BJP کے رکن لوک سبھا ” یو گی ادتیا نند “ اور دہلی کی جواہر لعل یونیورسٹی میں ” او ما بھارتی “ نے طلباءسے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بہت زہر افشانی کی جس سے فطری طور پر انتہا پسندی کو فروغ ملنے کے خدشات ہیں ۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ امریکی میڈیا ، حکمران اور سول سوسائٹی بھارت میں بڑھ رہی اس ہندو انتہا پسندی کی جانب بھی بر وقت توجہ دیں گے اور محض پاکستانی مدرسوں کا راگ الاپنے کے ساتھ ساتھ بھارتی یونیورسٹیوں جیسے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں بڑھتی انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے موثر حکمت علمی ترتیب دیں گے ۔