- الإعلانات -

نئی دہلی میں یوم جمہوریہ،کشمیر میں گولیوں کی برسات

گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی بھارتی صدر نے دیش کے یوم ِ جمہوریہ کے موقع پر خطاب کیا بھارتی سدر پرناب مکھرجی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ” پڑوسیوں کے ساتھ مسائل حل ہونے چاہئیں “ بھارتی صدر کا یہ خطاب یہاں پر ہم تفصیل سے تحریر نہیں کر نا چاہتے مگر بھارتی صدر کے اپنے خطاب میںکہے اِس ایک جملے نے ہمیں مجبور کردیا دیش کے صدر پرناب مکھرجی نے جب یہ جملہ ادا کیا ہوگا اگر اُن کا ضمیر واقعی متحرک ہے زندہ ہے تو یہ جملہ ادا کرتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک لمحہ کے لئے رکے ضرور ہونگے شرکاءکی جانب یقینا اپنی نگاہ دوڑا ئی ہوگی جب اپنے خطاب میں اُنہوں نے یہ کہا ہوگا کہ ”گولیوں کی برسات میں ہم امن مذاکرات نہیں کرسکتے “ پر ناب مکھرجی صاحب! مانا کہ نئی دہلی حکومت اور اسٹبلیشمنٹ نے آپ کو ’یوم ِ جمہوریہ ‘ کے موقع پر منعقد کی گئی تقریب کے لئے جیسی تقریر مہیا کی وہ آپ نے کی‘ لیکن کیا آپ نہیں سمجھتے کہ گزشتہ 67-68 برسوں سے کنٹرول لائن پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں وہ کون سی ایسی مسلح قوتیں متحرک اور مصروف ِ عمل رہتی ہیں جو آئے روز کبھی مقبوضہ کشمیر میں اور کبھی پاک بھارت مشرقی سرحدوں پر کشمیر کے اطراف ہمہ وقت گولیوں کی برسات کا خونریز اور بہیمانہ ساماں باندھے رہتی ہیں گزشتہ کئی دہائیوں کا یہ خونریز‘ بہیمانہ اور جنونی وحشیانہ سماں تو ایک لمحہ کے لئے ایک طرف رکھے دیتے ہیں مگر جب سے نئی دہلی حکومت کی باگ دوڑ سنگھ پریوار اور اکھنڈ بھارت کی مالا جپنے والی انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں آئی ہے اور نریندر مودی جیسے متشدد لیڈر بھارتی حکومت کے اَن داتا بنے دیش کے ایوانوں کو اپنی انگلیوں پر نچانے میں اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے جنہوں نے دیش بھر کے ڈسٹرکٹ لیول سے ریاستوں کے وزراءِ اعلیٰ کے عہدوں پر پہنچنے کے بعد بھارتی اقلیتوں خصوصاً بھارتی نژاد مسلمانوں کو انتہا کی غیر انسانی سفاکیت کے ساتھ گاجر مولی کی طرح دن دھاڑے سرعام کاٹنے میں بربریت کی ایک سیاہ تاریخ رقم کی اُنہوں نے گزشتہ دوڈھائی برسوں میں پاک بھارت مشرقی سرحدوں پر اپنی افواج کو کھلی ڈھیل دیکر ماحول کتنا غیر محفوظ بنا نہیں دیا جنا ب ِ والہ ! ’گولیوں کی برسات کا موسم بھارت جتنا زیب دیتا ہے شائد ہی دنیا میں کوئی اور کوئی سامراجی ملک ہوگا ھد ہوتی ہے سامراجی ذہنیت میں ہمہ وقت انسانی لہو سے ہولی کھیلنے کی ‘ ہرسال یوم ِ جمہوریہ کی ایسی تقریب آپ شوق سے مانیں کوئی آپ پر نہ تنقید کرئے گا نہ تنقید کرنے کا اُسے کوئی حق پہنچتا ہے ساتھ ہی یہ سوچنا بھی ایک انسان ہونے کے ناطے آپ کا فرض بنتا ہے کہ ’بھارتی اسٹبلیشمنٹ کو اپنا کوئی بھی یوم مناتے ہوئے وہ پہلے اپنے اردگرد پر نگا دوڑا لے کہ کہیں آزادی کے نام پر وہ خود تو کسی قوم کی آزادی کو سلب کرنے کا مجرم تو نہیں بن رہی ہے 9/11 سے قبل کبھی بھی بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی جدوجہد ِ آزادی کرنے والوں کو ’دہشت گرد ‘ نہیں کہا آج جب امریکا نے دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کی تو بھارت نے لپک کر اِس ’عالمی اصطلاح ‘ کوانسانی حقوق کی بحالی کے لئے مزاحمت کرنے والوں کے خلاف بھی استعمال کرنا شروع کردیا نئی دہلی کو آج نہیں تو کل یہ ضرور تسلیم کر نا ہوگا جموں و کشمیر بھارتی انتظامیہ کے خلاف اپنے سروں سے کفن باندھ کر نکلنے والے اپنی انسانی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں نئی دہلی کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ’اگر آزادی حاصل کرنا کوئی جرم ہے تو یہ جرم دنیا کل تک دنیا کے بیشتر ممالک فرنگی سامراجیت ‘ فرانسیسی سامراجیت ‘ روسی سامراجیت او ر امریکی سامراجیت کے خلاف کرچکے ہیں‘ بقول دنیا بھر میں لائق ِ احترام اور بزرگ کشمیری رہنما سیّد علی گیلانی کے ’دنیا میں آج جتنے بھی ممالک اور اقوام آزاد ہیں وہ کبھی نہ کبھی بدنام ِ زمانہ سامراجی قوتوں کے زیر اثر تو رہے ہیں پھر بھارت کیوں اور کن وجوہات اور دلائل کے کشمیویوں کے حق ِ خود ارادیت پر دبائے بیٹھا ہے ‘ یقینا اُنہوں نے مزاحمتی تاریخی دلائل کی روشنی میں یہ نکتہ اُٹھایا جو ہر پہلو سے حق پر مبنی ہے بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر اُس کا ’اٹوٹ انگ ہے تو اُس کے اِس بے بنیاد مفروضہ کو دنیا تسلیم کرتی ہے نہ کشمیر عوام ماننے کے لئے تیار ہیں نہ ہی پاکستان مان سکتا ہے بین الااقوامی فورموں پر اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے بھارت کئی بار کشمیر ی قوم کے حق ِ خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے نجانے کس بات کا منتظر ہے اور ہر سال 26 جنوری کو بھارت خود تو بڑے تزک واحتشام کے ساتھ اپنا ’یوم ِ جمہوریہ ‘ منا تا ہے اور دنیا کو یہ باور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ’جمہور‘ کی رائے کا احترام کرنے والا ایک جمہوری ملک ہے بھارت کئی نسلوں ‘ کئی زبانیں بولنے والوں اور کئی مذاہب کا ایک مجموعہ ملک ہے، جہاں ’ہندوو¿ں ‘ کی اکثریت سے ہم انکار نہیں کرسکتے مگر دنیا کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہندوو¿ں میں دوتہائی سے زیاد ہ اچھوتوں یعنی ’دلتوں‘ کی ایک بڑی اکثریت ہے جن پر اقلیتی ہندوبراہمنوں نے گزشتہ66-67 برسوں سے ’سیکولرازم ‘ کی آڑمیں ’جمہوری چالبازی ‘ کاڈرامہ رچا کراُن کے انسانی حقوق کو بھی غصب کیا ہوا ہے کیا یہی دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم جمہوریت ہے ؟ جیمز میڈیسن کا تحریر کردہ ’فیڈرلسٹ پیپرز ‘ کا بغور مطالعہ کرنے والے گواہی دیں گے کہ ’جمہوریت میں اکثریت کے نام پر بھی ظلم واستحصال ممکن ہوسکتا ہے ‘عالمی سطح کے ممتاز صاحب ِ بصیرت دانشور کہتے ہیں کہ ’جمہوریت کے لبادے میں سیاسی حکمران فوجی آمروں سے دوقدم آگے بڑھکر مطلق العنانیت کاروپ دھارلیتے ہیں جسے جیمز میڈیسن نے اقلیتوں پر اکثریت کے ظلم سے تعبیر کیا اور کہا ’کہ یہی وہ جمہوریت ہوتی ہے جو مسلسل ایک ہی ’رُو‘ میں چلتے رہنے کے بعد ’اکثریت کا ظلم ‘ بن جاتی ہے اور دنیا اِسی کھلے دھوکے اور فریب کا شکار بنی رہتی ہے کہ شائد قابل ِ رشک جمہوریت ایسی ہی ہوتی ہوگی؟ دنیا کی ماضی کی استعماری طاقتیں جن میں آج کا بھارت پہلے نمبر پر آتا ہے یہ سامراجانہ عزائم کی حامل طاقتیں ہمیشہ ایسا ہی وطیرہ اختیار کرتی ہیں زیادہ تفصیل میں جانے کی یہاں ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے ہمارے پیش ِ نظر یہاں بھارت کی جمہوری قدروں کی باتیں اِس لئے ایک سوالیہ اہمیت کی حامل ہے‘ کہ یہ ملک ہمار اپڑوسی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی اور کیمیکل ہتھیاروں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے ہماری مشرقی سرحدوں پر بھارتی جنگی ہسٹریا نے ہمیں ہمیشہ چوکنا رکھنا افسوس! ہر برس 26 جنوری کو اپنا” یوم ِ جمہوریہ“ منانے والوں کو یہ یاد دلا دنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ نئی دہلی کے حکمران اِس پریشان کن نکتہ کی تشویش کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کریں جسے دنیا مسئلہ ¾ ِ کشمیر کے حوالے سے بخوبی جان چکی ہے وقت نئی دہلی کے حکمرانوں کے ہاتھوں کی مٹھی میں سے ریت کی مانند نکلا جارہا ہے، کشمیری عوام بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کو کل بھی ’یوم سیاہ ‘ کے طور پر مناتے رہے اور اِس بار بھی دنیا کے میڈیا نے دکھا دیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہر ڈسٹرکٹ میں ہرسال کی طرح اِس مرتبہ بھی کرفیو نافذ رہا کشمیری لیڈروں کو گرفتار کیا گیا زبردست فوجی قوت کے باوجود بھارت لاکھوں کی فوج کشمیر میں داخل کر کے نہ کشمیریوں کے دِل ودماغ پر قابض ہوسکا نہ سرزمین ِ کشمیر پر وہ کوئی یا کسی قسم کی اخلاقی برتری حاصل کرپا یا نجانے دنیا کی آنکھیں کب کھلیں گی؟۔