- الإعلانات -

سوائن فلو، حکومت قوم کے سامنے اصل حقائق رکھے

19 جنوری 2016ءکو پنجاب ہاﺅس میں ایک اجلاس ہوا جس میں وزارت صحت سے متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ حمزہ شہباز نے بھی شرکت کی جسکے بعد وزیر مملکت نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ نے جاندار پریس کانفرنس کی اور بابانگ دوحل یہ کہا کہ ملک میں سوائن فلو کا کوئی وجود نہیں۔ میں بھی اس پریس کانفرنس میں شریک تھا ۔ پریس کانفرنس میں ڈبلیو ایچ او نمائندہ ، ڈاکٹرز ، این آئی ایچ کے ترجمان سمیت کافی نفری موجود تھی جو کہ بضد تھی کہ ملک میں سوائن فلو کا وجود نہیں خدارا عوام کو غلط خبریں دے کر ملک میں انارکی نہ پھیلائی جائے لہذا میڈیا عوام کو صحیح گائیڈ کرے اور موجودہ مریضوں جن کو سوائن فلو مریض کہا جارہا ہے جو غلط ہے میڈیا صحیح بتاتے ہوئے وائرس کا نام درست بتائے ۔ وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے وائرس کا نام بھی بتایا اور انکی ادویات بھی بتائیں کہ موجودہ علامات کی صورت میں یہ ادویات لیکر فوری طورپر ہسپتال سے رجوع کیا جائے ۔ بظاہر وزیر مملکت نے سوائن فلو کے معاملے کو ایسے پیش کیا جیسے ملک میں کوئی مسئلہ ہی نہ ہو اور سب ٹھیک چل رہا ہو حالانکہ اس وقت تک ملک بھر میں ایچ ون ، این ون وائرس کے باعث ہلاکتیں 30 سے زائد ہوچکی تھیں ۔ آپ اور ہم جانتے ہیں کہ برڈ فلو اور سوائن فلو جس کو اب انفلوانیزا کہا جارہا ہے جب بھی کسی ملک میں آتا ہے تو وہاںچکن کے نرخ آسمان سے زمین پر گر جاتے ہیں اور قوم جانتی ہے کہ اس وقت ملک میں چکن کے کاروبار کرنے والے بے تاج بادشاہ کون کون ہیں ۔ اب اس ساری صورتحال کے پیش نظر جب وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ پریس کانفرنس کررہی تھیں تو چند سوالات کاجنم لینا فطری بات تھی جس کے باعث ایسا لگ رہا تھا کہ سوائن فلو کے معاملے پر کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی سطح پر کچھ نہ کچھ دال میں کالا ضرور ہے اگر ہم اس بات کو مزید واضح کرنے کیلئے ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو تقریباً چار سال قبل سوائن فلو جس کے وائرس کا نام ایچ ون اور این ون ہے سے دنیا بھر میں 17 ہزار سے زائد انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی گئی تھیں جس کے بعد ڈبلیو ایچ او جو کہ ورلڈ وائیڈ بیماریوں کی مسلسل مانیٹرنگ کرتا ہے نے ایک رپورٹ جاری کی کہ اب ایچ ون اور این ون وائرس سوائن فلو ”وبائی مرض“ نہیں رہا یہ وبائی مرض سے موسمی مرض میں مبتلا ہوکر سیزنل فلو بن گیا ہے ( اب یہ کیسے بنا اس بارے بہت سا ابہام موجود ہے) کیا ڈبلیو ایچ او اس وقت غلط تھا یا اب غلط ہے معلوم نہیں اس کی تحقیق کرنے کا کوئی طریقہ کار دنیا میں موجود ہے یا نہیں۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او سے کوئی پوچھنے والا نہیں اسی لئے انسانی صحت بہت سی بیماریوں کی سازش کا شکار رہتی ہے ۔ دوسری جانب اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی مسئلہ ہے ڈبلیو ایچ او بھی سوچتا ہے کہ میں نے آخر کس حکومت سے رابطہ کرنا ہے۔ اب چونکہ سوائن فلو کا یہ معاملہ صوبائی معاملہ ہے تو آخر کسی صوبے کی جانب سے وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی اس پر بھی وہی سوالات جنم لیتے ہیں جو کہ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کی پریس کانفرنس کے دوران جنم لے رہے تھے بحرحال وزیر مملکت کی پریس کانفرنس کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ شاید سب ٹھیک ہے اور کوئی مسئلہ نہیں لیکن ایک بار پھر صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ سوائن فلو کے 3 مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک مریض میں سوائن فلو کی تصدیق ہوچکی ہے تو کیا وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ صاحبہ اب میڈیا پینک پھیلارہا یاصوبائی حکومت کی جانب سے پینک پھیلانے کی کوشش کی گئی یا پھر وہی سامنے آیا جو کہ حقیقت ہے۔ میڈیا یا پینک نہیں پھیلاتا میڈیا وہی خبر فائل کرتا ہے جو کہ اس کو باوثوق ذرائع سے موصول ہوتی ہے اور ٹیکنیکل خبریں تو ویسے بھی میڈیا اپنے پاس سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹ نہیں کرتا لیکن چونکہ ملک میں سوائن فلو موجود ہے اس لئے حکومت نے اپنا نزلہ کسی نہ کسی پر تو ضرور پھینکنا تھا سو اسکا آسان ہدف میڈیا تھا لیکن وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس بات کی تحقیق ضرور کریں کہ اس سارے معاملے کا ذمہ دار کون ہے اور بیماری کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ محض الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انسانی جسم نے آخر کونسی ایسی کروٹ لی جس کے باعث سوائن فلو جیسا جان لیوا وبائی مرض سیزنل فلو( موسمی نزلہ) میں تبدیل ہوکر رہ گیا ایسا تو نہیں کہ اس سوائن فلو کی خبروں کے باعث کسی مخصوص کاروباری طبقے کو نقصان سے بچانے کیلئے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر سب ٹھیک تھا تو پھر غیر متوقع ہلاکتیں کیوں ہوئیں اور ان ہلاکتوں کی تحقیق کون کرے گا اور اس کا جوابدہ کون ہوگا کیا کسی کو قرارواقعی سزا مل پائے گی۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارے حکمران صحت کے حوالے سے کتنے بے خبرہیں کہ قوم کس قرب سے گزر رہی ہے۔