- الإعلانات -

ماسکو کانفرنس۔افغانستان میں قیامِ امن کی نوید

ثقافت اور فکر دو بنیادوں پر پرکھی جاتی ہیں جو کسی بھی شعوری معاشرے کی شناخت ہوتی ہیں ترجمان ہوتی ہیں، اکیسیویں صدی میں آج دنیا کہاں کہاں سے پہنچ گئی مگر وائے حیرت و افسوس ناک تعجب ملاحظہ فرمائیے مسلم دشمن مغربی میڈیا کے پیچھے چلتے ہوئے بھارتی میڈیا نے تو حق اور سچائی کے جنازے نکالنے کا جیسے ٹھیکہ لیا ہوا ہے دنیا میں کہیں کوئی المناک درد ناک خونریز سانحہ رونما ہوا نہیں کہ ’نئی دہلی کے بھونپو‘ چیخنے چلانے لگتے ہیں غرانے لگتے ہیں بلا تحقیق و تفتیش کے نتائج کا انتظار کیئے انسانی تباہی کے ایسے افسوسناک واقعہ کی ذمہ داری فوراً مسلمانوں پر ڈال دی جاتی ہے امریکا یا کوئی مغربی ممالک صہیونی میڈیا کا یہ ایک وطیرہ ہے اور ادھر جنوبی ایشیائی ممالک میں ’را‘ اور’افغان میڈیا نے خصوصیت سے یہ مذموم کام اپنے سرلیا ہوا ہے 2001 سے آج تک افغانستان میں قیامِ امن کیلئے پاکستان کی لائقِ احترام کوششیں دنیا کی نظروں سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں کوئی بتلائے پاکستان نے کب افغانستان میں قرارواقعی امن کی کوششوں سے انحراف کیا افغانستان امریکا اور نیٹوکے فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود وہ کون سے ایسے انسانیت دشمن عناصر ہیں جو جب چاہتے ہیں افغانستان میں جہاں چاہتے ہیں اپنی انسانیت کش کارروائیوں میں اپنے انتہائی لائقِ مذمت مقاصد حاصل کرلیتے ہیں مانا کہ افغان سیکورٹی ادارے ابھی اِس قابل نہیں ہوئے پیشہ ورانہ سیکورٹی کے امور میں افغان سیکورٹی اداروں میں جیسی سریع الحرکت عسکری صلاحیت ہونی چاہیئے وہ نہیں پائی جاتی تو ایسی ناگفتہ بہ صورتحال میں امریکی فوجی دستے وہاں پر کیا کررہے ہیں امریکا کا افغان حکومت میں اتنا اثرروسوخ کس کام ‘پاکستان نے پاک افغان طویل سرحد پر حساس مقامات پر جہاں تک زمینی حالات نے اجازت دی ایک انتہائی موثر ’بارڈر مینجمنٹ‘ کو موثر بنانے میں اپنی تمام تر عملی کوششوں کو تکمیل تک پہنچایا ہے، بلندوبالا اور دشوار گزار پہاڑی چوٹیوں پر نگرانی کی چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں،ایسی صورتحال میں کوئی پاکستان پر کیسے الزام عائد کرسکتا ہے پاکستان سے افغانستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کے واقعات صریحاً کھلے ہوئے جھوٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ افغان علاقوں میں ہوئے چند روزپیشتر دہشت گردی کے پیچھے چھپے ہاتھوں کو افغانستان کی سرحدوں سے باہر تلاش کرنے والوں کی نیتوں میں فتور صاف نظر آرہا ہے یہ اصل میں وہ قوتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور امریکی فورسنز کا آخری سپاہی افغانستان سے واپس جائے جب تک امریکا افغانستان میں اپنی ’جارحانہ بلکہ متعصبانہ حکمتِ عملی‘ کو نہیں بدلتا دنیا سمجھ لے کہ امریکا اور اُس کے حمائتی ممالک جن میں اسرائیل اور بھارت نمایاں ہیں وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے افغانستان کے حقیقی امن کو قائم نہیں ہونے دیں گے اب تو خود روس کی بھی اوّلین خواہش ہے کہ امریکا پہلی فرصت میں افغانستان کی سرزمین کو چھوڑ دے اپنے حمائتی اسرائیلی اور بھارتی عسکری دستوں اور خفیہ ایجنٹس کے دستوں کو چاہے وہ سویلینز ہوںیا ملٹری مین اُنہیں بھی ’وارننگ‘ دے کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ نہ کریں صدر اشرف غنی کی پالیسیاں سمجھ میں نہیں آتیں کہ وہ کیا واقعی اپنے ملک کے عوام کو امن دینے میں مخلص ہیں اگر وہ مخلص ہیں تو بھارتی علاقائی عزائم کی عیاریاں اور مکاریاں اُن کی سمجھ میں کیوں نہیں آتیں افغانستان کا پہلا ہمسایہ ملک بھارت نہیں ہے پاکستان ہے، پاکستان اور افغانستان دوایسے ہمسائے ملک ہیں جن کی سرحدیں آپس میں بہت گہری پیوست ہیں، جبکہ بھارت پاکستان اور چین کا پڑوسی ملک ہے اور کون انکار کرئے گا کہ چین اور پاکستان کے ساتھ بھارت کے کئی دیرینہ سنگین سرحدی تنازع تاحال حل طلب چلے آرہے ہیں گزشتہ 71 برسوں سے بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری ہوئی ہیں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین سنگین جنگیں ہوچکی ہیں لہٰذا افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کو سنجیدگی سے سیاسی وسفارتی فہم وادراک سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا لیا چاہیئے کہ بھارت کے حکام کے دلوں میں افغانستان کے عوام کی فلاح وبہبود یا اُن کے امن وامان کا کوئی کارِخیر کا جذبہ موجزن نہیں ہے بلکہ نئی دہلی تو پاکستان کا دشمن ہے ،مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے پریشر اور سفارتی دباؤ کو قابومیں رکھنے کی بد نیتی کی بناء پر وہ افغانستان میں امریکی چھاؤں میں دبکا ہوا ہے، تحریکِ طالبان افغانستان یا کسی اور ہتھیار بند غیر ریاستی گروہوں سے ریاستِ پاکستا ن کوئی واسطہ نہیں بھارتی پروپیگنڈا دنیا کا گمراہ کرنے کی نیت سے وقتاً فوقتاً کل بھی یونہی پھیلایا جاتا رہا آج بھی بھارتی تشہیری مہمات کی یہی بدنیتی ہے، لہذاء دنیا میں غیر جانبدار غیر متعصب طاقتور حلقوں تک پاکستان کا یہ پیغام پہنچنا چاہیئے اب تو اور بھی بہت سے چھپے پہلو بھارتی مفادات سے متعلق دنیا پر کھلتے جارہے ہونگے مطلب یہ کہ بھارت کا ’تذویراتی کلچر‘ماضی میں تھا نہ آج ہے نہ مستقبل میں کبھی بھارتی تزویراتی کلچر‘ وجود پذیر ہوگا ، یہ طے فلسفہ ہے اب نئی دہلی میں بیٹھے ہوئے ’سفید بالوں والے ‘جتنی جھکیں مارسکتے ہیں جتنے دور کی کوڑیاں لاسکتے ہیں لے آئیں، افغانستان سے بھارت کے ہاتھ سوائے رسوائی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، جو امریکا کو بھگتنا پڑے گا وہ ہی بھارت کو‘ پاکستانی عوام کو سب پتہ ہے بھارتی بزرجمہروں نے دیش ہی میں نہیں بلکہ بیرونِ ملک میں بھی ’عالمی لفافہ میڈیا‘ پر حرام کی دولت کی ریل پیل کردی ہے خود اپنے ہی کروڑوں بھوکے ننگے اور افلاس زدہ عوام کی فلاح پر خرچ ہونے والی بے تحاشا رقوم اپنی جھوٹی انّاؤں پر لٹانا شروع کی ہوئی ہے، پاکستانی فوج ‘آئی ایس آئی اور دیگر سیکورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی نازیبا مہمات میں بھارتی میڈیا نے اصولی پریس کے ضابطوں اور معروف ضوابط کے تابوت نکالنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی یہاں آخر میں ملکی میڈیا سے ملتمس ہونگے یقیناًوہ پہلے بھی ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے بنیادی فکری بالادستی پر یقین رکھتے ہیں تو ایسے میں اُنہیں بخوبی علم ہوگا کہ 4 ستمبر کو روس کے دارلحکومت ماسکو میں ایک نہایت اہم علاقائی کانفرنس کاانعقاد ہورہا ہے دنیا کے اہم ممالک اِس کانفرنس میں شرکت کریں گے، افغانستان کے امن کے قیام کی بحالی کے اقدامات اُٹھانے کے بارے میں فیصلہ سازی کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا چونکہ کانفرنس میں ’حقیقی طالبان نمائندوں‘ کی شرکت ہورہی ہے حیرانی ہے کہ افغانستان نے اِس بارے میں مثبت رویہ اپنانے سے گریزکیوں کیا ہے ؟یہ بھارتی شرارتیں بڑی تباہ کن اور خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں بھارت کو علم ہے یا نہیں مگر جان بوجھ کر انجان بننے کی ناکام کوشش ضرورکررہا ہے افغانستان کو امن کی کتنی اشد ضرورت ہے ہر پاکستانی کا یہی خواب ہے یہی آرزو اور تمنا ہے امریکا نے آخری وقتوں میں افغانستان کوایک ایسی خوفناک تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ کسی شاید ہی سوجھائی دے داعش ایک نیا فتنہ ایک نئی تباہی افغانستان کو اب اپنی بقاء اور تحفظ کیلئے پاکستان کی افواج کی مانند اپنے ہاں دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے نئے عفریت کی بیخ کنی کرنی پڑے گی یہی صورت ہے ایک محفوظ اور پُرامن افغانستان کی بقاء کیلئے‘ اب بھی وقت ہے کہ افغان قیادت ماسکو کانفرنس کے ثمرات سے فائدہ اُٹھانے کی جانب اپنے قدم بڑھائے۔