- الإعلانات -

موجودہ حکومت کی شروعات

موجودہ حکومت برسراقتدار ہو کر ابھی اپنا آغاز کر رہی ہے ۔25جولائی کے انتخابات میں پاکستانی قوم نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا اور ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھنے کو ملا ۔عوام کی ایک بھاری اکثریت نے پاکستان تحریک انصاف پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا ۔رائے عامہ کے اندازوں کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ۔تمام سیاسی جماعتوں نے بالعموم اور تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نے بالخصوص ایک منظم اور بھرپور انداز میں حصہ لیا ۔حکمران جماعت کے مطابق سابقہ طرز حکومت نے پاکستان کو بے پناہ مسائل ،خراب معاشی صورت حال اور کرپشن سے دوچار کیا ۔اس تمام پس منظر اور موجودہ حکومت کی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو امید کی آخری کرن کے طور پر موجودہ حکومت سے بے شمار امیدیں وابستہ ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کا پیمانہ صبر اتنا لبریز ہو چکا ہے کہ وہ حکومت کو ان بے شمار مسائل پر قابو پانے کیلئے زیادہ وقت دینے کو بھی تیار نہیں ۔لہٰذا حکومت کو ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ماضی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جب بھی کوئی نیا حکمران آتا رہا ہے تو وہ ابتدا میں تو بڑی پیغمبرانہ باتیں کرتا ہے کہ ہم یوں کر دیں گے ، ہم یہ تبدیل کر دیں گے ،جھوٹی جمہوریت کی جگہ سچی جمہوریت لائیں گے ،لوگوں کو لکھائیں پڑھائیں گے ،انہیں دنیا میں عزت سے جینا سکھائیں گے ،انصاف کا بول بالا ہو گا لیکن تھوڑے عرصے بعد آہستہ آہستہ اسی رنگ میں رنگا جانے لگتا ہے یعنی ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔دیکھنا یہی ہے کہ آخر کیوں اگر سیاسی جماعت نے عوامی طرز سیاست اپنانے کی کوشش کی تو اسے کچھ عرصے بعد ہی منہ کی کھانی پڑی اور زیادہ مزاحمت نہ کر سکی اور واپس اس راستے پر چل پڑی جسے چھوڑ کر نئی راہ چنی تھی ۔دراصل ہمارا طرز پیداوار زرعی اور سماجی ڈھانچہ بدستور جاگیر دارانہ ہے اور پاکستان میں جمہوریت شخصی اقتدار کے دائرے سے باہر نہیں آسکی۔کانگرس نے آزادی کے فوراً بعد پہلا کام یہ کیا کہ ایک ایک کر کے ہر صوبے سے جاگیرداری نظام ختم کر دیا ۔پاکستان اور بھارت کے سیاسی کلچر میں جو نمایاں فرق نظر آتا ہے اس کی وجہ دونوں ملکوں کے سماجی ڈھانچے سے ہے ۔مہاتما گاندھی نے کانگرس کی سیاست کی لگام اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد زیادہ توجہ ثقافتی تبدیلی لانے یعنی عوام میں بیداری پیدا کر کے ان کے رویے تبدیل کرنے پر مرکوز کی ۔بدیسی مال کا بائیکاٹ اور دیسی مال کے استعمال پر زور دیا ۔سماج کے نچلے طبقے کا فرد جو پہن سکتا ہے خود وہ لباس اپنایا اور دوسروں سے کہا کہ گھریلو کھڈی کے بنے ہوئے کپڑے پہنو ۔چنانچہ کانگرس کے کارکنوں نے کھدر کے کپڑے پہننے شروع کر دیے ۔معمولی کارکن سے لیکر بڑے سے بڑے لیڈر نے ایک ہی لباس اپنایا ۔کھدر کے کپڑوں کیلئے سوت کاتنے کی تلقین کی اس کیلئے خود چرخہ چلانا شروع کیا ۔مسلم پریس کو گاندھی کا ٹھٹھہ اڑانے کیلئے ایک موضوع مل گیا ۔گاندھی جن کا چرخہ اور لنگوٹی وغیرہ کو مسلمانوں نے مذاق سے زیادہ اہمیت نہ دی مگر یہ کبھی نہ سوچا کہ یہ سب کتنی بڑی تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں ۔ چنانچہ آزادی کے وقت بھارت کے عام آدمی کو بدیشی مال سے نفرت کا سبق پڑھانا نہیں پڑا ۔وہاں عام رجحان باہر سے مال منگوانے کی بجائے اپنی مصنوعات استعمال کرنے کی طرف تھا ۔

بہر حال نئی حکومت کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے تاکہ عوام کو مزید مایوسیوں اور غیر یقینی حالت سے بچایا جا سکے۔حکومت کو چند اقدامات کر نے کی فوری ضرورت ہے ۔موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں اہم حکومتی ترجیحات اور اقدامات کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لیا جائے ۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر قومی سیکورٹی پالیسی مرتب کی جائے تا کہ قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح لائحہ عمل دیا جا سکے ۔ توانائی کے بحران کو حل کرنے کیلئے مجوزہ پالیسی کا اعلان کیا جائے تا کہ عوام کو اس اہم ترین مسئلے کے حل کیلئے کئے جانے والے فوری اور طویل مدتی اقدامات کے بارے میں معلوم ہو سکے۔انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے عدلیہ کے ساتھ مشاورت کے بعد فوری اور ہمہ وقت اقدامات کئے جائیں ۔شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے نیب اور ایف آئی جیسے اداروں میں اہل افسران تعینات کئے جائیں اور ان اداروں کے بامقصد استعمال سے معاشرے سے بد عنوانی کی لعنت کا خاتمہ کیا جا سکے ۔خارجی مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی حالات کے تقابل میں ملکی مفادات کے عین مطابق موثراوردور رس خارجہ پالیسی کے اہداف کا چناؤ کرتے ہوئے ان کے حصول کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ابتر معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے متعین اہداف کو حاصل کرنے کیلئے جامعہ اقدامات کئے جائیں تا کہ نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو سکے بلکہ معیشت بھی پٹری پر آسکے۔وزیر اعظم عمران خان کو معیشت کی بہتری کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے ۔ان اقدامات اور فیصلوں سے واضح ہو جائے گا کہ وہ ملک کی معیشت کو نئے راستے پر ڈالتے ہیں یا پھر روائتی راستے کا انتخاب کرتے ہیں ۔ان کے معاشی فیصلوں اور پالیسیوں سے ہی یہ واضح ہو گا کہ ہمیں پرانے پاکستان میں ہی گزارا کرنا پڑے گا یا پھر نیا پاکستان وجود میں آئے گا ۔عمران خان اور تحریک انصاف پاکستان کے تمام مسائل جو کہ انتظامی ،معاشی اور سماجی نوعیت کے ہیں ان کو محض بدعنوانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ملک میں جاری معاشی و سماجی استحصال کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ پاکستان کے محنت کشوں اور کسانوں کو زبردست استحصال کا سامنا ہے ۔عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ملک سے استحصال اور جبر پر مبنی انتظامی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہو گا ،اس میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی ۔ہمارے روائتی ماہرین معیشت کی تمام تر توجہ صرف اعدادو شمار ہوتے ہیں ۔ان کی معاشی پالیسیوں اور منصوبوں کا محور ہمیشہ خوش کن اعدادوشمار ہی ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے محکوم اور استحصال زدہ محنت کش عوام کی حالت میں بہتری ان معاشی ماہرین کی توجہ کا مرکز نہیں بنتی ۔ہر نئی حکومت قوم کو یہ بتاتی ہے کہ خزانہ خالی ہے ، معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ،معاشی صورت حال کو بہتر بنانے اور اعشاریے ٹھیک کرنے کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے مگر معاشی اعشاریوں کی درستگی میں ہی 5سال گزر جاتے ہیں ۔ مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی نوید سنائی جاتی ہے ، برآمدات میں اضافے کے دعوے کئے جاتے ہیں ۔درآمدات میں بے تحاشا اضافے کو معاشی ترقی میں تیزی کی علامت قرار دیا جاتا ہے ۔پہلے قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے قرضے لئے جاتے ہیں اور پھر ساری معیشت کا دارومدار ہی قرض کے حصول پر ٹھہرا لیا جاتا ہے ۔نئی حکومت کو مخالف جماعتوں کی صوبائی حکومت کے ساتھ باہمی رابطے اور اخلاص پر مبنی تعلقات استوار کئے جائیں تا کہ تمامتر توانائیاں ملکی ترقی اور خوشحالی پر صرف ہو سکیں ۔ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے جہاں پر ہمارے لئے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ۔امید ہے کہ جناب عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت صورتحال کے عین مطابق فوری اقدامات کرے گی تا کہ عوام کیلئے بے پناہ اعتماد اور امیدوں پر پورا اترا جا سکے۔