- الإعلانات -

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری لانے کی ضرورت

adaria

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں امریکی محکمہ دفاع کے30کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کرنے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ نے امداد نہیں بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی وہ رقم روکی ہے جو پاکستان دہشت گردی کیخلاف خرچ کرچکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں کوشش ہوگی کہ باہمی عزت و احترام کا رشتہ قائم کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنائیں۔ پاک امریکہ تعلقات تقریباً معطل ہیں۔ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امداد دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر منسوخ کی گئی تاہم اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرلے اور دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کا پھر سے آغاز کرے تو امداد حاصل کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کیلئے روکی جانے والی اب تک کی امداد میں کٹوتی کی مجموعی مالیت 800 ملین ڈالرز ہو گئی ہے۔وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ باہمی دلچسپی کے مفادات کو سامنے رکھ کر امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے،5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان کے دورےپر آ رہے ہیں، امریکا کا نقطہ نظر سنیں گے اور اپنا موقف پیش کریں گے۔ دہشت گردی کیخلاف پاکستان نے قربانیاں دیں، امریکا اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں ڈالر دے رہا تھا، یہ کوئی امداد نہیں وہ پیسہ ہے جو ہم نے خرچ کیا تھا۔وزیرِ خاجہ نے کہاکہ سابق حکومت میں امریکا کیساتھ گفت وشنید میں تعطل رہا، ہم امریکا کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مفادات کو سامنے رکھ کر تعلقات بڑھائیں گے۔خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کو جی ایچ کیو میں دی جانے والی بریفنگ ملکی مفاد میں ہے۔وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وزیرِاعظم اور امریکی وزیرِ خارجہ میں ٹیلیفون پر گفتگو کے حوالے سے ہم نے پسپائی اختیار نہیں کی، اپنے موقف پر قائم ہیں۔ امریکا نے پاکستان کی جانی اور مالی قربانیوں کا بدلہ طے شدہ فنڈ روک کر دیا۔ وزیر خارجہ نے بجا فرمایا ہمارے خیال میں امریکی امداد میں کمی دباؤ بڑھانے کیلئے کی جارہی ہے دراصل واشنگٹن چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف مزید موثر کارروائیاں کرے جبکہ پاکستان پہلے ہی کامیاب کارروائیاں کررہا ہے ، امریکہ کوپاکستان کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور امداد میں کمی اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، دہشت گردی دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور پاکستان کی دہشت گردی میں قربانیاں نہ صرف لائق تحسین ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ، جن کا دنیا اعتراف بھی کررہی ہے۔امریکہ کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ روکنا درست نہیں۔ پاکستان کو امریکی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے اور اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے، دہشت گردی کیخلاف دی جانے والی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔ پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف دی جانے والی امداد کی منسوخی سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت امریکی دباؤ سے با لاتر ہوکر اپنے موقف پر قائم رہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس طرح کے حربے استعمال کرنے سے گریز کرنا ہوگا اور پاکستان کی قربانیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں تعطل ختم ہونا چاہیے امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ،پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم ہوں لیکن امریکی رویہ تعلقات کو خوشگوار بنانے میں رکاوٹ ہے اس طرح کی کارروائیاں اور حربے درست نہیں ہیں،پاک امریکہ بہترین تعلقات خطے کیلئے ضروری ہیں۔

شجرکاری مہم کا آغاز
ملک بھر میں پلانٹ فار پاکستان شجرکاری مہم کا آغاز ہوچکا ہے اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ہری پور میں پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک کو سرسبز و شاداب اور آلودگی سے پاک کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں 10بلین پودے لگائے جائیں گے، گرین پاکستان مہم کا حصہ بن کر آئندہ نسلوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جاسکتا ہے، یہ ہمارے آنے والی نسلوں کی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے، درخت نہ لگائے تو ملک ریگستان بن جائے گا۔ وزیراعظم نے ہری پور میں پودا لگا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا ہے اسکے ساتھ ہی ملک بھر میں شجرکاری کی مہم زوروشور سے جاری ہے،زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ماحول کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے اورماحولیاتی آلودگی سے چھٹکارا بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں درختوں کی آبیاری کی بجائے ان کو کاٹنے پر زور دیا ہے جس سے جنگلات کے جنگلات کٹ چکے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی بڑھنے لگی ہے ، وزیراعظم کا پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کا عز م اس امر کا عکاس ہے کہ وہ پاکستان کو سرسبز و شاداب بنا کر دم لیں گے۔ ہمیں بھی شجرکاری مہم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے اور وزیراعظم کی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ گلوبل وارمنگ میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے، ملک کو بچانے کیلئے شجر کاری مہم چلا رہے ہیں اور ہم نے 5 سال میں پورے پاکستان کوسرسبزکر دینا ہے۔پورے ملک میں 10 ارب درخت اگانا ہے، شہروں، جنگلات اور خالی علاقوں میں شجرکاری مہم چلائیں گے، درخت لگانے سے بارشیں ہوں گی جب کہ اسکولوں کے نصاب تعلیم میں شجرکاری اور صفائی ستھرائی کے مضامین شامل کیے جائیں گے۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کفایت شعاری،بدعنوانی کا خاتمہ اور میرٹ کی بالادستی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حکومت کو کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے، بدعنوانی کوختم کیے بغیر ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔
لاپتہ افراد ، بازیابی کی یقینی دہانی
چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کی یقینی دہانی کرائی ہے۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچے جہاں عدالت کے باہر لاپتہ افراد کے ورثا نے احتجاج کیا ۔ چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو چیمبر میں بلاکر ان سے ملاقات کی اور گمشدہ افراد کے نام مسنگ پرسن کمیشن کو ارسال کردئیے۔اس موقع پر احتجاج کے لیے آنے والی خاتون نے اپنے لاپتہ بیٹے کے بارے میں چیف جسٹس کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا شوہر مختلف اداروں میں دھکے کھا کھا کر تھک گئے ہیں، خاتون اپنے بیٹے کے بارے میں بتاتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئیں۔خاتون سے ملاقات میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں، مسنگ پرسن کمیشن آپ کے بچے کو بازیاب کروائے گا، ہمیں بھی لاپتہ افراد اور ان کے گھروالوں کا احساس ہے، مسنگ پرسنز کمیشن میں اعلیٰ افسران موجود ہیں اور بہت جلد لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی ہوگی۔ چیف جسٹس ایک طرف انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں تو دوسری طرف عوامی حقوق کیلئے سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی انتہائی ضروری ہے ، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی دل جوئی کرتے ہوئے ان کو بازیابی کی یقین دہانی کرائی ہے ، امید کی جانی چاہیے کہ لاپتہ افراد جلد اپنے اہلخانہ کو مل پائیں گے۔ عدالت اس سلسلے میں جو احکامات صادر کررہی ہے ان کے دوررس نتائج برآمدہونگے۔