- الإعلانات -

وہ سترہ سنہرے دن۔۔۔!

asgher ali shad

کسے معلوم نہیں کہ 6ستمبر کے دن گیارہ بجے صدر پاکستان محمد ایوب خان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے انھیں جنگ سے آگاہ کیا اور اپنی ولولہ انگیز تقریر سے ان میں جذبہ شہادت اور ملک و قوم کا دفاع کرنے کا عزم سیسہ پلائی دیوار کی مانند مضبوط کر دیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے تمام سیاسی اختلافات کافور ہو گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایوب خان کی اپیل پر لبیک کہا اور باہمی اعتماد و تعاون کے راستے کشادہ ہونے لگے۔ اس دوران پوری قوم یک جان تھی اور معاشرے کا ہر طبقہ وفاع وطن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے بے چین۔ فوج میں جوانوں سے لے کر جرنیلوں تک سب ناقابل شکست جذبے سے سرشار تھے۔ بری، بحری اور ایئرفورس نے دفاع وطن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پاکستانی ٹینک دشمن کی صفیں روندتے گئے۔ افواج پاکستان جو بھارتی فوج کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے بھی کم تھیں، انھوں نے جذبہ جہاد، اعلی پیشہ ورانہ تربیت اور غیر معمولی مہارت کے بل بوتے پر دشمن کی پیش قدمی روک دی اور کھیم کرن ،سلیمانکی اور مونا با میں بھارت کے کئی اہم علاقے قبضے میں لے لئے۔ ہماری فوج عزم و یقین کی ایک ایسی دیوار ثابت ہوئی جس میں کہیں بھی شگاف نہیں ڈالا جا سکا۔

عوام الناس افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ شہروں اور قصبوں سے فوجی کافلے گزرتے، تو بچے ، جوان، بوڑھے اور خواتین ان پر گل پاشی کرتے اور ان کی راہوں میں آنکھیں بچھاتے۔ گھروں میں خواتین، فوجیوں کیلئے تحائف تیار کرتیں۔ خون دینے والے نوجوانوں کی قطاریں لگی رہتیں۔ عوام فوج پر جان چھڑک رہے تھے اور فوج اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے دشمنوں سے نبردآزما۔ شہریوں میں ڈسپلن قابل دید تھا۔ زندہ دلان لاہور کی تو بے خوفی کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمن طیاروں کے ساتھ پاکستانی ہوا بازوں کی لڑائی گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر دیکھتے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے۔ سیالکوٹ کے عوام نے بھی غیر معمولی زندہ دلی کا ثبوت دیا جبکہ دشمن کی جانب سے سیالکوٹ پر سترہ حملے ہوئے اوروہ چونڈہ میں تین سو سے زائد سنچورین ٹینک لے آیا جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے ہولناک جنگ لڑی گئی۔ 65 کے معرکے نے نئی شاعری اور نیا ادب تخلیق کیا جس میں پاکستانی قومیت اور اس کی اسلامی شناخت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔ نامور ادیبوں، شاعروں، افسانہ نگاروں اور دانشوروں نے افواج پاکستان کی جاں نثاری اور عوام کی عظمت کے گیت لکھے، نیز افسانوں، ڈراموں اور اثر آفریں مقالات کے ذریعے وطن پر قربان ہونے کا جذبہ ایک نئے شعور سے بیدار کیا۔ اس تخلیقی عمل میں ہر مکتب فکر کے اہل قلم اور شعراپیش پیش رہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستانی تاریخ کے تمام چھپے ہوئے اور عیاں ابواب کی دیگر مصنفین بھی تقلید کرتے ہوئے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

ماہرین نے کہا کہ جنگ ستمبر میں پاک فوج نے بھارت کے حکمرانوں اور پاک دشمنوں کے خواب جس طرح میدانِ جنگ کی خاک میں ملائے، اس کی پاداش میں بھارت سرکار نے اپنی فوج کے کئی بڑے افسروں کو سزائیں دیں اور عام لوگوں کا مورال بلند رکھنے کے لئے چند ایک میں بہادری کے جھوٹے سچے تمغے بھی تقسیم کیے۔ سزاں اور تمغوں کے اس سلسلے میں بھارتی حکمرانوں نے اپنی فطرت کے خصوصی اوصاف اور رسوائے زمانہ ذہنیت کا کھل کر مظاہرہ کیا۔ بھارتی دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے محض لاہور کے محاذ پر ہونے والے حملے کو ہی ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ واضح ہو کہ لاہور فرنٹ (قصور، بیدیاں، برکی، بھیسن اور مقبول پورہ سائفن) پر انڈین آرمی کی گیارہویں کور نے حملہ کیا تھا۔ اس بڑے حملے کا مرکز واہگہ، باٹا پور اور کچھ دور شمال میں بھینی کے مقام پر تھا۔ اس کور کا کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہر بخش سنگھ تھا۔ برکی، بیدیاں اور قصور پر اس کور کے جو حملے تھے، وہ لاہور کے دفاع کر رہے پاکستانی ڈویژن کو بکھیرنے اور لاہور اور قصور کے دفاعی دستوں کا رابطہ اور باہمی تعاون توڑنے کیلئے کیے گئے تھے۔ یعنی بھارتیوں کی کوشش یہ تھی کہ پاکستانی دستے لاہور کے بڑے دروازے یعنی باٹا پور اور بھینی پر اپنی دفاعی قوت کو مرکو ز نہ کر سکیں۔

اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس علاقے میں انڈین آرمی کے کور کمانڈر کے اے ڈی سی کیپٹن امریندر سنگھ(جو آجکل بھی بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی ہیں اور جو پٹیالہ کی ریاست کا مہا راجا بھی ہے، نوجوت سنگھ سدھو بھی بھارتی پنجاب کی صوبائی کابینہ میں وزیر ہیں)نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کے انڈین آرمی چیف جنرل جے این چوہدری نے کور کمارنڈر کو حکم دیا تھا کہ قصور کھیم کرن سیکٹر کی جانب سے پاک فوج کے بڑھتے ہوئے دبا کے پیشِ نظر بھارتی فوج کو جنگی حکمتِ عملی کے تحت دریائے بیاس تک پیچھے ہٹا لیا جائے بھلے ہی امرتسر شہر پر پاک فوج کا قبضہ ہو جائے اور پاک فوج کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے فیصلہ کن دفاعی لائن کے طور پر دریا ئے بیاس کو استعمال کیا جائے۔
امریندر سنگھ کے بقول اگر مقامی کمانڈر انڈین آرمی چیف کی بات مان لیتے تو یقینی طور پر امرتسر پاکستان کے قبضے میں چلا جاتا۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ لاہور سیکٹر میں انڈین آرمی کی پندرہویں انفنٹری ڈویژن کا کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرشاد باٹا پور سے اڑھائی میل شمال کی طرف بی آر بی سے ایک ہزار گز دور بھیسن کے قریب اپنے ٹیکٹیکل ہیڈ کوارٹر کی چار جیپیں جن میں اس کی اپنی جیپ بھی تھی، چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اور دوسرے ہی دن اس ڈویژن کی کمانڈ جنرل مہندر سنگھ کو دے دی گئی تھی۔ اطلاع کے مطابق نرنجن پرشاد جنگ کا نقشہ اور پلان بھی اپنی جیپ میں چھوڑ گیا تھا جس سے لاہور کے دفاع کے لئے پاک آرمی نے پورا فائدہ اٹھایا۔اس ناقابل فراموش معرکے کا یہ پہلو خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اگر پاکستان کے سبھی حلقے اس وقت قوم میں موجود اس سپرٹ کو محفوظ کر لیتے تو شاید پاکستانی قوم کی تاریخ پوری طرح بدل چکی ہوتی۔ بلاشبہ وہ سترہ سنہری دن پاک تاریخ کا ایسا روشن باب ہیں جن پر فخر کے کئی مینار تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور اسی جذبہ کو بروئے کار لا کر قوموں کی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
*****