- الإعلانات -

اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام وقت کا تقاضا

adaria

ملکی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے عوامل اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کی روک تھام کیلئے حکومت نے موجودہ قوانین میں موثر ترامیم کا فیصلہ کرتے ہوئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کیلئے پیر کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیرِ خزانہ، وزیرمملکت برائے داخلہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کامرس، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین وفاقی بورڈ آف ریونیو، ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر سیکرٹری کامرس اور ایف بی آر نے اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی ترسیلات کے نتیجے میں قومی معیشت کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے وزیر اعظم کو تفصیلی بریفننگ دی۔ قوانین میں ضروری ترامیم لانے کیلئے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں کسٹم، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندگان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی آئندہ ہفتے اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ملکی معیشت کو رقوم کی غیر قانونی ترسیل سے جتنا نقصان پہنچ رہا ہے اگر اس کی روک تھام کر لی جائے تو کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہنڈی کے کاروبارمیں روز افزوں اضافہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ماضی میں متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتے رہے جس سے ملکی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا رہا ہے۔حکومت نے اس گھناؤنے دھندے کی روک تھام کیلئے قوانین کو موثر بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے خوش آئند ہے۔ملک کو جس طرح کے مشکل حالات کا سامنا ہے ان سے نکلنے کیلئے عمران حکومت کو اتنے ہی کڑے اور مشکل فیصلے کرنا ہونگے ۔ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہے۔موجودہ تجارتی خسارہ 18ارب ڈالر سے تجاویز کرچکا ہے جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ محصولات کی وصولی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔20کروڑ آبادی والے ملک میں چند لاکھ افراد ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر اخراجات کم کرنے کہ جس کی شروعات ہو چکی ہیں ، براہ راست ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔حکومتوں کے اقدامات مخلصانہ اور ارادے مستحکم ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مثبت نتائج برآمد نہ ہوں۔حالیہ چند عشروں میں کئی ممالک مشکل فیصلے کر کے مشکل حالات سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ملکوں کو گرداب سے نکالنے میں سب سے بڑا کردار اس کی سیاسی قیادت کے پختہ عزم کا ہوتا ہے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ عمران خان اپنی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔تاہم یہاں ناقدین اور میڈیا بھی تحمل کا مظاہرہ کرے۔حکومت کو اپنے قدم جمانے دے تاکہ وہ برسوں کے گند کو صاف کرنے پر یکسوئی کے ساتھ توجہ دے۔اگر یوں نان ایشو کو پروپیگنڈا کے زور پر قومی ایشو بنایا جاتا رہا جیسے پچھلے ایک ہفتے کے دوران دیکھنے آیا ہے تو اس کے منفی اثرات ہی برآمد ہوں گے۔ہنڈی اور حوالہ پر قابو پانا نئی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔یہ غیر موثر قوانین کی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے سامنے بیرون ملک اربوں کے اثاثے منتقل کرنے کے سیکنڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے ادھر سے ادھر کرنے کا سکینڈل قوم کا منہ چڑاتے ہیں۔دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کا ایک کیس زیر سماعت ہے جس میں گزشتہ روز ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔دبئی میں پاکستانیوں کے 150ارب ڈالر یعنی 18300 ارب روپے کے خفیہ اثاثوں کا پتہ چلا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ دبئی میں جائیدادیں نہ ماننے والوں کیخلاف بے نامی قانون کے تحت کارروائی کا کہیں گے۔ عدالتی معاون شبرزیدی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ زیادہ رقم حوالے کے ذریعے باہر منتقل ہوئی،ایف بی آر نے 300 افراد کو بیرون ملک جائیدادوں پرنوٹس جاری کئے ہیں۔بغیر ٹیکس ادا کئے اور بغیر کسی ڈیکلریشن کے پاکستانیوں کے بیرون ممالک میں کھولے گئے اربوں روپے کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرونی ممالک میں بھجوائی گئی رقوم کی واپسی سے متعلق پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم اور جائیدادیں باہر پڑی ہیں، اس معاملے میں ہونے والی پیشرفت بہت سست ہے۔ہنڈی حوالہ کے ذریعے رقوم کی ترسیل دراصل ملکی معیشت پر ڈاکہ ہے اس کی روک تھام وقت کا تقاضا ہے۔حکومت نے اس سلسلے میں جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اس پر ڈٹی رہے۔آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور ادارے ڈرتے رہیں گے کہ ان کے پیچھے بااثر شخصیات ہیں۔قانون کے آگے کوئی بااثر نہیں ہوتا یہی گڈ ورننس کا بنیادی نکتہ ہے جس سے پہلو تہی کرنے پر ماضی کی حکومتیں خمیازہ بھگت چکی ہیں۔

اسلحہ کی خطرناک دوڑ۔۔۔بھارت ہوش کے ناخن لے
ایک ایسا خطہ جو پہلے ہی بھارت کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے بھارت ہی کے گولہ بارود کے انبار لگا دینے کی وجہ سے جہنم بن سکتا ہے۔تازہ اطلاع ہے کہ اس نے بھاری دفاعی سازوسامان رکھنے کے باوجود 20 ارب ڈالر مالیت کے مزید 144لڑاکا طیاروں کی خریداری کا اعلان کیا ہے ۔طرفہ تماشہ یہ کہ چین اور پاکستان کی طرف سے لاحق بیک وقت جنگ کے مبینہ خطرے کو جواز بنایا گیا ہے۔ بھارت کو بھاری مالیت کے جدید ترین جنگی طیاروں کی فروخت کیلئے اس وقت تک سات بین الاقوامی کمپنیاں میدان میں ہیں جن میں ایف اے۔18، ایف ۔16، گرپن ای، مگ۔35، یوروفائٹر ٹائیفون اور رافیل طیارے بنانے والی امریکی، سویڈش، روسی اور دیگر ممالک کی کمپنیاں شامل ہیں۔دفاعی ماہرین اس مجوزہ خطرناک سودے کو تمام دفاعی معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں ۔اس معاہدے پر دستخطوں کے بعد تین سے پانچ سال کے اندر بھارت کو بیرون ملک تیار کئے گئے 18 لڑاکا طیارے مل جائیں گے جبکہ دیگر طیارے بھارت کے اندر ہی تیار کئے جائیں گے۔ بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت بھی 31 سکواڈرن موجود ہیں جن میں سے ہر ایک میں 18لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ بھارت یہ سب کچھ امریکہ کی شہ پر کر رہا ہے جو خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے خطرناک عزائم رکھتا ہے۔پاکستان اور چین کے بھارت کے حوالے سے کوئی منفی عزائم نہیں ہیں بلکہ یہ بھارت ہی ہے جو پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر محاذ گرم رکھتا ہے۔لائن آف کنٹرول پر آئے روز اشتعال انگیزی اس کا واضح ثبوت ہے جبکہ چین کے ساتھ بھی سرحدی کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔65 اور 71 کی جنگیں بھارتی جارحانہ عزائم کا شاخسانہ تھیں،ان جنگوں کے زخم ابھی تک ہرے ہیں جب بھارت اس طرح بھاری دفاعی سودے کرے گا تو اس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ لگ جائے گی اور کشیدگی کو ہوا ملے گی۔