- الإعلانات -

6 ستمبر۔عزت و شرف کی صدآفریں تاریخ

قومی عزت و شرف کی شاندار اور بے مثال تاریخ کے حامل بر صغیر کے مسلمانوں نے آج سے71 برس قبل جب اپنی آزادی کاسفر شروع کیا تھا تو اُس زمانے میں ناقابلِ تقسیمِ ہند کا خواب دیکھنے والی باطل قوتوں کے آلہِ کار شدید بد حواسی اور مایوسی کے عالم میں پاکستان کے عنقریب خاتمہ کا مذموم پر و پیگنڈا کرنے لگے ‘اُس موقع پر متعصب ہندو لکھاریوں اور اُن کے ہم خیال حواریوں نے بھی اپنی مسلم دشمنی پر مبنی زہریلی اور نفرت آمیز تحریروں کو پورے ہند میں عام کرنے کے لئے ایک منظم مہم کا آغاز کیا، اُن کی اِن تحریروں کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد عام قاری با آسانی اُن کی اِس تشہیری مہم کے جال میں آسکتا تھا جو اُس وقت کے ہندوؤں کے ذہنوں میں اِس خطے پر غلبہ کی خواہش کے ضمن میں اُن کے فکرو نظر میں پوری طرح رچ بس چکی تھی ،ہم یہاں خاص طور پر ڈاکٹر لالہ ہر دیال کے ایک کتابچے ’’میرے وچار ‘‘سے اُن اقتباسات کا حوالہ دینا چاہیں گے جس میں خصوصی طور پر افغانستان اور شمالی قبائلی علاقوں کو فتح کرنے اوروہاں کے باشندوں کو ہندو بنانے کے بارے میں دلائل دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ’ اگر پنجاب اور شمال مغربی سر حدی صوبہ کے مسلمان ’ ہندو اِزم ‘ اختیار کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو ہندوؤں کی آنے والی نسلوں کے لئے اُن کا وجود ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے ‘‘اِسی طرح ایک اور نامی گرامی متعصب ہندو قلمکار سردار سر دِل سنگھ بھی مسلمانوں کے علیحدہ وطن کا شدید مخالف تھا وہ بھی ’’دھرتی ماتا ‘‘کی تقسیم کے خلاف سر گرمِ عمل تھا اور ’’دھرتی ماتا ‘‘کا یہ ہَوا ہندوؤں نے پورے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا تھا اور اِسی طر ح پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اپنی سوانحِ عمری میں’’ متحدہ ہندوستان‘‘ کے علاوہ اُن اثرات کا بھی ذکر کیا ہے جو زہریلے بھارتی کلچر نے افغانستان سے شمالی وسطی ایشیائی ریاستوں ‘انڈو نیشیا اور انڈو چائنا پر ڈالے ہوئے تھے ،ہندوؤں کی اِس علاقے پر غلبے کی یہ خواہش پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 3 جون1947کے تقسیمِ ہند کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اپنا موقف اِن الفاظ میں پیش کیا تھا, جس سے ہندوؤں کی ا ندرونی خواہشات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اِس اجلاس میں اُن کے پہلے پالیسی بیان پر ذرا غور فرمائیے کہ ’’انڈیا کی جس تصویر کا ہم خواب دیکھتے رہے ہیں وہ ہمارے دِلوں اور ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ موجود رہے گی ،آل انڈیا کانگریس کمیٹی پورے وثوق سے اِس اعتماد کا اظہار کرتی ہے کہ جب جذبات کا تموّج ختم ہوجائے گا تو انڈیا کے مسائل پر نظرِ ثانی کی جائے گی اور اُنہیں اُن کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے گا اور یہ یقین رکھا جائے گا کہ تمام فریق ’’دوقومی نظریہ ‘‘کو مسترد کردیں گے3جون 1947 کی تجاویز سے انڈیا کے بعض علاقوں کا اُس سے الگ ہونے کا امکان ہے تاہم اِس پر تمام تر تاسف کے باوجود موجودہ حالات میںآل انڈیا کانگریس کمیٹی اِس امکان کو قبول کرتی ہے ‘‘یہ کانگریسی ذہن کی ابتدائی تصویر کا وہ بھیانک اور مکروہ چہرہ تھا جو تقسیمِ ہند کے طے شدہ فارمولے کو دِل سے قبول کرنے سے صاف انکار ی دیکھائی دئے رہا تھا ،کوئی مانے یا نہ مانے برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے اپنے عظیم قائد اپنے لیڈر بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی جراّت مندا ور بے لوث قیادت میں غیر مسلموں کی غلامی سے آزادی کی مسافت کا یہ سفر بالا آخر طے کر ہی لیا ،حصولِ پاکستان کی قومی آزادی کی یہ جنگ پوری قوم نے دیوانہ وار لڑی اور کامیابی نے خود آگے بڑھ کر اہلِ وطن کے قدم چومے اور بر صغیر کے مسلمان آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے، 14 اگست1947 کو ابھی اہل وطن اپنی آزادی کی اَٹھارویں سالگرہ کی تقریبات مناکر فارغ ہوئے تھے کہ 6؍ ستمبر1965کی شب کو ہمارے ازلی دشمن نے اپنے سوچے سمجھے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے پاکستان کی بین لا اقو امی سر حدوں کو عبور کرکے لاہور پر حملہ کردیااہلِ وطن نے اور خصوصاً زندہ دلانِ لاہور نے اپنی شیر دِل افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ جس بے جگری سے اِس موقع پر اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کیئے ‘ اُن کی جراّتوں ا ورشجاعتوں کی وہ داستانیں ہماری قومی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی عالمی تہذیب کی تاریخ کے حوالے سے ہمیں یہاں مشہور مغربی مفکر نائن بی کے اِس نظریہ سے مزید تقویت ملتی ہے جس میں وہ لکھتا ہے ’ ہر قوم کو اپنی بقاء کی خاطر مختلف طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو قوم اُن کا جواب دینے کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہو وہ ہی قوم زندہ رہتی ہے ورنہ نقشہِ عالم سے اپنا حوالہ گم کر بیٹھتی ہے ‘ جنوبی ایشیا ء میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں نے اپنی سیاسی ،اقتصادی اور تہذیبی وثقافتی بقاء کیلئے مسلم دشمن ’’براہمینت‘‘کے ساتھ مفاہمت کرنے سے صاف انکار کردیا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ تقسیمِ ہند کا عمل اُس کے لئے ایک چیلنج بن گیا ،لاکھوں مسلمان تہہ تیغ ہوئے ،جو بچ گئے اُن کے دِل بچھڑنے والوں کے غم میں کل بھی زخمی تھے آج بھی لہو لہو ہیں ،خون کی ندیاں بہہ گئیں ،مگر آفرین ہے اُس قوم کے اسلاف پراُس قوم کے ہر عہد کے جوانوں‘ بزرگوں اور بچوں اور خواتین پر جو سر اُٹھاکر چلنے کی رسم سے کسی صورت دست کش ہونے پر تیار نہیں ہوئی، یہ پہلا بڑا چیلنج تھا جس میں پاکستانی عوام اور پاکستانی افواج سر خرو ہوئیں تھیں براہمینت کے ساتھ مفاہمت سے کھلے انکار کے بعد 6 ستمبر1965کا کھلا بھارتی چیلنج اِس امر کا ایک مایوسانہ اعتراف تھا کہ وہ منٹوں میں لاہور فتح کرلیں گے اور پاکستانی افواج کو خبر بھی نہ ہوگی ؟اپنی متعصبانہ’’براہمینت‘‘ کی پوری عسکری قوت کے ساتھ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا ، طاقت کی بدمستی میں وہ بھول چکا تھا کہ سر زمینِ پاک کے جانباز عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ اپنے سروں پر کفن باندھ کر میدانِ کار زار میں اتر سکتے ہیں، جن کے دِل ایمان کی روشنی سے منور جو شوقِ شہادت سے ہمہ وقت لبریز رہتے ہیں اُنہیں اپنے اِسلاف کی جراّت و شجاعت کی دلیرانہ روایات ابھی تک یاد ہونگی کیوں نہیں اُنہیں بخوبی یاد ہیں ، قومی زندگی میں اہلِ وطن کے فکرو عمل کی یہ والہانہ جذباتی یکسانیت جنگِ ستمبر کا ایسا امتیاز ہے، جس نے ہمارے نظریاتی دشمن کے ہر اُس شبہ ،غلط فہمی اور زعم کی مٹی پلید کردی جو ہمارے قومی وجود کو ختم کردینے سے متعلق اُسے لاحق تھا1965 کی جنگِ ستمبر کے شب وروز نے اہلِ وطن میں اور افواجِ پاکستان میں جس باہمی محبت و عقیدت اور اپنائیت کالمس بھردیا تھا اور زندگی کے ہر شعبے میں ہر مکتبہِ فکر کے مابین ایمانی وحدتِ فکر اور برادرانہ خلوصِ عمل کا جو منظر دنیا نے دیکھا تو دنیا یکدم حیرا ن وششدر سی رہ گئی تھی اُس وقت قوم مکمل یکسوئی اوریک نظری کا نمونہ بنی ’اتحاد،تنظیم اور یقینِ محکم‘ کے اصولوں کو حزرِ جاں بنائے پُرعزم تھی، اپنے وطن کی آن شان اور تحفظ کے لئے ہر قسم کے قربانی دینے کے لئے تیار تھی جیسے آج نئے جمہوری عہد میں دنیا 2018 جولائی کے عام انتخابات میں ایک نئی سیاسی جماعت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا کرپشن زدہ جمہوری سسٹم کو قبول کرنے سے انکار کردیا نام نہاد مذہبی سیاسی جماعتوں کو قبول نہ کیا پر اپنے روشن خیال جمہوری عمل کو بروئےِ کار لاکر ثابت کر دیا کہ لاکھ دشمن ہماری سرخروئی سے حسد کھائے قوم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے ترقیِ یافتہ ممالک کے صف میں شامل کرنا ہے اب قوم کا یہی پختہ عزم ہے ۔

*****